سجاد جہانیہکالملکھاری

داروغۂ زباں ، شُودر (یعنی شوذب صاحب) : دیکھی سنی / سجاد جہانیہ

آخرت میں جیسے جہنم کے داروغے ہوں گے، جو گنہ گاروں کو پیشانیوں سے پکڑ پکڑ کر کھینچیں گے اور جہنم کا ایندھن بنائیں گے، ایسے ہی کچھ داروغے قدرت نے اس دنیا میں بھی مقرر کررکھے ہیں کہ جیسے ہی کوئی اوقات اور حیثیت سے باہر ہونے لگے تو اسے واپس جامے میں لے آئیں۔ کچھ داروغے یہ کام خودکش جیکٹوں اور لاٹھیوں سے لیتے ہیں جب کہ کچھ کی زبان ہی تیروتفنگ کا کام دیتی ہے۔ اول الذکرکا نشانہ جسم ہوتا ہے، ثانی الذکر کا روح۔
یہ جو اتوار گزری ہے، اب ذرا اس کا ماجرا سنئے۔ جی ہاں! یہی اتوار کہ جب ملک کے پانچویں بڑے شہر ملتان کے پانچ فیڈروں کی برقی رو پیہم سترہ گھنٹے تعطیل پر رہی اور درجۂ حرارت بھی اس روز پینتالیس تھا۔ خیر! اتوار کی شام دو جگہ مدعو تھا۔ایک تو پاکستان رائٹرز ونگ کے اجلاس میں، دوسرے ملتان لٹریری کلب اور قلم حروف دوست کے زیراہتمام ممتاز راشد کے ناول کی تقریبِ رونمائی میں۔ پاکستان رائٹرز ونگ والے صوبے بھر میں تقریبات کرتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں ننکانہ صاحب میں انہوں نے ایک شان دار ادبی تقریب کروائی جس میں نئے لکھنے والوں کے لئے تربیتی سیشن بھی تھے۔ امیر آباد پارک کے ساتھ جائے تقریب پہنچا تو مرزا یٰسین بیگ، قاری عبداللہ، رضیہ رحمان اور ان کے ساتھیوں نے بڑا پُرتپاک استقبال کیا۔ کوئی سیلفی بنارہا ہے، کوئی کتاب پیش کررہا ہے، کوئی آئندہ کسی تقریب میں آنے کا دعوت نامہ دے رہا ہے۔ ایسی قدر دانی اور ایسی عزت افزائی!…. نفسِ امارہ پھولنے لگا اور ہوا بھرنے سے ہلکا ہوکر اوپر کو اٹھتا تھا۔
سات بجے کے قریب وہاں سے نکل کر دوسری تقریب کے لئے ریڈیو پاکستان پہنچا جس کی تیسری منزل پر اکادمی ادبیات پاکستان کا نوزائیدہ ریجنل دفتر قائم ہے۔ کتاب کی رونمائی یہیں پر تھی۔ گراؤنڈ فلور کی لمبی راہداری عبور کرکے زینے کے دہانے پر پہنچا تو پنجابی کے معروف شاعر اور یونی ورسٹی کے استاد پروفیسر سجاد نعیم مل گئے۔ وہیں استادِ محترم ہاشم خان صاحب بھی تھے۔ سجاد نعیم جارہے تھے جب کہ ہاشم خان صاحب تین منزلوں کے زینے طے کرنے کو خاطر اور سانس جمع کر رہے تھے۔ دونوں ہی بڑے تپاک و التفات سے ملے۔ میں اور ہاشم خان صاحب دھیرے دھیرے سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ہاشم صاحب کو ریٹائر ہوئے کم و بیش دس برس ہونے کو ہیں، سو امجد اسلام امجد کی اس نظم کے مصداق
ہاں سنو دوستو!
