بی بی سیسمیع چوہدریکھیللکھاری

سمیع چوہدری کا کالم: عابد علی کی جارحیت اور تائج الاسلام کے ’سپنے‘

مومن الحق کے چہرے پر مایوسی بکھری تھی۔ جس وقت اظہر علی نے مہدی حسن کو پے در پے دو چوکے رسید کیے تو یہ مایوسی اور گہری ہو گئی کیونکہ بنگلہ دیش کی امیدوں کا محل ڈھیر ہو چکا تھا اور پاکستان کامیابی اپنے نام کر چکا تھا۔
یہ امیدوں کا محل اس امکان پر استوار تھا کہ جس طرح تائج الاسلام نے پہلی اننگز میں پاکستانی بلے بازوں کو چکرائے رکھا تھا، گمان یہ تھا کہ دوسری اننگز میں پانچویں دن کی پچ پر ان کی گیندیں بلے بازوں کو الجھا کر رکھ چھوڑیں گی۔
لیکن مومن الحق نے غلطی یہ کی کہ دوسری اننگز کے عین اوائل میں ہی نیا گیند تائج الاسلام کو تھما دیا اور عبداللہ شفیق و عابد علی کی شراکت داری نے تائج الاسلام پر اٹیک کر کے ان کا ’ڈنگ‘ نکال دیا۔
اگر تائج الاسلام کو قدرے پرانی گیند ملی ہوتی تو شاید کہانی کچھ مختلف ہوتی اور پہلی اننگز میں سات وکٹیں لینے والے تائج الاسلام کے ’اپ سیٹ‘ کے سپنے بھی شاید سچ ہو جاتے۔
اسی طرح اگر بنگلہ دیشی بیٹنگ دوسری اننگز میں ذرا سا بھی تحمل کا مظاہرہ کرتی اور چوتھے دن کے اختتام تک یا گھنٹہ بھر پہلے تک ہی وقت نکال جاتی تو شاید تائج الاسلام یوں پھیکے نہ پڑتے لیکن شاہین شاہ آفریدی نے ان کی ایسی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا اور اننگز سنبھالنے کی ساری ذمہ داری اکیلے لٹن داس پر آن ٹھہری۔
اگر یہاں پاکستان کے لیے ہدف 250 کے لگ بھگ ہوتا تو شاید پہلی اننگز میں ناکامی کا منہ دیکھنے والے پاکستانی مڈل آرڈر پر کچھ دباؤ رہتا لیکن یہ ہدف ہی اتنا معقول سا تھا کہ یہاں سے میچ ہارنے کے لیے پاکستان کو کوئی بہت بڑی حماقت درکار تھی اور عابد علی نے ایسی کسی بھی حماقت کو خارج از امکان کر چھوڑا۔
پہلی اننگز میں جس تسلسل اور تحمل سے انھوں نے اپنا کنارہ سنبھالے رکھا تھا، دوسری اننگز میں بھی ان کی وہی فارم برقرار رہی اور قریب تھا کہ وہ دونوں اننگز میں سنچری کا منفرد ریکارڈ بھی بنا جاتے۔
دوسرے اینڈ سے عبداللہ شفیق نے جیسے ان کا ساتھ نبھایا، وہ لائقِ تحسین ہے۔ سال بھر سے زیادہ عرصہ بینچ پر گزارنے کے بعد جونہی انھیں پہلا موقع ملا، انھوں نے اس کا بھرپور طرح سے استعمال کیا۔
عبداللہ شفیق ایک نیچرل بلے باز ہیں۔ بابر اعظم ہی کی طرح، وہ ایک فطری سٹروک میکر ہیں۔ حالانکہ بہت سے لوگ ان کی ٹیسٹ کرکٹ میں شمولیت پر متضاد آرا میں الجھے ہوئے تھے مگر عبداللہ نے اپنے خوبصورت سٹروکس سے سارے اندیشوں کا جواب دے دیا۔
اگر عابد علی اور عبداللہ شفیق کی یہ فارم شاملِ حال نہ ہوتی تو پہلی اننگز کی برتری کے بعد بنگلہ دیش اس میچ میں پوری طرح قدم جما چکا تھا۔ یہاں سے اس کے قدم اکھیڑنے کے لیے کسی ہیرو کی ضرورت تھی جو یکے بعد دیگرے بنگلہ دیشی اننگز پر گھمسان کا رن برپا کر دے۔
اور یہاں شاہین شاہ آفریدی نے ہو بہو وہی کردار ادا کیا جو حسن علی نے پہلی اننگز میں نبھایا تھا کہ جب بولنگ یونٹ کے تین مہرے خاص کامیابی حاصل نہ کر پائے تو چوتھے نے ہی سارا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے تناظر میں ہر میچ اہم ہے اور ہر جیت قیمتی ہے لیکن اگر پاکستان کو اپنا تسلسل برقرار رکھنا ہے تو اگلے میچ میں بولنگ کمبینیشن پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہو گی۔
میرپور میں پاکستان کو ایک باقاعدہ لیگ سپنر کی لازمی ضرورت پڑے گی اور بابر اعظم کو طے صرف یہ کرنا ہے کہ ساجد خان اور نعمان علی میں سے کون جگہ چھوڑے گا تاکہ پاکستانی بولنگ صحیح معنوں میں ایک مکمل اور متوازن اٹیک کا روپ دھار سکے۔
یہ جیت پاکستان کے لیے تو خوشیوں کی نوید ہے مگر بنگلہ دیش کے پاس سوچنے کو بہت کچھ ہے۔ دوسری اننگز کی بیٹنگ ہمیشہ بنگلہ دیش کی کمزوری رہی ہے۔ اس کمزوری کا کوئی مستقل مداوا لازم ہے ورنہ بنگلہ دیش، ٹیسٹ کرکٹ میں، کبھی درست سمت میں نہیں جا پائے گا۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker