"ارے ارے چھوڑو یہ کیا کر رہے ہو؟ تقریباً چھ سال کے ایک میلے کچیلے سے کپڑوں میں ملبوس بچے کو اپنے پاؤں چھونے سے منع کرتے ہوئے مجھے ذرا سا پیچھے ہٹنا پڑا۔
” بابو جی میری مدد کر دو ناں! آپ کو خدا رسول کا واسطہ” اس نے روتے ہوئے دوبارہ میرے پاؤں پکڑ لیے۔
وہ زرد سا اترا ہوا معصوم چہرہ جس کے میلے میلے گالوں پر مسلسل آنسو بہنے کی وجہ سے آنکھوں سے ٹھوڑی تک نہر رواں کی مانند دونوں اطراف سے ایک راستہ سا بن چکا تھا۔ شاید کئی دنوں سے اس نے منہ بھی نہیں دھویا تھا۔ نجانے کیوں اس نحیف و نزار بچے کو دیکھ کر میرا دل پسیج گیا۔
"اچھا اچھا ٹھیک ہے بتاؤ کیا مدد کروں” میں نے اسے اپنے پاؤں میں سے اٹھاتے ہوئے کہا تو اس نے میری انگلی پکڑی اور آبادی سے کافی دور مٹی کے ایک چھوٹے سے ڈھیر پہ لے آیا اور میری طرف دیکھ کے کہا
"بابو جی یہ میری اماں کا گھر ہے۔
پہلے بھوک لگتی تھی تو اماں رونے سے پہلے ہی روٹی لا دیتی تھی۔
اب پتا نہیں انہیں کیا ہو گیا ہے بھوک سے روتا ہوں تو میرا رونا سن کر بھی اپنے گھر سے نہیں نکلتی ۔ روٹی نہیں دیتی اور چپ بھی نہیں کراتی۔ میری اماں کو جگا دو ناں۔ اسے کہو تیرا شبیرا بہت بھوکا ہے”
یہ کہتے ہوئے وہ معصوم مٹی کے چھوٹے سے ڈھیر سے لپٹ گیا اور اماں اماں پکار کر زاروقطار رونے لگا میں اس کی باتیں اور فریاد سن کے اندر سے لرز کر رہ گیا۔
بچے کو گھر لا کر نہلایا۔ نئے کپڑے پہنائے اور اپنے ہاتھ سے جی بھر کر کھانا کھلایا۔ پھر اسے نرم بستر میں سلا کر گاڑی نکالی اور سیدھا چھوٹے بھائی کے گھر موجود ماں کے پاس جا پہنچا۔
چھوٹے بچوں کی طرح ان کی گود میں سر رکھ دیا۔ ان کے لامتناہی احسانات اور بدلے میں اپنی بے اعتنائیاں یاد کر کے پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔
فیس بک کمینٹ