جو بھی دنیا کہے،
اس کو پرکھے بنا، مان لینا نہیں
ساری دنیا یہ کہتی ہے
پربت پہ چڑھنے کی نسبت، اترنا بہت سہل ہے
کس طرح مان لیں…؟
تم نے دیکھا نہیں
سرفرازی کی دھن میں کوئی آدمی،
جب بلندی کے رستے پہ چلتا ہے تو
سانس تک ٹھیک کرنے کو رکتا نہیں،
اور اسی شخص کا،
عمر کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے
پاؤں اٹھتا نہیں۔
شاعروں، ادیبوں کی اکثریت کا یہی عالم ہے۔ اکادمی والو!… سنتے ہو تو ایک لفٹ لگوا دو ملتان کے دفتر میں وگرنہ دفتر کو یہاں سے تبدیل کرکے کہیں سطحِ زمین پر بنادو۔ بہرحال، راستے میں ہمیں اعظم خاکوانی ملے جو کسی جنازے کی وجہ سے جلدی واپس جارہے تھے۔ ہاشم خان صاحب باتیں کرتے سیڑھیاں چڑھتے رہے۔ اوپر پہنچ کر فرمایا ’’سجاد! تمہاری کمپنی میں پتہ ہی نہیں چلا سیڑھیوں کا‘‘۔ استاد کے منہ سے یہ لفظ سن کر نفس کے غبارے میں تھوڑی اور ہوا بھر گئی۔ آگے چل کر راؤ وحید اسد اور نعیم کاظمی نے ہاتھوں ہاتھ لیا، اسٹیج پر بٹھایا۔ پروفیسر نسیم شاہد، یاسمین خاکوانی، ڈاکٹر مختار ظفر نے اپنی تقاریر میں میرا خصوصی تذکرہ کیا۔ ایک تو ہال میں گرمی بہت تھی، پھر گرمئ تقاریر۔ حرارت سے یوں بھی اشیاء پھیلتی ہیں سو غبارہ اور پھول گیا۔ داروغہ کرسئ صدارت پر جلوہ افروز تھے، انہیں تبھی الہام ہوا کہ یہ شخص جامے سے باہر ہورہا ہے، اسے کینڈے میں واپس لانا ہے۔
میری باری آئی تو دورانِ تقریر ایک جملہ میں نے کہا کہ ’’ناول اپنے عصر کا نمائندہ ہوتا ہے‘‘۔ عصر کا ’’ص‘‘ میں بالفتح بول گیا۔ تبھی صدارت کی کرسی پر بیٹھے شوذب کاظمی نے شورش برپا کردی۔ عرض کیا کہ ’’حضور! میری مادری زبان نہیں، آپ تشریف لایئے گا تو خواہ پنجابی کیسے ہی تلفظ کے ساتھ بولئے میں معترض نہیں ہوں گا‘‘۔ وقتی طور پر ٹل گئے مگر پھر جواپنی صدارتی تقریر کو آئے تو ناول پر خیر سے ایک جملہ نہیں فرمایا، زبان کا تمام تر پھوہڑ پن مجھ فقیر پر آزما ڈالا۔ بولے ’’میں بھی کوئی دلی لکھنؤ سے نہیں ہوں، جھنگ کی پیداوار ہوں بس ماں کی قبر پر کھڑے ہوکر عہد کیا تھا کہ اے ماں! تیری زبان کا محافظ رہوں گا‘‘۔ میاں! درست ہے، اپنی ماں کی زبان کے محافظ ضرور بنئے مگر جن کی ماں کی زبان اردو نہیں، ان کے لئے داروغہ نہیں۔ شوذب کاظمی، مقررین میں سے واحد شخص تھے جن کو کتاب دی گئی تھی مگر مجال ہے کہ انہوں نے ناول کے حسن و قبح پر ایک حرف بھی کہا ہو۔ طعن و تشنیع و طنز کے زہر میں بجھے اپنے ترکش کے تمام تیر مجھ پر آزماڈالے۔ ایک آدھ بار من میں آئی کہ جواب دوں مگر پھر سوچا کہ وہ تو کام کے شورش ہیں، میں بھلا کیوں راؤ وحید اسد اور نعیم کاظمی کا پروگرام شورش زدہ کروں۔ سو زباں بریدہ بیٹھا رہا۔
انسان تمام عمر سیکھتا ہے اگر کوئی سکھانے والا ہو تو۔ ڈاکٹر اسد اریب اردو زبان و بیاں اور لہجہ و تلفظِ کلام میں سند کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کی کتاب ارشادالاریب زبان سکھانے کا مستند حوالہ شمار ہوتی ہے۔ میں اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب میرا کالم پڑھا کرتے ہیں۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ مجھ سے جملہ سازی میں یا کسی اصطلاح کو برتنے میں تکنیکی غلطی ہوگئی تو ڈاکٹر اسد اریب صاحب کا شفقت بھرا فون موصول ہوتا ہے۔ پہلے تعریف و شاباش، پھر بڑے ہی غیرمحسوس انداز میں غلطی کی نشان دہی۔ انسان نہ صرف سیکھتا ہے بلکہ ممنون بھی ہوتا ہے۔ مگر جب خودکو علم و فضل کی مسند پر بٹھاکر، دوسرے کو حقیرو بے علم گردانتے ہوئے نخوت بھرے انداز میں طنزیہ تصحیح پر ضد کی جائے تو سامنے والا بھی ضد میں آجاتا ہے کہ ’’میاں! تمہاری ماں کی زبان ہے، یہ میری کی تو نہیں۔ جاؤ، نہیں سیکھتا میں بلکہ میں اس کو مزید بگاڑ کر بولوں گا‘‘۔
یہی ردعمل میری اندرونی کیفیات کا تھا۔ شودر صاحب، معاف کیجئے گا زبان کی طرح قلم بھی پھسل گیا، شوذب صاحب کا کیا قصور، یہ سارا اہتمام تو دراصل قدرت نے میرے نفس کے پھولے ہوئے غبارے سے ہوا نکالنے کو کیا، کیوں کہ آخرت میں جیسے جہنم کے داروغہ ہوں گے، ایسے ہی کچھ داروغے قدرت نے دنیا میں مقرر کررکھے ہیں کہ جیسے ہی کوئی اوقات اور حیثیت سے باہر ہونے لگے، اسے واپس جامے میں لے آئیں۔
(بشکریہ:روزنامہ خبریں)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker