سجاد جہانیہکالملکھاری

نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے دیہاڑی دار ملازم : دیکھی سنی / سجادجہانیہ

یہ امر تو طے ہے کہ ملتان ایک بے حد قدیم شہر ہے مگر کتنا؟ اس بارے کچھ بھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔ لوگ اسے ساڑھے پانچ سے سات ہزار برس تک قدیم بتاتے ہیں۔ کچھ اس سے بھی سِوا پر اصرار کرتے ہیں۔ بیش تر کا کہنا یہ ہے کہ اس شہر کی قدامت تلاشنے نکلو تو کھوج کی راہ گزر نامعلوم اور غیرتحریری تاریخ کی دھند میں کہیں کھو جاتی ہے۔ خیر! یہاں ہمیں ملتان کی قدامت پر بحث کرنامقصود نہیں۔ کہنا یہ ہے کہ کچھ ادارے ، کچھ عمارتیں ایسی ہوتی ہیں جو شہروں کا حوالہ بن جاتی ہیں۔ پرہلاد پوری مندر، حضرت بہاءالدین زکریاؒ اور شاہ رکن الدین عالم ملتانی کے مزارات تو ملتان کی قدیم پہچان ہیں مگر ماضی قریب میں جو ایک ادارہ ملتان کا حوالہ بنا وہ نشتر میڈیکل کالج و ہسپتال ہے۔ پاکستان بنا تو پنجاب میں صرف ایک ہی میڈیکل کالج تھا، 1860ء میں انگریز کاقائم کردہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، پھر 1948ء میں لاہور ہی میں ایک اور میڈیکل کالج فاطمہ جناح کے نام سے منسوب کرکے بنایاگیا۔ اس کے بعد تیسرا میڈیکل کالج یہی ملتان کا نشترمیڈیکل کالج و ہسپتال تھا۔ اٹھائیس اپریل 1951ء کوسردار عبدالرب نشتر گورنر پنجاب نے اس کا سنگ ِ بنیاد رکھاتھا۔ اسی برس یکم اکتوبر کو یہاں میڈیکل کی تعلیم کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
تب یہ شہر سے باہر، دور کہیں کھیتوں کے درمیان بنایا گیاتھا۔ پرانے لوگ بتاتے ہیں کہ کالج کے طلباءشام کے بعد شہر آتے ہوئے ڈرتے تھے۔ اب یہ گلابی رنگ کی طویل وعریض عمارت شہر کے اندر گنجان آبادی کاحصہ بن چکی ہے۔ سہ منزلہ عمارت، جس کی وسعت اور بھول بھلیوں میں انسان کھو کر رہ جاتا ہے۔ یہ نہ صرف ملتان بلکہ پورے جنوبی پنجاب اور اس سے بھی پرے، بلوچستان کے ملحقہ اضلاع کے مریضوں کی واحد پناہ گاہ ہے۔ پیہم چھیاسٹھ برس سے یہ خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ اب وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے بجاطور نشتر کو میڈیکل یونیورسٹی کا درجہ دے دیا ہے۔ چھیاسٹھ میں سے پانچ کا ہندسہ منہا کریں تو گویا ایم بی بی ایس کے اکسٹھ بیچ اس کالج سے نکل چکے ہیں جو دنیا بھر میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ خیر! آج کے کالم کامقصد نشتر میڈیکل یونیورسٹی اور ہسپتال کی تاریخ بتانا بھی نہیں۔
یہ سارے خیال تو اس نوجوان کی بوجھل باتیں سن کر میرے ذہن کی پٹڑی سے چھک چھک کرتے گزر گئے جو میز کی دوسری طرف بیٹھا اپنا دکھ سنا رہاتھا۔ صرف اپنا ہی نہیں، اپنے ڈیڑھ سو ساتھیوں کا بھی۔ ڈیڑھ سو لوگ اور ہر ایک سے بندھا ایک خاندان، اس خاندان کی ضروریات۔ کوئی الیکٹریشن ہے، کوئی اے سی مکینک، وارڈ بوائے، پلمبر یا راج مستری، کوئی جنریٹر آپریٹر ہے، کوئی ٹربائن مکینک ہے، بجلی کا لائن مین، سویپر اور سیورمین، یہ ڈیڑھ سو لوگ بنتے ہیں جو نشتر میڈیکل کالج اور ہسپتال کی عمارت، مشینری کو رواں دواں رکھے ہوئے ہیں۔ برسوں سے یہی کام کررہے ہیں، ان کو فی یوم کا معاوضہ ملتا ہے، جس روز سرکاری تعطیل ہو اس روز کا معاوضہ نہیں ملے گا۔ کہنے کو یہ سرکاری ادارے کے ملازم ہیں مگر کوئی بھی ان کا ذمہ لینے کوتیار نہیں۔
