سجاد جہانیہکالمکتب نمالکھاری

شامِ سحر : دیکھی سنی / سجاد جہانیہ

پیہم تین راتوں سے یہ کتاب میرے بستر کے سرہانے دھری ہے۔ دوپہر کی اونگھ لینے کو بستر پر گیا یا رات کی نیند کو، شاکر حسین شاکر کی بھجوائی ہوئی یہ کتاب ”شام و سحر“ مطالعہ قبل از نوم کے طور پر تختہ¿ مشق رہی۔ مضمون لکھنے کی نیت لے کر اس کتاب کو بار بار پڑھنے کے باوصف مجھے وہ پہلا جملہ نہیں سوجھ سکا جس کی انگلی پکڑ کر سطر سطر چلتا، میں یہ مضمون مکمل کر سکوں۔ ایک عجیب بے دلی، اداسی اور دل برداشتگی کا ماحول ہے جو کتاب کے صفحہ نمبر انچاس سے صفحہ نمبر ایک سو اٹھانوے کو گھیرے ہوئے ہے۔ اپنی زندگی کو قلم بند کرنے کے دوران، انسان اپنا بیتا ہوا جیون، ایک بار پھر سے جیتا ہے۔ بچپن کی اٹکھیلیاں، لڑکپن کی شرارتیں، نوجوانی کے مخمور لمحات، جوانی کی جدوجہد، ادھیڑ عمری کی ذمہ داریاں بین السطور بولتی ہیں۔ کام یابیوں کا ذکر کرتے حرفوں سے خود بینی کا رس ٹپکتا ہے اور حسرتوں، پچھتاووں کے جملے ملال و تا¿سف کی ترسیل کرتے ہیں مگر اس کتاب میں ایسا کچھ نہیں۔
میرا ماننا ہے کہ ایک شاعر جب نثر لکھنے پر آتا ہے تو بڑے بڑے نثاروں کے چھکے چھڑا دیا کرتا ہے مگر ایک قادر الکلام شاعر کی خود نوشت سوانح حیات ہونے کے باوصف ”شام و سحر“ میں ایسا کچھ نہیں۔ یوں لگتا ہے مطالعہ پاکستان کے کسی سوال کا طویل جواب قلم بند کیا گیا ہو۔ امتحانی مرکز میں بیٹھے ہوئے کسی طالب علم کے جوابی پرچے میں لکھی تحریر کی سی ٹون ہے جو صفحہ انچاس سے ایک صد اٹھانوے تک بجتی سنائی دیتی ہے۔ حالانکہ اس میں بچپن کا، ہجرت کا، تحصیل علم کا، شہر قدیم ملتان کی ادبی زندگی کا، کالج کا، جوانی کا، اُدھیڑ کا، عشق کا، سماج کا، احباب کا، سفروحضر کا سبھی کچھ کا تذکرہ ہے لیکن ایک رپو تاژ یاروداد کی صورت۔ تاثر ہے اور نہ تاثیر۔
اسی اچنبھے کی ادھیڑ بن میں، ورق گردانی کرتا کرتا میں آخری باب ”بیگم کا انتقال اور آخری لمحات“ تک پہنچ گیا۔ انہی آخری دو صفحات نے یہ عقدہ کھول دیا کہ کیوں کہ یہ کتاب ملال آمیز یک سانیت کے رنگ میں رنگی ہوئی ہے۔ چودہ ستمبر سن دو ہزار پندرہ کو حسین سحر اپنی زندگی کا سیاہ دن قرار دیتے ہیں کہ اس روز ان کی اہلیہ ثمینہ بتول 54سال کی رفاقت ختم کرکے دھرتی کی گود میں جا سوئیں۔ اس باب کی چند سطروں کی خواندگی ضروری ہے۔
”ذاتی طور پر یہ ہمارا اتنا بڑا نقصان ہے جس کی تلافی ممکن نہیں ہے۔ ہم پر اس جدائی کا گہرا اثر ہوا ہے۔ صدمے سے ہم نڈھال ہیں اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں۔ ہر شخص ہمیں صبر کی تلقین کرتا ہے لیکن صبر کہاں سے آئے۔ بیگم کے ساتھ ہماری چون سالہ طویل رفاقت تھی جو لمحوں میں ٹوٹ گئی۔ ہم تنہا ہو کر رہ گئے……..حقیقت یہ ہے کہ کہنے کو زندہ ہیں مگر زندگی کا لطف باقی نہیں۔ کسی شئے میں جی نہیں لگتا۔ جدائی کا یہ عرصہ نہ جانے کتنا طویل ہو لیکن ہے بہت جان لیوا….بیگم کی پہلی برسی پر ہم نے ان کی یاد میں کہی گئی نظموں اور غزلوں کو ”جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا“ کے نام سے کتابی صورت میں شائع کیا جو ہماری طرف سے مرحومہ کے لئے ایک تحفہ ہے۔ اللہ ہمیں ہمیشہ حوصلہ اور صبر دے کہ ہم زندگی¿ مستعار مالک حقیقی کی رضا کے مطابق گزار سکیں۔ آمین (چودہ ستمبر2016 بقلم خود)“
ان سطروں نے ستمبر2015ءکی وہ سہ پہر بیدار کرکے سامنے لاکھڑی کی جب میں اور فیاض اعوان، سحر صاحب کے پاس ان کی اہلیہ محترمہ کی تعزیت کے لئے گئے تھے۔ شاکر بھی وہیں موجود تھے۔ تب سحر صاحب مجھے اقبال عظیم کے اس شعر کی تفسیر لگے تھے۔
مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا، سرِبزم رات یہ کیا ہوا
میری آنکھ کیسے چھلک گئی، مجھے رنج ہے یہ برا ہوا
میرے ساتھ ان کا ایک شفیق سینئر کا سا تعلق تھا اور ظاہر ہے کسی قدر حجاب آمیز۔ وہ بساط سے بڑھ کر ضبط کو بروئے کار لا رہے تھے مگر پیمانہ ہائے چشم بار بار چھلکتے اور اندر کے غبار کا گولا اٹک کر گلے کو رُندھا دیتا تھا انہیں اپنے ہم سفرِ زیست سے عشق تھا۔ اہل دل اگر عشق سے اگلے درجے کا کوئی نام رکھ پائے ہیں تو حسین سحر دراصل اُس کیفیت کے اسیر تھے۔ ایک برس جو انہوں نے اہلیہ کے بغیر گزارا تو حکیم مومن کے اُس شعروالی کیفیت میں جس کے بدلے مرزا غالب مبینہ طور پر اپنا پورا دیوان دینے کو تیار ہوگئے تھے۔ یہ کیفیات ”جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا“ کی صورت محفوظ ہوگئیں۔
یہ حالاتِ زیست، جن پر بات کرنے کو ہم سب آج یہاں اکٹھے ہوئے ہیں، یہ بھی کم و بیش اُسی آخری ایک برس کے دوران لکھے گئے۔ ایک فرض تھا گویا کہ جو ادا ہوا، اور اگلی منزل کو پابہ رکاب ہونے سے فقط ایک ہی دن قبل۔ یہ جو ایک سو پچاس صفحات کے دورات بجھی بجھی سی فضا ہے، اس کا کارن وہی ہجر کے روز و شب ہیں جن کے دوران یہ لکھے گئے۔ سو تحریر بھی یہی تاثر دیتی ہے کہ ”کریدتے ہو جو اَب راکھ، جستجو کیا ہے۔“ اس رودادِ خود نوشت میں احباب کی بذلہ سنجی کے چند واقعات بھی ہی اور کہیں کہیں لطائف و غرائب بھی مگر سبھی میں وہی کیفیت ہے کہ جیسے کوئی لٹی محفلوں کو یاد کرکے ان کا حال سناتا ہو۔ اہلیہ کی وفات پر حسین سحر بُجھ گئے تھے، اس سوانح میں ان کی شخصیت کا یہی پرتو جھلکتا ہے، بجھتے چراغ سے لو حاصل کرنے کی سعی ایسا۔
ہمارے دوست اور جناب حسین سحر کے ادبی وارث شاکر حسین شاکر نے بھی شائد یہی کیفیت محسوس کرکے اس روداد کا عنوان ”شام و سحر“ رکھا ہے۔ شام استعارہ ہے اختتام کا۔ ایک ہنگامہ بھرے دن اور ایک بھرپور زندگی کا اختتام۔ حسین سحر کے قلب کی آنکھیں اُس نے کھول دی تھیں کہ جس کے کلام کا انہوں نے منظوم ترجمہ اردو میں کیا۔ انہیں پتہ تھا کہ وہ اب زندگی کی شام گزار رہے ہیں۔ ایک پرشور دن کا اختتام ہونے کو آیا۔ چناں چہ شام کی چائے کے بعد عالمِ اسباب کے پائیں باغ میں بیٹھ کر دورابدیت کے افق میں ڈوبتے اپنی زندگی کے سورج کو دیکھتے ہوئے انہوں نے دن بھر کی یہ روداد کہی ہے۔ وقت تھوڑا تھا چنانچہ مختصر بھی ہے۔ ہنکارا بھرنے والا ساتھ نہیں تھا سو کہانی کہتے ہوئے داستان گو کے لہجے میں جو زیر و بم آیا کرتا ہے، وہ مفقود۔
میرے خیال میں اس کتاب کا نام ”شام و سحر“ کے بجائے ”شامِ سحر“ ہونا چاہئے تھا کیونکہ یہ سیبدی¿ سحر ایسی اُجلی زندگی کی روداد ہے جو زیست کی ڈھلتی شام میں رقم کی گئی۔
خواتین و حضرات! اس مرحلہ پر مجھے یہ کہنے دیجئے کہ ہر اختتام دراصل ایک آغاز کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ شام اگر دن کا اختتام ہے تو رات کا آغاز اور سحر اگر رات کا اختتام ہے تو دن کی شروعات۔ جناب حسین سحر ایک فانی زندگی کا اختتام کرکے ایک نیا آغاز لے چکے ہیں۔ یہاں غروب ہو کر وہ ایک ابدی زندگی کے افق پر طلوع ہو چکے ہیں۔ وہ زندگی جہاں ان کی ثمینہ بتول ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جناب حسین سحر فراق کے ہاتھوں ملول و رنجیدہ جب عالمِ برزخ پہنچے ہوں گے تو اپنی ثمینہ کو منتظر پا کر کھل اٹھے ہوں گے اور پھر ہماری پڑوسی کہکشاں اینڈرومیڈا سے بھی پرے، دور کسی اجنبی کہکشاں کے ستاروں کے درمیان ٹہلتے ہوئے انہوں نے ہم سفر کا ہاتھ پکڑ کے اپنا یہ شعر ضرور سنایا ہوگا۔
میں خامشی کا پیکر بے رنگ تھا سحر
اک شخص بولنے کی ادا دے گیا مجھے
(پروفیسر حسین سحر مرحوم کی خودنوشت سوانح ”شام و سحر“ کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker