افسانےثمانہ سیدلکھاری

کچی نوکری ، پکی نوکری ۔۔ ثمانہ سید

“تم کیوں کام کرتے ہو تیزی سے؟ آخر مسئلہ کیا ہے تمہارا؟” صفدر نے اپنے ماتحت سے دریافت کیا ۔ ناک پر عینک سجائے، چہرے پر لاپرواہی لئے وہ اپنی سیٹ پر تقریباً لیٹتے ہوئے بول رہے تھے۔”بتاؤ بھی۔۔۔اتنی بھی کیا جلدی ہوتی ہے؟”
“جی وہ آج کام جمع کروانا تھا نا سر کو اس لیے۔” منیر نے کچھ حیران ہو کر جواب دیا۔
“ہاہا۔۔۔۔ارے یار کتنے سادہ ہو نا تسی۔۔۔۔۔۔وہ کام ہی کیا جو وقت پر جمع کروایا جائے۔ہا ہا ہا۔” صفدر زور زور سے ہنسنے لگا۔
پھرکچھ دیر ٹھہر کر گویا ہوا۔ “یار دیکھو تسلی سے،آرام سےوقت لگا کر کام دیا کرو۔کوئی نہیں پیچھے لگا ہوا۔”
“دیکھو میں دس سال سے یہیں ہوں،میں نے اتنی تیزی کبھی نہیں دکھائی۔ سب کام ہو جاتے۔آخر ہم ہی چلا رہے ہیں نا یہ ادارہ۔” انجم جو صفدر صاحب کے ساتھ ہی بیٹھا تھا، ان کی باتیں سننے کے بعد بولا۔ اس کو بھی منیر کی یہ عادت پسند نہ تھی۔
“پر صفدد صاحب!بڑے سر کیا بولیں گے؟”منیر نے ایک ہاتھ گال پر رکھتے ہوئے کہا۔
“ارے چھوڑو یار، بڑے سر کو۔۔۔۔بولنے دو جو بولتے ہیں۔ “انجم نےتقریباً مذاق اڑاتے ہوئے کہا۔
دیکھو، تم نے کام جلدی دے دیا اب مجھے بھی جلدی کام کرنا پڑے گا۔ پھر خواہ مخواہ سر میرا بھی دماغ کھائیں گے۔ تم سمجھ رہے ہو نا میری بات۔ “صفدر نے قدرے سنجیدگی سے مسئلے کی وجہ بتاتے ہوئے بولا۔
“اوہ اچھا۔۔۔ٹھیک!” منیر کو وجہ پہلے ہی معلوم تھی مگر اس کی عادت کے خلاف تھا کام بلا وجہ لیٹ کرنا۔ اب صفدر کو اس سے مسئلہ تھا تو چاروناچار منیر نے سر تسلیمِ خم کرتے ہوئے جواب دیا ۔
صفدر کیا ان کے دفتر میں کسی کو بھی وقت کی پابندی کی عادت نہیں تھی۔نہ وقت پر آنے جانے کی،نہ وقت پر کام کرنے کی جبھی تو دفتر بمشکل سے “بس گزارہ ہے” پر ہی چل رہا تھا۔ منیر ان سب میں نیا تھا،اور وہ خربوزوں میں خربوزہ نہیں بننا چاہتا تھا۔ لیکن آج صفدر اور انجم کی باتیں سن کر اس نے بھی ٹھانی تھی کہ وہ بھی اب تسلی سے آرام سے کام کرے گا۔پھر وہی ہوا چند دنوں میں اس کی بھی عادت بن گئی کہ فائل آتی تو وہ بھی ایک سائیڈ پر رکھ دیتا،صبح لیٹ آتا اور شام کو جلدی نکل جاتا۔۔۔کون سا کوئی پیسے کٹنے تھے۔کوئی کام کہہ دیتا تو اس کو لٹکا لٹکا کر کرتا بس ایک چیز اسے دھیان میں رکھنی تھی اب۔۔۔یعنی صفدر صاحب کی خوشامد اور ان کی ہر بات ماننا۔ جلد ہی وہ بھی دفتر کے ماحول میں رچ بس گیا اور پہلے کے سبق کو بھول گیا کہ اس نے ساری زندگی اپنے استادوں سے کیا سیکھا تھا جو ایسے نظام کے خلاف تھے۔ انہوں نے منیر کو اس نوکری سے منع تو نہ کیا تھا کیوں کہ ایسی “پکی نوکریوں” کے لیے تو پورا ملک پاگل ہوا پھرتا تھا۔ کہاں کہاں لوگ ٹیسٹ نہیں دیتے تھے، کون کون سا امتحان پاس نہیں کرتے تھے، کس کس کی منت نہیں کرتے تھے پھر جا کر ملتی تھی ایسی نوکری۔اسے آج بھی یاد تھا جب اس کی “کچی نوکری” تھی۔
“بیٹا کیا کرتے ہو؟”اس کے رشتے داروں میں سے ایک انکل وجاہت نے پوچھا تھا۔
“جی میں ایک چھوٹے سے دفتر میں ملازم ہوں۔”منیر نے خوشی سے جواب دیا تھا۔
“نوکری کچی ہے یا پکی”انکل نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا تھا۔
“انکل۔۔۔ابھی تو کچی ہے ” اس نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا تھا۔
“اوہ ۔۔۔”انکل نے منہ بنایا۔
اور پھر وہی ہوا تھا جس کا ڈر تھا۔ انکل نے قدرے حقارت کے ساتھ بچی کا رشتہ دینے سے انکار کر دیا تھا کہ “لڑکے کی کچی نوکری ہے۔ کوئی پکی نوکری ہو۔۔جس میں چھٹیاں بھی کر سکتے،بونس بھی ہوتے،پینشن بھی۔ پھر کبھی کبھی تو گھر گاڑی بھی مل جاتی۔۔یہ چھوٹی چھوٹی، کچی پکی نوکریوں میں کیا رکھا ہے۔ آج ہے کل نہیں ہیں۔اور آخر میں پینشن بھی نہیں۔ہم بیٹی ایسے بچے کو کیسے سونپ دیں۔”
منیر کو اپنی “کچی نوکری” بہت پسند تھی کیونکہ اس میں سیدھا سیدھا نظام تھا۔نہ افسرِ شاہی،نہ خواہ مخواہ وقت کا ضیاع اور پھر روز کچھ نہ کچھ نیا سیکھنے کو ملتا تھا۔ پیسے کم تھے مگر سکون تھا۔ وقت پر جاتا، وقت پر کام کرتا اور خوش رہتا تھا۔مگر ایسے ہی جب درجن بھر لوگوں کے “ایکس کیوز” سنے تو وہ پریشان رہنے لگا۔ اب اسے اچھی لگی لگائی نوکری میں سکون نہیں رہا تھا۔ اب اسے بھی “پکی نوکری” چاہئے تھی۔ دو سال خوب درخواستیں دینے، ٹیسٹ پاس کرنے، سفارشیں اور رشوت دے دلا کر ایک جگہ “پکی نوکری” لگی تھی، وہ خوش بھی تھا اور پھر نا خوش بھی کیونکہ اسے پتہ تھا کہ اب ساری زندگی اسی “پکی” نوکری میں ضائع کرنی ہو گی!

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker