سجاد جہانیہسرائیکی وسیبکالملکھاری

ردالفساد اور پنجاب کے قبائلی علاقے : دیکھی سُنی / سجاد جہانیہ

جنوبی پنجاب کے صدر مقام، ملتان سے فقط پچاسی کلومیٹر کے فاصلے پر، شیر دریا سندھ کو پار کرکے ڈیرہ غازی خان کا شہر بستا ہے اور وہاں سے مزید چالیس پینتالیس کلومیٹر دور حضرت سخی سرور کے نامِ نامی سے منسوب قصبہ۔ یہاں کوہِ سلیمان کے سلسلہ کی بنیادیں شروع ہو جاتی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی کوہان نما پہاڑیاں جو آگے بڑھ کر کالے کالے مہیب پہاڑوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ سخی سرور کے مقام پر بجری بنانے کے بےشمار کرشر لگے ہیں جن کی دھول ہروقت فضا میں خوش خرامی پر آمادہ رہا کرتی ہے یہاں سے وہ سڑک گزرتی ہے جو پنجاب کو کوئٹہ سے ملانے والا شارٹ کٹ ہے۔ جونہی کوہِ سلیمان کے پہاڑ شروع ہوتے ہیں، ویسے ہی قبائلی علاقے کا آغاز ہو جاتا ہے۔ سخی سرور سے سات آٹھ کلومیٹر پرے کوئٹہ روڈ پر مٹھاون چیک پوسٹ ہے۔ یہاں آپ کو خاکی پتلون اور کالی بوشرٹوں والے پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی آخری جھلک نظر آئے گی۔ اس سے آگے کا علاقہ ہے تو پنجاب کا حصہ مگر پنجاب کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عملداری سے باہر۔ نہ ہی پنجاب اسمبلی کا منظور کردہ کوئی قانون یہاں لاگو ہوتا ہے۔ یہ ضلع ڈیرہ غازی خان کی تحصیل ٹرائبل ایریا کا علاقہ ہے جس کا صدر مقام فورٹ منرو ہے۔
مٹھاون چیک پوسٹ سے دوچار کلومیٹر آگے چل کر ایک چیک پوسٹ ”راکھی گاج“ نام کی آتی ہے۔ یہ بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) کی پہلی چیک پوسٹ ہے۔ خاکی شلوار قمیص کی وردی اور کمر سے ہوکر پیٹ کا احاطہ کرتی پیٹی والے یہ سب اہلکار مختلف تمن ہائے سے تعلق رکھتے ہیں اور سرداروں نے بھرتی کئے ہیں۔ اب ذرا ٹھہریئے اور تاریخ پر تھوڑی نظر دوڑا لیجئے۔ پنجاب کے دو اضلاع ایسے ہیں جن کا خاصا حصہ علاقہ ٹرائبل ایریا میں شامل ہے، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور۔ یہاں مختلف بلوچ قبائل آباد ہیں۔ 1880ء میں انگریز سرکار نے بلوچستان پر قبضہ کیا تو ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی علاقہ کو ٹرائبل ایریا قرار دے دیا۔ یہاں آباد ہر بڑے بلوچ قبیلے کو ”تُمن“ قرار دیا گیا اور قبیلے کے سردار کو ”تمن دار“ کہا گیا۔ ٹرائبل ایریا براہِ راست گورنر جنرل آف انڈیا کے ماتحت تھا جو ان تمن داروں کے ذریعے علاقے کے انتظامی معاملات چلاتا تھا۔ تمن داروں کے پاس مجسٹریٹ درجہ اوّل کے اختیارات ہوا کرتے تھے ۔ وہ ”فرنٹیئر کرائم ریگولیشن“ کے تحت دیوانی اور فوج داری مقدمات بھی سنا کرتے تھے۔ بڑے قبائل میں مزاری، دریشک، لغاری، کھوسہ، بزدار، لُنڈ، گورچانی اور کھیتران شامل ہیں۔ یہ تمن دار اپنے قبائلی جرگوں کے بھی سربراہ ہوتے۔
قیامِ پاکستان کے بعد تمن داروں سے مجسٹریٹ درجہ اوّل کے اختیارات واپس لے کر علاقہ میں تحصیل دار اور نائب تحصیل دار تعینات کردیئے گئے جو انتظامی، دیوانی اور فوج داری معاملات کو دیکھتے تھے مگر عملاً علاقہ میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ حقیقی حکمران یہی تمن دار رہے۔ جرگوں کی سربراہی بھی وہی کرتے اور فیصلے بھی حالانکہ قانون کے مطابق جرگے کی سربراہی کا اختیار اب نائب تحصیل دار کا تھا۔ یہ اقدامات غریب اور مظلوم بلوچوں کو سرداروں کے چنگل سے نکالنے کو اُٹھائے گئے مگر عملی طور پر کوئی بہتری نہ آ سکی۔ جنرل ایوب خان کے دور میں قبائلی علاقہ کے عوام کو پہلی بار حق رائے دہی (ووٹ) دیا گیا۔ ایوب خان نے بنیادی جمہوریتوں کا نظام متعارف کروایا تو قبائلی عوام کو بھی اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق دیا گیا مگر صدیوں سے چڑھا غلامی کا زنگ بھلا کچھ ایسا جلد اُتر جایا کرتا ہے! یہی تمن دار، یہی سردار، یہی گودے اُمیدوار تھے اور ”رعایا“ انہی کو ووٹ دینے پر مجبور۔