وہ بتا رہا تھا کہ اسے دس برس ہوگئے، ایک چھپا چھپایا معاہدہ فارم ہے ، اس پر 89دن کامعاہدہ کرکے وہ نشتر کاملازم ہوجاتا ہے۔ یہ دن گزر جاتے ہیں تو پھر ایک نیا فارم نکالا جاتا ہے اس کے مندرجات مگروہی پرانے ہوتے ہیں۔ یوں اگلے 89دن کے لئے وہ پھر سے ملازم ہوجاتا ہے۔ اب تنخواہ کا بھی سن لیجئے، پہلے مہینے میں جتنے دن کام کیا ہوتا ہے اس کا معاوضہ اکٹھا کرکے معاہدہ طے ہونے کے قریب ڈیڑھ ماہ بعد ملتاہے اور باقی دو مہینوں کامعاوضہ معاہدہ ختم ہونے تک نہیں ملتا۔ پھر جب نیا معاہدہ ہوچکتا ہے تو تھوڑا شورشرابہ کرنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں ان دو مہینوں کی رقم بھی مل جاتی ہے۔ اس نے بتایا کہ اپریل سے نیا کنٹریکٹ شروع ہوا ہے۔ آج 15مئی ہے مگر ہمیں اپریل کے پیسے نہیں ملے ابھی تک، باقی دو ماہ کے توخیر ملیں گے اگلے کنٹریکٹ کے بعد۔ دس سال سے یونہی چل رہاہے، کوئی زیادہ بات کرے ، احتجاج کا نام لے تو اسے اگلے کنٹریکٹ میں فارغ کردیاجاتا ہے۔
میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے کوئی احتجاج وغیرہ نہیں کیا؟ بولا، کیا تھا، ایک مدت سے منت کررہے ہیں کہ ہماری عمریں گزر گئیں ، اوورایج ہوگئے اور اب کسی دیگر سرکاری ملازمت کے لئے درخواست گزارنے کے قابل نہیں رہے۔ ہمیں مستقل کردیں، ہمیں بھی کوئی پنشن، گریجوایٹی کاحق مل جائے۔ یہ جوہر وقت جان سولی پر ٹنگی رہا کرتی ہے کہ اگلا کنٹریکٹ ملتا ہے یا نہیں، اس سے گلوخلاصی ہو۔ کسی نے کان نہیں دھرا۔ پھر ہم نے ریلی نکالی، پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا، خبریں بھی چھپیں مگر کسی کان پر جوں نے رینگ کر نہیں دیا۔ نشتر انتظامیہ کہتی ہے ہمارے پاس آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کرنے کے بعد نشتر کی چاردیواری سے باہر جو کرتے پھرو، ہم اس کے ذمہ دار نہیں۔ تم ہمارے ملازم ہی نہیں ہو تو مطالبات کیسے اور احتجاج کیسا؟
میں نے پوچھا”میرے لئے کیاحکم ہے“؟ بولا ”حکم نہیں درخواست ہے“۔ ”اچھا، درخواست ہی سہی، بتاﺅ“۔ وہ بولا ”ایک کالم لکھ دیں، ہماری آواز وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف تک پہنچا دیں ۔ آپ کالم لاہور میں بھی چھپتا ہے، اگر خادم اعلیٰ کی نظر سے گزر گیا تو ہمارا کیریئر بن جائے گا، بچوں کی روزی مستقل ہوجائے گی“۔ میں نے کہا ”کیا لکھوں، کیا مطالبہ ہے؟“ اس نے کہا ”بس ایک ہی درخواست ہے خادم اعلیٰ پنجاب سے کہ ہمیں ریگولر کردیں، نشتر والے تو سیٹیں مانگیں گے نہیں کبھی اور یونہی ڈنگ ٹپاﺅ پالیسی اپنائے رکھیں گے۔ محمد شہباز شریف صاحب اگر خود نوٹس لے کر ہمیں پکا کردیں تو جھولیاں بھر بھر کے دعائیں دیں گے ہم اور ہمارے بچے“۔ میں نے کہا ”اچھا، وہ دوسرا مطالبہ، وقت پر تنخواہ والا“، وہ فوراً بولا ”وہ نہ لکھئے گا، دیر سویر سے مل تو جاتی ہے، پہلے ہم یہ دونوں مطالبے ساتھ کرتے رہے ہیں تو ہمارا یہ وقت پر تنخواہ والا مطالبہ وقتی طور پر مان کے دوسرے کی طرف توجہ ہی نہ کی جاتی۔ اب بس ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے اور درخواست کہ ہمیں مستقل کردیں۔ ساری عمر نشتر کے نام ہوئی، اب ہمیں اس کا پکا ملازم کردیں“۔
لو بھئی میاں فلاں (تمہارا نام نہیں لکھ سکتا کہ تم نے وعدہ لیاتھا) تمہارا مطالبہ امید ہے خادم اعلیٰ پنجاب تک ان سطور کی وساطت پہنچ جائے گا۔ اگے تیرے بھاگ لچھئے۔
(بشکریہ:روزنامہ خبریں)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker