صائمہ نورین بخاریکالملکھاری

کرونا میں لپٹی بہار ۔۔ صائمہ نورین بخاری

بہار دبے پاؤں آرہی تھی اور پپیہے کی پکار اس سریلے گیت میں سنائی دےرہی تھی ۔۔۔۔یاران چمن کچھ ز یادہ پرجوش نظر آرہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ملن کے گیت ۔۔۔جشن بہاراں میں سب گارہے تھے
سنو سجنا پپیہے نے کہا سب سے پکار کے
سنبھل جاؤ چمن والو کہ آئے دن بہار کے ۔۔
۔۔۔خوشبو بکھیرتی ہوئی ۔۔۔بارشوں کی مہک سمیٹتی ہوئی باد صبا۔۔۔۔۔فروری سے مارچ میں شامل فضا ہوئی ۔۔۔اور پپیہے کی پکار پھر سے سنائی دی مگر ۔سرخ گلابوں اور چٹکتے غنچوں میں ابھرنے والی اس آواز میں سوز کا الگ آہنگ تھا۔جیسے ۔۔۔درد اور خوف سے لبریز ۔۔نوحہ ہو ۔۔۔وہی خوف جو اس دنیا کو چھوڑ کر جانے کا الم ناک احساس لیے تمام موسموں میں انسان کے ساتھ ساتھ چلتا ہے ۔۔۔۔۔وطن میں آنے والی باد نو بہار کا رنگ بدلنے لگا۔۔۔۔گلشن کا کاروبار بند ہوگیا ۔۔۔۔۔خزاں کی اداسی ملکوں ملکوں ۔۔۔۔۔۔ وبا کی پھیلاؤ کی مانند پھیل گئی ۔۔۔اس بہار میں جو محفلیں سجنے والی تھیں وہ پرچھائیں بن گئیں ۔۔۔۔دنیا میں ”پین ڈیمک ” کا پردہ در پردہ سب انداز تباہی کھلتا چلتا گیا
۔۔ہمارے ترقی پذیر مردانہ اور زنانہ ڈبوں میں ابھی آٹھ مارچ تک جو ہاتھیوں اور قمریوں کی لڑائی کا شور و غوغا تھا۔۔۔۔۔وہ قرنطینوں میں بیماروں اور متوقع بیماروں کو محدود کرنے میں بدل گیا۔۔۔خدا ۔۔بھگوان اور یسوع کے گھروں کی ویرانی چیخ چیخ کر پکارنے لگی
نہ کر بندیا میری میری ۔۔۔۔نہ تیری نہ میری
چار دناں دا میلہ دنیا ۔۔۔فیر مٹی دی ڈھیری
مندر ڈھا دے ۔۔۔مسجد ڈھادے
ڈھا دے جو کچھ ڈھیندا
پر کسے دا دل نہ ڈھاویں
رب دلاں وچ رہندا۔۔۔۔۔۔۔
نذر ،نیاز ،چڑھاوے، دربار ، سب خالی کوچوں کا منظر پیش کرنے لگے ۔۔۔۔۔گویا بندہ وصاحب و محتاج و غنی قہار کے دربار میں کرونا کے وار سے ایک ہوئے ۔۔۔۔قدرت کی رٹ دائر ہوئی کہ وہ جب اپنی قہار صفت دکھلاتی ہے تو پھر زمین پر صرف زندگی اور موت کی جنگ نظر آتی ہے
۔۔۔بقا کی طرف بڑھتے قدم دعا اور دوا کو تلاش کرتے انسانیت کی سربلندی کے لیے کام کرتے ہیں ۔۔۔۔۔سب مذاہب دعاؤں کے طلب گار نظر آتے ہیں ۔۔۔۔
اور زندگی کی عقلیت اور عملیت پسندی اندھے عقائد کے بتوں کو پاش پاش کردیتی ہے ۔۔۔۔۔ویرانیاں اور تنہائیاں درد کو اس قدر بڑھادیتی ہیں کہ بقول عدم ۔۔۔۔۔۔
جی خوش ہوا ہے مسجدِ ویراں کو دیکھ کر
میری طرح خدا کا بھی خانہ خراب ہے
اور انسان قوانین قدرت کے ان اصولوں کو سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے جو بے وقوفانہ نعروں اور جذباتی عقائد سے پرے کی دنیا میں ملتے ہیں ۔۔۔اس وقت دنیا کی ان عظیم وباؤں کا ذکر کرنا مقصود نہیں ۔۔جو عذاب بن کر نازل ہوئیں اور آنے والی نسلوں کو اپنے علاج کی تلاش کا سبق دے کر غائب ہوگئیں۔۔۔
فطرت اسی طرح سکھلاتی ہے ۔جینے کے آداب ۔۔۔۔۔
۔اب یہ وبا بھی سمجھنے والوں کو غورو فکر کادرس دے گی ۔۔ڈسپلن اور احتیاط کے معنی سمجھائے گی ۔۔۔معاشیات کے ماہر مالتھیس کو یاد کریں جس نے صدیوں پہلے تلخ حقیقت نظریاتی طور پر بیان کردی تھی ۔۔کہ جب انسانی آبادی اس کے وسائل سے بڑھ جاتی ہے ۔۔۔توزائد آبادی قدرتی آفات اور وباؤں حادثات کی نذر ہوجاتی ہے ۔۔۔ماہر اخلاقیات و مذاہب اسے انسانی بداعمالیوں کا سبب قرار دیں گے۔۔۔اور گناہوں کی معافیاں مانگیں گے اور ماہر ارضیات و عمرانیات اسے بائیولوجیکل وار اور سازش قرار دے کر چین امریکہ اور روس ۔جنگ اور برطانیہ کی یورپی یونین سے ایگزٹ کے بعد ۔۔۔ایک معاشی ریچھ کی بدمستیوں کے خاتمے کا شاخسانہ قرار دیں گے
سائنس دان ہم جیسے تساہل پسندوں کی دعاؤں سے چیچک و طاعون و فلو جیسی خوف ناک وباؤں کا ماضی یاد رکھتے ہوئے علاج دریافت کرلیں گے
۔مگر یہ کرونا وبا ہمیں کیا سکھلائی گی ؟؟؟صرف ایپی ڈیمک او رپین ڈیمک کا فرق یا ہاتھ دھونے کا ڈھنگ لعاب دہن سے نوٹ گننے والوں ۔اور کاغذوں کو تھوک لگا لگا کر دستخط کرنے والوں کے لئے بے شک اس وبا میں بہت سبق چھپا ہے ۔۔سچ ہے جو آگاہ ہے وہ کرب میں ہے اور جو نہیں آگاہ ہونا چاہتا اس کے لیے لاکھ قرنطینہ بازیچہ اطفال سے کم نہیں ۔ہر اجتماعی جگہ پر ٹھنڈے مشروب کی گندی ریڑھی لگانے والوں ہجوم میں چھینک مار کر ناک رگرنے والوں بے وجہ کھنکار کر پیک مارنے والوں پیٹھ پیچھے چھرا گھونپنے کے بیش بہا عزائم لے کر پیار کی جپھی ڈالنے والوں ۔۔۔آستین میں سانپ ڈال کر ہاتھ ملانے کے کرتب دکھانے والوں کی گرمجوشی کے سامنے کرونا بے بس رہے گا ۔۔۔انشااللہ ۔۔ ۔۔۔کرونا سے ڈرونا کا نعرہ تین دفعہ لگائیے ۔۔اور اے اللہ ہمیں کرونا سے بچا کی سادہ اور آسان سی دعا پڑھ کر اپنے اوپر دم کیجییے کیوں کہ اس سے ز یادہ کا کام انہی سازشی ملکوں کا ہے جہاں سے اس کم بخت سائنس نے ترقی کی اور بیماریاں پھیلیں ماسک ذخیرہ کرنے والےمحب وطنوں سے درد مندانہ اپیل بے حس و پرجوش اور خوش فہم و کج ادا عوام کی انتہاؤں سے۔ ذرا سی بد احتیاطی تباہی بھی بن سکتی ہے
ہمیں دشمن نہ بن جائیں کہیں اپنے قرار کے
سنبھل جاؤ چمن والو۔۔۔کہ آئے دن بخار کے

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker