ادبلکھاریماہ طلعت زاہدی

”شاخ غزل۔۔۔۔۔آہ محبت غریق رحمت ہوئی “۔۔ صائمہ نورین بخاری

زندگی کے سبھی رستے محدود
موت کے لاکھ بہانے ۔۔۔۔افسوس
بات کرتے ہوئے جی ڈرتا ہے
نہیں پچھلے وہ زمانے افسوس۔۔ان اشعار کی خالق ۔۔شہر ملتان کی خوب صورت ترین شاعرہ۔۔۔اپنی ابدی آرام گاہ محو خواب ہوئیں ۔۔۔
۔۔روز ہی لوگ بچھڑ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔آہ مگر اک اپنا گذرا۔
ایک باوقار دھیمی سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے ماہ طلعت زاہدی کو گذشتہ سال جناب ڈاکٹر اسد ا ریب کے ساتھ جب ایک قومی بینک کے باہر دیکھا۔۔۔۔۔تو میں نے مسکرا کر کہا۔۔۔سر ۔۔۔گول باغ کا یہ بینک بزرگ ادیبوں اور شاعروں کا ٹی ہاؤ س بن سکتا تھا۔۔۔۔اگر کچھ مناسب نشست کا اہتمام ہوتا ۔۔۔اس پر ماہ طلعت بھی مسکرائیں ۔۔۔۔بینک میں مزید احباب ملنے پر جناب اسد اریب صاحب نے اپنے پسندیدہ دوہے سے گفتگو کا آغاز کیا۔۔۔جس میں ڈھائی اکشر پریم کی وضاحت آپ لازمی کرتے ہیں ۔۔تو مجھے ماہ طلعت صاحبہ کے زرد ہوتے ہوئے چہرے پر ضبط کے عجب رنگ نظر آئے اور ان کا یہ شعر مجھے یاد آگیا۔۔۔۔۔
چیخ تھی دل کی لے میں ڈھل کر
جیسے کوئی نغمہ گذرا۔۔۔
ان کی صحت جواب دیتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔وہ بے حد کمزور نظر آرہی تھیں ۔۔۔ اس سخت گرمی میں خود ڈرائیونگ کررہی تھیں ۔وہ نڈھال نظر آ رہی تھیں مگر انہوں نے بہت حوصلے سے ڈاکٹر صاحب کو گاڑی میں بیٹھنے کا کہا ۔اور مہارت سے گاڑی اس بے ہنگم رش میں نکال کر انہیں لے گئیں ۔۔۔جس میں ایمرسن کالج کی یادیں تھیں ۔پیاروں ۔۔۔بچھڑنے والوں ۔۔۔زمانے کی گرد میں کھو جانے والوں کی باتیں تھیں ۔۔۔مگر میرا ذہن ماہ طلعت زاہدی کی ”شاخ غزل “میں الجھا رہا ۔۔۔۔۔۔۔
ثمر بانو ہاشمی ، نوشابہ نرگس اور ماہ طلعت زاہدی یہ معتبرنام شعرو ادب کے حوالے ہیں سر زمین ملتان کے لیے۔۔۔۔۔شائستگی کا معیار ہیں ۔۔۔۔اور ماہ طلعت تو اپنی شخصیت کی کوملتا کی وجہ سے بھی منفرد تھیں ۔۔گلابی رنگت ستارہ آنکھیں شاعری کی الہامی صداقت لیے خوش رہنے کا جتن کرتی ہوئیں ۔۔۔۔ان کی کتابوں کے تحائف میری لائبریری میں مجھے ان کی یاد دلارہے ہیں ۔۔۔۔روپ ہزار۔۔۔کی نظمیں ۔۔۔۔شاخ غزل ۔۔۔کی غزلیں ۔۔۔۔ماہ نو میں چھپنے والے ان کے سفر نامے ۔۔۔۔اور دل آویز مسکراہٹ ۔۔۔۔۔
چند سال پہلے سردیوں میں ہونے والی ایک شادی کی تقریب میں ان سے ملاقات ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔اور میں نے گھر آکران کی یہ غزل بار بار پڑھی ۔۔۔۔
بکھر گئی ہوں لیکن اب بھی زندہ ہوں
موج ہنر ہوں زخم زخم پائندہ ہوں ۔۔
جھکی پلک سے چاہت کی دھارا نکلی
رسموں کے گرداب میں بھی زندہ ہوں
نام محبت ہے غم سے کیوں گھبراؤ ں
ہر تاریک افق پر میں تابندہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تقریب کے جگمگاتے ہوئے ماحول کو وہ بے دلی سے دیکھتی ہوئی بولیں ۔۔۔”۔۔اب سردیاں بھی ۔گرمیوں کی طرح تکلیف دہ ہوگئی ہیں ۔۔“۔”۔۔جی “میں نے تائید کی ۔۔۔۔بارش کرنیں ۔پرندے چہچہے پھول۔۔۔ان کی بڑی بڑی آنکھوں میں درد بن کر تیرتے ہوئے نظر آئے ۔۔۔بہت برسی ہیں ان کی آنکھیں مجھے یوں لگا۔۔۔۔دھیمے سے لہجے میں ادبی باتیں شروع ہوئیں ۔۔
صائمہ آپ مشاعروں میں نہیں جاتیں ۔۔انہوں نے پوچھا۔میں نے جوابا کہا ۔۔مجھے مشاعرے سننا اور وہ بھی گھر بیٹھ کر اچھا لگتا ہے ۔کبھی جاؤ ں بھی تو یوں لگتا ہے کہ اس سے بہتر تھا افسانہ لکھ لیتی “۔۔وہ مسکرائیں ۔۔ہاں نہ جانا ہی بہتر ہے ۔کیوں کہ اچھی تقریبات بہت کم ہوتی ہیں گروپنگ بڑھ چکی ہے ۔۔ہم سب ایک دوسرے سے خود کو برتر سمجھ کر ملتے ہیں منافقت بڑھ چکی ہے ۔پھر اپنا ایک شعر یاد کرتے ہوئے پڑھا
بہت سے رشتوں کی بنیاد مصلحت پر ہے
بہت سے راستوں کا سنگ میل دلدل ہے ۔
مگر انہوں نے اپنے رشتوں کی بنیاد شدید محبت پر رکھی ۔اپنا بہترین استاد۔۔۔بے مثال دوست۔۔۔اور شریک روز وشب اپنی شاعری کے انتساب میں ڈاکٹر اسد اریب کو قرار دیا
۔۔بقول جناب اسد اریب( بحوالہ زر گل ۔۔۔شاخ غزل صفحہ نمبر گیارہ )
”بے خیالی کے کسی ایک انجان لمحے میں اچانک ،ماہ طلعت نے جس نامعلوم منزل کی طرف قدم بڑھایا تھا۔کسے معلوم کہ عذاب جاں کا یہ سفر کہاں جاکر ختم ہو ۔۔۔۔زیتون کی شاخوں کی تلاش اور دیوار گریہ کو عبور کرنے میں اسے کیسے کیسے کوہ بے ستون کا سامنا تھا۔۔۔۔“بہرکیف
شاعری ایسا انعام خاص تھا جو انھیں جینے کا حوصلہ دیتا رہا اور زندہ رہنے کی ہمت دلاتا رہا۔۔۔۔اشعار کرب کو بیاں کرتے رہے
مرگیا کوئی کسی کی خاطر ۔۔
۔۔کوئی زندہ رہا چاہت بن کر
میں کہیں بھی رہوں وہ ساتھ رہے
کبھی چاہت کبھی وحشت بن کر۔
”انہوں نے مشاعرے کی نمائشی شاعرات کے برعکس نسائی متعلقات ۔جمال پیراہن ،زیبائش و زینت کو جان بوجھ کر اپنا موضوع خیال نہیں بنایا۔۔ماہ طلعت نے اپنی غزل کے ذریعے ادب و آگہی کے اس معیار کی ہر ممکن حفاظت کی ہے ۔

مٹی سے طوفان اٹھا تھا رنگوں کا
بھری بہار کا بادل ٹوٹ کے برسا تھا
اور آخر میں ان کی ایک دل گداز غزل کے اشعار قارئین کی نذر۔۔۔۔جو ان کی کتاب ”شاخ غزل “میں خشک گلابوں کی طرح محفوظ پڑے ہیں ۔۔۔۔۔۔اس کرونائی سال میں اٹھنے والی موت کی لہر کے نام اور ماہ طلعت زاہدی صاحبہ کے جنت مقیم ہونے کی دعاؤں کے ساتھ ۔۔۔۔
نہیں ہے غیر فطری موت کی خواہش
کہ سب کرتے ہیں تھک کر نیند کی خواہش
یہ کیا عالم ہے بے حس کردیا جس نے
نہ کل کا ہوش اور نہ آج کی خواہش
قفس سے چھٹ کے پنچھی ہیں مگن کتنے
یہی پرواز تو ہےروح کی خواہش
فریب رنگ وبو ہم پر کھلا مرکر
عبث تھی اس دل ناکام کی خواہش ۔۔
۔۔مرحومہ ماہ طلعت زاہدی کے شریک حیات استاد محترم ڈاکٹر اسد اریب ۔۔۔جن کے نام انھوں نے اپنی تمام تر شاعری کی ۔اور ان کے بھائی معروف شاعر وادیب جناب انور زاہدی صاحب سے دلی تعزیت۔۔۔ اللہ تعالی ان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker