آنچلافسانےثمانہ سیدلکھاری

overage ۔۔ ثمانہ سید

نہیں امی میں نے نہیں جانا سامنے والوں کی شادی پر،37 سالہ شمع نے امی کو منہ بناتے ہوئے کہا۔ ارے کیوں تمہیں تو باہر جانا بہت پسند ہے، پھر کیوں نہیں جا رہی۔۔بس امی کہا نا میں نے نہیں جانا۔۔۔کیوں کیوں آپی،،آپ نہیں جائیں گی تو میں بھی نہیں جاؤں گی۔۔چھوٹی فروہ نے لاڈ کرتے ہوئے کہا۔ اسے شمع کے ساتھ رہنا بہت پسند تھا۔ کوئی فنکشن ہو، تقریب ہو، میلاد ہو۔۔۔وہ شمع کے ہی ساتھ ساتھ ہوتی تھی۔ لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے دیکھ رہی تھی کہ اس کی باجی لوگوں میں جانے سے کترا رہی ہیں۔ خصوصاً شادی بیاہوں والے گھروں میں۔ اس نے کریدنے کے غرض سے پھر باجی کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر کہا، باجی چلیں نا، ہم خوب سیلفیاں بنائیں گے۔میری اتنی تیاریوں پر پانی نہ پھیریں نا۔ یہ لہنگا۔۔۔یہ جھمکے۔۔یہ میک اپ۔۔۔دیکھیں نا چلیں پلیز۔ ”کہا نا کہ نہیں جانا مجھے۔۔دور ہو جاؤ مجھ سے۔۔۔مجھے دور ہی رکھو ان چیزوں سے۔۔میں نے نہیں جانا کہیں۔” ۔۔۔غصے سے چیختی شمع بہن کا ہاتھ جھٹک کر دالان سے ہوتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
ہیں آپی کو کیا ہوا۔ اتنا غصہ پہلے تو کبھی نہیں کرتی تھیں۔ امی آپ نے کچھ کہا ہو گا۔ چھوٹی نے حیرت سے پوچھا۔ نہیں مجھے تو نے نہیں پتہ کیوں نہیں جارہی نہ میں نے کچھ کہا ہے۔ امبر کو پتہ ہو گا۔ انہوں نے سامنے بیٹھی امبر کی طرف اشارہ کیا۔ جو نہ صرف ان کی ہمسائی بلکہ شمع کی بہت گہری دوست بھی تھی اور اسی لیے شاید اس نے اپنی سہلیی کو زیادہ زور دینا مناسب نہیں سمجھا تھا۔اسے پتہ تھا شمع نے کیوں انکار کیا ہے جانے سے۔ اس کا دل تو کر رہا تھا کہ بتا دے کیا وجہ ہے مگر پھر سوچتی تھی کہ وجہ ہر ایک کو سمجھ میں آنے والی تھی ہی کب
حقیقت تو یہ تھی کہ امبر کا بھی دل نہیں تھا جانے کا کیوں کہ اسے بھی اسی قسم کی بناوٹی ہمدردیاں ملنے والی تھی وہاں پہنچ کر جیسا کہ شمع کو ملتی تھیں۔اسے اچھی طرح یاد تھا کہ جہاں چار عورتیں اکٹھی ہوں گی ان کا پسندیدہ موضوعِ گفتگو ہی شمع کی بڑھتی عمر کے باوجود شادی نہ ہو سکنا یا امبر کی طلاق کی اصل وجہ معلوم کرنے کا “چسکا لگانا” ہو گا ۔بظاہر تو سب ہمدردی ہی کرتے تھے مگر اس ہمدردی میں چھپا یہ طعنہ کہ “ضرور تیرا ہی قصور ہو گا” نہ امبر سہہ سکتی تھی نہ شمع۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ امبر اب عادی ہو گئی تھی اور لوگوں کو منہ توڈ جواب دے کر منہ بسور آتی تھی،جبکہ شمع نے نہ جواب دینے ہوتے تھے اور نہ وہ ایسے لوگوں سے لڑنا چاہتی تھی جو صرف اچھا ٹائم پاس کرنے کے لیے اس کا تمسخر اڑایا کرتے تھے۔۔بناوٹ کرتے تھے اور جعلی دلچسپی دکھایا کرتے تھے۔ شمع بس کڑھ سکتی تھی بس احساسِ جرم اور احساسِ محرومی ہی میں مبتلا ہو سکتی تھی۔ اس سے کی جانے والی ہمدردیاں کبھی کبھی شاید اس کی حمایت ہی میں ہوتی ہوں مگر وہ کہتے ہیں نا کہ کچھ چیزوں پر انسان کا بس نہیں ہوتا۔اسی طرح اس کا اس پر بس نہیں تھا اور اسے اچھا نہیں لگتا تھا کہ اس سے اس بارے میں بات کی جائے۔ شادی ہونی ہو گی تو ہو جائے گی،نہ ہونی ہو گی تو نہیں ہو گی۔۔۔۔اسے یہ بات پریشان نہیں ڈپریشن میں لے جاتی تھی اور جب بھی کوئی اسے اپنائیت جتانے کے لیے یہ سوال کرتا تو ایک عجیب قسم کی سوچ اسے بے چین کر دیتی کہ شاید اس کی زندگی میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔اس کی شخصیت میں کوئی کھوٹ ہے یا پھر اس میں کوئی ایسی بات ہے کہ سب قسمت والوں میں وہ ہی ایک بد قسمت رہ گئی ہے۔ اکیلے میں وہ بھلے خود کو یہی سمجھاتی اور سوچتی تھی کہ شادی آخری منزل نہیں۔شادی کے بغیر بھی زندگی گزرتی ہے اور گزاری جا سکتی ہے۔ اور کبھی اسے اس بندھن کا خیال بھی نہ آتا تھا مگر”ہمدرد لوگوں” کے ملنے کے ساتھ ہی ساری ہمت ساری خودمختاری ہوا ہوتی محسوس ہوتی تھی۔ وہ ان کے رویے نہ سہہ پاتی جو خود تو شادی شدہ زندگی کے رونے روتی رہتی تھیں مگر اسے ’’overage‘‘ کہہ کر ایک عجیب دکھ میں مبتلا کر دیتی تھیں۔ پہلے پہل تو شمع نے کافی کوشش کی معاشرے سے لڑنے اور ہمت نہ ہارنے کی، پھر ایک ایسا وقت آیا کہ اس کی ہمت بھی جواب دینے لگی اور اس نے اندد سے خود کو ہی قصور وار تسلیم کر کے ایک کمرے میں بند کر لیا۔ اب اسے نہ کسی کے طعنے کا ڈر تھا نہ کسی کی بناوٹی اور جھوٹی ہمدردی کی ضرورت۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker