آنچلرضوانہ تبسم درانیشاعریلکھاری

ہم سفر ،ہم قدم (یومِ خواتین کے حوالے سے ) ۔۔ رضوانہ تبسم درانی

یہ دھرتی امن کی دھرتی ہے
مُحبت اور اخوت کے یہاں پر پھول کِھلتے ہیں
جہاں اِحساس ہوتاہے
تحفظ اور راحت کا
یہ سچ تو ہے مگر پھر بھی
ہے دل میں کرب سا پِنہاں
یہ دُکھ ہے نارسائی کا
عجب احساس جو من کو
بہت تکلیف دیتا ہے
سنو تب پھر اچانک سے
یہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
بتاؤ رازداں میرے
بتاؤ ہمسفر میرے
تمہارے گھر کی رونق ہیں
وفاو عزم وہمت کی
نِرالی داستاں ہیں یہ
کبھی دھیمےسے لہجے میں
جو تم سے بات کرتی ہے
تُمہاری بہن، بیٹی ہے
تمہاری ماؤں جیسی ہے
کبھی سوچا ہے تم نے یہ
تم اپنی سرد مِہری سے
نگہ کی برچھیوں سے بھی
محبت سے منور دل
پہ جب تم وار کرتے ہو
یہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
کبھی سوچا ہے تم نے
کہ بن پوچھے کسی کی ڈال کا ہم نے
یہ جو اک پھول توڑا ہے
یہی خوشبو کسی آنگن
ہی کو آباد رکھتی ہے
اگر تم من میں جھانکو تو
حسیں جیون تمہارا ہیں
جو بجتا ہے دِلوں میں اِک
سُریلا ساز بھی ہیں یہ
تمہاری آبرو ہیں یہ
کبھی سوچا ہے تم نے یہ
ہمیں جیون کی راہوں پر
تم اپنے ساتھ چلنے دو
ہمارے ہاتھ میں دے کر
تم اپنا ہاتھ تو دیکھو
مُحافظ تم ہمارے ہو
ہمارے سائباں تم ہو
خدارا برتری کی ضد میں
اِن کلیوں کو مت مَسلو
تمہارے گھر کا پُر رونق سا
اِک احساس اِن سے ہے
تمہاری رونقیں اِن سے
تمہاری شان اِن سے ہے
یہ مائیں سب کی مائیں ہیں
یہ بہنیں سب کی بہنیں ہیں
اِنہیں تحسین دینا ہے

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker