ملتان : زکریا یونیورسٹی کا پروفیسر چار ٹکے بچانے کے لئے جامعہ کے سینیٹری ورکرز سے بیگار لینے لگا۔ افسری کے گھمنڈ میں غریب سینیٹری ورکر کی جان خطرے میں ڈال دی۔ سینیٹری ورکر شدید زخمی ہو گیا لیکن پروفیسر نے ہسپتال لے جانے کی زحمت بھی نہیں کی۔
تفصیلات کے مطابق قاسم ہال کے سابق وارڈن اور شعبہ اردو کے سینئر پروفیسر مبینہ طور پر ہاسٹل اور اردو ڈیپارٹمنٹ کے سینیٹری ورکرز کو اپنے سرکاری گھر کی صفائی اور ذاتی کاموں کے لئے زبردستی اپنے گھر پر بلالیتے ہیں جبکہ اس دوران ڈیپارٹمنٹ اور قاسم ہال کی صفائی کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ سلسلہ اس وقت سے جاری ہے جب سے سینئر پروفیسر قاسم ہال کے وارڈن تھے۔ وارڈن کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد بھی قاسم ہال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بخت یاور ہاسٹل کے سینیٹری ورکرز کو سینئر پروفیسر کے گھر جاکر صفائی اور ان کے ذاتی کاموں کے لئے مجبور کرتے ہیں۔ بعض اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا چند روز قبل بھی ڈاکٹر بخت یاور نے قاسم ہال کے سینیٹری ورکرز خادم حسین اور اکبر کو اسی پروفیسر کے گھر جانے پر مجبور کیا جہاں گھر کی صفائی اور ذاتی کام کروانے کے بعد پروفیسر نے اکبر کو کہا کہ یونیورسٹی کالونی میں موجود کھجور کے درخت سے کھجوریں اتارے۔ غریب ملازم نے کہا بھی کہ سیڑھی کے بغیر وہ کھجور کے بلند درخت پر نہیں چڑھ سکتا لیکن پروفیسر نے اسے ڈرا دھمکا کر اس کام پر مجبور کیا۔ کھجوریں توڑتے ہوئے سینیٹری ورکر اکبر توازن برقرار نہ رکھ سکا اور بلندی سے زمین پر گر گیاجس کی وجہ سے اس کی ٹانگ میں شدید چوٹیں آئیں اور پسلیاں ٹوٹ گئیں۔
سینیٹری ورکر کی آنکھ پر گہرے زخم کے باعث دس ٹانکے بھی لگانے پڑے۔ اکبر کے زخمی ہونے کے بعد پروفیسر نے انتہائی بے رحمی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے قاسم ہال سے دوسرے سینیٹری ورکرز کو بلا کر کہا کہ اسے ہسپتال لے جائیں اور واقعہ کے متعلق کسی کو بھی بتانے سے سختی سے منع کیا۔ یاد رہے کہ مذکورہ پروفیسر لاکھوں روپے تنخواہ، کنالوں پر محیط سرکاری گھر اورچیئرمین الاؤنس سمیت اضافی کورسز سے ماہانہ بھاری انکم حاصل کرتے ہیں لیکن گھر کی صفائی اور دیگر ذاتی کاموں کے لئے چند ہزار روپے کے عوض ملازم رکھنے کی بجائے ہاسٹل اور ڈیپارٹمنٹ کے نچلے درجے کے ملازمین سے زبردستی بیگار لیتے ہیں اوریہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے۔
فیس بک کمینٹ