پھر جتنے بھی بلدیاتی نظام آئے، ان میں قبائلی عوام حقِ رائے دہی استعمال کرتے رہے۔ پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہوں یا قومی اسمبلی کے، یہاں سے ایم پی اے، ایم این اے بھی منتخب ہوتے ہیں مگر وہی تمن دار، سردار اور وڈیرے۔ اب دو اضلاع بن چکے، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور مگر یہاں سے منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی انہی قبائل کے سرداروں کے بیٹے، بھانجے، بھتیجے ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا۔ اس علاقہ کی بدحالی و پس ماندگی کی مثال یہ علاقہ خود ہے۔ صحت، تعلیم، امن و امان سبھی ناپید ہیں۔ سڑکوں کا نام نہیں اور غربت بال کھولے ان پہاڑوں پر سیاپا کرتی نظر آتی ہے۔ کوئی بیمار پڑ جائے تو غریب بلوچ مریض کو چارپائی پر ڈال کر دن بھر کا سفر کرکے سڑک تک پہنچتے ہیں۔ دہشت گردوں اور سمگلروں کی کچھاریں ان مصائب پر مستزاد ہیں۔نہیں، کچھار تو شیر کی ہوتی ہے، یہ تو بھیڑیئے ہیں۔
پنجاب کی انتظامی سرحدوں کے اندر آنے والے قبائلی علاقہ کا رقبہ گیارہ ہزار پانچ سو پینتیس مربع کلومیٹر ہے۔ اغوا برائے تاوان، ڈکیتی، قتل اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث عناصر کو یہاں بہترین پناہ گاہ میسر آتی ہے۔ کسی صوبے کی پولیس اس قبائلی علاقہ میں قدم نہیں رکھ سکتی۔ امن و امان کی ذمہ داری بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) کے پاس ہے۔ بی ایم پی کا عالم یہ ہے کہ ہر تمن کا کوٹہ ہے۔ تعلیم، تجربہ کی کوئی اہمیت نہیں، بی ایم پی میں بھرتی تمن دار کی پسند اور مرضی سے مشروط ہے۔ یوں یہ فورس سرداروں کی اور تمن داروں کی رکھیل ہے۔ ان کو تنخواہیں پنجاب سرکار کے خزانے سے ملتی ہیں مگر یہ نوکری اپنے سردار کی کرتے ہیں۔ جرائم پیشہ عناصر کے سر پر دستِ شفقت رکھنا سرداری کلچر کا لازمہ و خاصہ ہے، سو ”سیاں بھئے کوتوال، اب ڈر کا ہے کا“ ۔ علاقہ سردار کا‘ بی ایم پی سردار کی تو کون پکڑے رسہ گیر سردار کے آلہء کاروں کو۔ کتنے ہی گینگ ہیں جو اس قبائلی علاقہ سے پھلنے پھولنے کے بعد اُٹھے۔ یہ چھوٹو گینگ تو ابھی کل کی بات ہے، قوم کو یاد ہوگا….ماضی میں بھی یہی عالم تھا۔
آپریشن ردّالفساد کے تحت ان دنوں اس علاقے میں قانون کی کچھ عملداری نظر آئی۔ روزانہ ہی دہشت گرد جہنم واصل کئے جاتے رہے۔ گویا عام جرائم پیشہ کے علاوہ اب یہ قبائلی علاقے دہشت گردوں کی بھی جنت ہیں۔ آپریشن ردّالفساد کا عملی پہلو اپنی جگہ مگر مستقل انسداد کے لئے کچھ قانون سازی بھی ہونی چاہیے۔ ہماری حکومتوں نے تمن داروں کو بہت خوش کرلیا، اب عوام کی بہتری کو بھی کچھ قدم اُٹھانے چاہئیں۔ پنجاب کے قبائلی علاقے کو انگریز نے تمن داری سسٹم کے تحت اس لئے چلایا کہ وہ غاصب تھا اور اپنا غاصبانہ تسلط قائم رکھنے کےلئے اسے سرداروں کی شکل میں اپنے آلہء کار درکار تھے۔ اب تو آزاد ملک اور اس کی خود مختار حکومت ہے چنانچہ طریقِ حکومت تبدیل ہونا چاہیے۔
راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کا نام نہاد قبائلی علاقہ چار صوبوں کا سنگم ہے، بلوچستان، خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ۔ یہ سمگلنگ کا بھی محفوظ روٹ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے اور فوری ہے کہ قانون سازی کرکے اس علاقہ کو پنجاب کے سیٹلڈ ایریا میں شامل کیا جائے۔ بی ایم پی کو ختم کرکے یہاں پنجاب پولیس کی عملداری قائم کی جائے۔ جب یہاں کے عوام کو ووٹ کا حق حاصل ہے اور وہ اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں تو پھر ان کا شمار de-excluded (خارج کیا گیا) علاقہ میں کیوں ہو؟ صحت، تعلیم اور دیگر ترقیاتی مدات پر بجٹ پنجاب حکومت دے، وہاں سے منتخب ہونے والے عوامی نمائندوں کو نمائندگی اور تنخواہ پنجاب سرکار کے خزانے سے ملے اور امن و امان کی ذمہ دار بی ایم پی پنجاب سے تنخواہ لے کر نوکری سرداروں کی کرے، آخر کیوں؟ بی ایم پی کے ڈیرہ غازی خان میں 25 اور راجن پور میں 18 تھانے خالی کروا کے پنجاب پولیس کے حوالے کیوں نہ کئے جائیں جو پنجاب حکومت کو براہِ راست جواب دہ ہے؟ آپریشن ردّالفساد کے مثبت اثرات سے دیرپا استفادہ کےلئے ضروری ہے کہ ڈی جی خان اور راجن پور سے ملحق قبائلی علاقہ کو Settled ایریا قرار دیا جائے اور یہاں کا انتظام و انصرام اور امن و امان بھی صوبائی اداروں کے حوالے کیا جائے۔
(بشکریہ:روزنامہ خبریں)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker