اختصارئےثمانہ سیدلکھاری

ملازمت پیشہ کا سویگ اور سوانگ ۔۔ ثمانہ سید

کون  کہتا ہے کہ صرف ماڈلز، گلوکاروں اور پنڈی بوائز کا ہی “سویگ” ہوتا ہے؟ کبھی آپ نے ملازمت پیشہ آدمی کا سویگ بلکہ سوانگ دیکھا ہے ؟ اب آپ سوچیں گے کہ یہ سویگ کیا ہے ؟ سویگ سوشل میڈیا کی اصطلاح ہے جو شو بازی ”سٹائل مارنے‘‘ کے معنوں میں استعمال ہوتی ہے ۔ نئی نسل کے لئے تو یہ لفظ نیا نہیں ہو گا پھر بھی وضاحت ضروری تھی تاکہ آپ اس تحریر سے لطف حاصل کر سکیں ۔ کسی نے ہم جیسے کا سویگ دیکھنا ہو تو مہینے کی پہلی تاریخوں میں دیکھئے۔پورے مہینے کے دن ایک طرف اور پہلی تاریخ ایک طرف۔ پورا مہینہ ہم اس تاریخ کی آس میں رات کیا دن میں بھی تارے گنتے رہتے ہیں اور اللہ اللہ کر کے جب پورے تیس دن بعد یہ تاریخ آتی ہے تو ہمارا دل جھوم اٹھتا ہے، ہم اے ٹی ایم مشین کی جانب اُڑ کر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بس تنخواہ بخیر وعافیت ہمارے اکاؤنٹ میں منتقل ہونے کا میسج ملنے کی دیر ہوتی ہے …پھر ہم بڑی پھرتی اور ہوشیاری سے اپنے ساتھیوں کو پچھاڑتے ہوئے اے ٹی ایم پر دھاوا بولتے ہیں۔ اور بڑی تعظیم سے اس کو ہاتھ لگاتے ہیں گویا وہ “مائی باب” ہو۔ پھر جب نئے نکور نوٹ مشین سے باہر صحیح سالم نکل
آئیں تو ہماری بھی جان میں جان آتی ہے۔ اور اگر خدانخواستہ کبھی کسی بنا پر یہ مشین جواب دے جائے تو ہمارے ہاتھوں کے طوطے ہی اُڑ جاتے ہیں۔ پھر ٹونے اور ٹوٹکے آزمانے پڑتے ہیں جیسے کہ بینک والوں کو کالیں، گالیاں، غصے کا اظہار اور بہن بھائیوں سے ادھار لے کر گزارا کرنا پڑتا ہے۔
کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ سال کی یہ پہلی تاریخ نہ ہوتی تو ہم کہاں جاتے۔۔۔یہ ہنسی، یہ کھلکھلانا، یہ بازار کے خواہ مخواہ کے چکر، یہ ریڑھی پہ کھڑے ہو کر چاٹ کھانے کی عیاشی کہاں سے آتی….ہمارا تو سب کچھ ہی پہلی تاریخ سے وابستہ ہوتا ہے پورے ماہ کوئی چیز خریدنی ہو، ادھار دینا ہو، کہیں ملنے جانا ہو یا کوئی دعوت کرنی ہو۔۔۔ پہلی تاریخ پر ہی بھروسہ ہوتا ہے. اور اس کا انتظار ایسے کرتے ہیں جیسے لڑکیاں اپنے گھر آنے والے ”سپیشل گیسٹ” کی راہ تکتی ہیں۔ آج کل بھی مہینے کی پہلی پہلی تاریخیں ہی چل رہی ہیں اور ہماری نبض اور دل کی دھڑکن بھی ان کے ساتھ تیز تیز چل رہی ہے خوشی کے مارے.. آخر خوش کیوں نہ ہوں، مہینے کی یہ وہ واحد تاریخ ہے جب ہمارا بھی شوق سے آفس جانے کو جی کرتا ہے۔۔۔۔ آج تنخواہ ہاتھ میں ہے تو ہم بھی گردن اکڑا کر چل رہے ہیں، پاؤں زمین پر پڑ ہی نہیں رہے اور باچھیں ایسے کھِلی جا رہی ہیں جیسے ہمارے ساتھ بیٹھے لوگ بات نہیں کر رہے، لطیفے ہانگ رہے ہیں ۔یہ ہمارا خاص “سویگ” ہے جو دیکھنے والے کو ہم میں صرف مہینے کی پہلی تاریخ پر ہی نظر آ سکتا ہے۔ اب ہمارا موڈ
خواہ مخواہ اچھا ہی رہے گا۔ ہم بلا وجہ گنگنائیں گے، خواہ مخواہ ہی جھومیں گے اور بلا وجہ ہی مستی کرنے لگیں گے بھئی ۔۔۔
آج کل ہمارے عیاشی کے دن ہیں۔ ہم بھی بازار جا رہے ہیں، سٹالوں پر کھڑے کھڑے چیزیں انتہائی اعتماد کے ساتھ دیکھ رہے ہیں،”لینا نہ لینا ایک الگ بات ہے” گھر خوشی خوشی فون کر کے پوچھ رہے ہیں کہ کوئی چیز چاہئے تو بتاؤ آخر پورا مہینہ ہم نےگھر والوں سے منہ بنائے رکھا، خواہ مخواہ کی فرمائشیں جو کرتے تھے ۔۔ اور یہ سویگ پورے پانچ دن۔۔۔ کبھی کبھی تین اور کبھی دو دن بھی چلتا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ ہم اپنی اوقات پر آ جاتے ہیں۔۔ کیونکہ پھر ہم، ہم ہی ہوتے ہیں ’جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا‘

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker