نیو یارک : متنازع مصنف سلمان رشدی پر جمعے کو مغربی نیویارک میں اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ شتوکوا نامی ایک ادارے میں لیکچر دینے کے لیے سٹیج پر موجود تھا۔
نیو یارک سٹیٹ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ سلمان رشدی پر حملے کی تفتیش کر رہی ہے۔ پولیس کے مطابق بظاہر سلمان رشدی کی گردن پر چاقو کے وار کے نشانات ہیں اور اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے قریبی ہسپتال منقتل کیا گیا ہے۔
نیویارک کی پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ 75 سالہ بُکر انعام یافتہ مصنف کو صبح گیارہ بجے مغربی نیویارک ریاست کے چوٹاوکوا انسٹی ٹیوشن میں ’کئی بار‘ چاقو مارا گیا۔وہاں موجود افراد نے اس کی ٹانگیں پکڑ لیں تاکہ اس کا خون زیادہ نہ بہہ سکے۔ بعد میں اسے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے علاقے کے ہسپتال پہنچایا گیا۔
اس کے ایک معاون کے مطابق ان کی ہسپتال میں سرجری کی جا رہی ہے۔ فوری طور پر سلمان رشدی کی حالت کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ وہ خطرے سے باہر ہے یا نہیں۔
نیویارک کی سٹیٹ پولیس کا کہنا ہے کہ وہاں سلمان رشدی کی حفاظت پر مامور اہلکار نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔تاہم ابھی حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق جب ان کا تعارف کرایا جا رہا تھا تو ایک شخص نے سٹیج پر موجود سلمان رشدی کو مکوں سے نشانہ بنایا اور پھر چھرا گھونپ دیا۔
اے پی کے مطابق سلمان رشدی کو وہاں فرش پر گرا دیا گیا جب کہ حملہ آور کو پکڑ لیا گیا ہے۔سلمان رشدی کے ایجنٹ اینڈریو وائلی نے جمعہ کی سہ پہر خبر رساں اداروں کو ایک ای میل میں کہا کہ ان کی سرجری ہو رہی ہے۔
اس سے قبل نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے صحافیوں کو رات ساڑھے بارہ بجے کے قریب ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ رشدی ’زندہ‘ ہیں اور ’ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے جس کی انہیں ضرورت ہے۔‘
پولیس نے بتایا کہ سٹی آف اسائلم تنظیم کے شریک بانی ہنری ریز کے جو مسٹر رشدی کے ساتھ بیٹھے تھے، سر میں معمولی چوٹ آئی۔بھارتی صحافی شو ارور نے اس واقعے کی ویڈیو ٹویٹ کی ہے۔
سلمان رشدی کی متنازع کتاب ’سیٹینک ورسز یا شیطانی آیات‘ لکھنے پر 1988 سے ان پر ایران میں قتل کا فتوی جاری کیا گیا تھا۔ بہت سے مسلمان اس ناؤل کو توہین مذہب سمجھتے ہیں۔
کتاب کی اشاعت کے ایک سال بعد ایران کے سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ روح اللہ خمینی نے ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں سلمان رشدی کی موت کا کہا گیا تھا۔
رشدی کو قتل کرنے کے لیے 30 لاکھ ڈالر سے زیادہ کا انعام بھی رکھا کیا گیا تھا۔ایران کی حکومت نے طویل عرصے سے خمینی کے فرمان پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے لیکن رشدی مخالف جذبات ابھی تک برقرار ہیں جن کو ہر وقت سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔
2012 میں ایک نیم سرکاری ایرانی مذہبی فاؤنڈیشن نے رشدی کے قتل کے لیے انعام کی رقم کو بڑھا کر 33 لاکھ ڈالر کر دی تھی۔
( بشکریہ : انڈپینڈنٹ اردو )
فیس بک کمینٹ

