تین ماہ پہلے آسٹریلیا کے دورۂ سری لنکا کا تیسرا ٹی ٹوئنٹی میچ محض ایک رسمی کارروائی کی حیثیت اختیار کر چکا تھا کیونکہ کینگروز پہلے دونوں میچز جیت کر سیریز اپنے نام کر چکے تھے۔
پالیکیلے میں کھیلے جانے والے اس آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں ہدف کا تعاقب کرتی شاناکا کی ٹیم ایک بار پھر دیوار سے لگائی جا رہی تھی اور کلین سویپ کی تلوار سر پہ لٹک رہی تھی۔ چھ بلے باز پویلین لوٹ چکے تھے اور جیت کے لیے سری لنکا کو 18 گیندوں پر 59 رنز درکار تھے۔
ہزیمت سری لنکا کے لیے نوشتۂ دیوار دکھائی دیتی تھی۔
مگر پھر شاناکا کے بلے نے بولنا شروع کیا اور فنچ دیکھتے ہی دیکھتے رہ گئے۔ ہیزل ووڈ، جنھوں نے اپنے پہلے تین اوورز میں محض تین رنز کے عوض دو وکٹیں حاصل کر رکھی تھیں، کے آخری اوور میں شاناکا نے دو چوکوں اور دو چھکوں کی بدولت 22 رنز بٹورے۔ جب خود سری لنکا کو اپنی شکست کا یقین ہو چکا تھا، تب شاناکا ٹیم کے لیے کھڑے ہو گئے اور ایک یقینی فتح ورلڈ چیمپئن آسٹریلیا کے منہ سے کھینچ کر لے آئے۔
حالیہ ایشیا کپ میں اگر سری لنکا کی اٹھان کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو آسٹریلیا کے خلاف شاناکا کی وہ اننگز اب اس ڈریسنگ روم کے لاشعور کا حصہ بنتی نظر آتی ہے۔ جیسا مصمم عزم اور بے نیازی کی حد تک بے خوفی اس روز شاناکا کی بلے بازی میں نظر آئی تھی، کچھ ویسا ہی اعتماد اب نسانکا اور راجا پکسا کی بلے بازی میں بھی جھلکتا ہے۔ اور کوسال مینڈس تو اوپنر بننے کے بعد واقعی خطرناک ہو گئے ہیں۔
سری لنکا کی سپن بولنگ تو پچھلی تین دہائیوں سے نام کماتی آ رہی ہے مگر حالیہ برسوں میں اس ٹیم کا اصل المیہ اس کی بیٹنگ رہا ہے۔ وہ بیٹنگ لائن جو کبھی رانا ٹنگا، ڈی سلوا، اتاپتو اور جے سوریا جیسوں کی وجہ سے جانی جاتی تھی، سنگاکارا اور جے وردھنے کے جانے کے بعد کئی سال سے اپنی اصل شناخت کی کھوج میں گُم تھی۔
شاناکا کی ٹیم کی خاص بات یہ ہے کہ اس ٹیم میں سپن ڈیپارٹمنٹ تو اپنا بوجھ احسن طریقے سے اٹھا ہی رہا تھا، اب بلے بازی میں بھی اسی بے خطر سری لنکا کی نشاۃِ ثانیہ کی جھلک سی نظر آنے لگی ہے جس کے سرخیل کبھی اروندا ڈی سلوا، سنتھ جے سوریا اور کبھی تلکارتنے دلشان جیسے ہوا کرتے تھے۔
ایشیا کپ کے پہلے میچ میں جس طرح سری لنکن بلے باز یکسر افغان بولرز کے رحم و کرم پہ دکھائی دیے، اس نے شاید سری لنکن بلے بازوں کو خوف کے حصار سے دھکیل کر باہر نکال چھوڑا اور پھر بنگلہ دیش کے خلاف ناک آؤٹ میچ میں سبھی بلے باز کپتان شاناکا کی سی اپروچ سے بیٹنگ کرتے نظر آئے۔
پاکستان نے دو روز بعد کھیلے جانے والے فائنل کو اہم جانتے ہوئے اس میچ کے لیے شاداب خان اور نسیم شاہ کو آرام دے کر حسن علی اور عثمان قادر کو گیم پریکٹس دلوائی۔ یوں فائنل کے تگڑے مقابلے سے پہلے اپنے دونوں اصل ہتھیار بھی حریف کی آنکھ سے اوجھل کر لیے گئے۔
تزویراتی اعتبار سے یہ ایک مثبت پیش رفت تھی مگر اس کے بدلے میں پاکستان شکست کی توقع یقیناً نہیں کر رہا تھا۔ بابر اعظم نے قدرے فارم میں واپسی کا عندیہ ضرور دیا مگر ایک بار پھر یہی آشکار ہوا کہ اگر محمد رضوان جلد آؤٹ ہو جائیں تو مڈل آرڈر پہ نزع کا عالم طاری ہو جاتا ہے۔
لیکن پاکستانی بلے باز بھلے ناکام رہے ہوں، بولرز نے پھر بھی تسلسل برقرار رکھا اور کسی نہ کسی طور کھینچ تان کر میچ کو نہ صرف ڈیتھ اوورز تک لے گئے بلکہ اسے دلچسپ بھی بنائے رکھا۔
اور پھر شاناکا نے ایک بار پھر وہی کہانی دوہرائی جو اب ان کی شناخت بنتی جا رہی ہے۔
پاکستان گھیرا تنگ کرنے کو تھا کہ حارث رؤف کے اچھے بھلے کامیاب سپیل کو انھوں نے یکے بعد دیگرے چوکے اور چھکے سے خراب کر دیا۔ اور پھر جب حسن علی 16ویں اوور میں ایک بار پھر مطلوبہ رن ریٹ کو توازن میں لے آئے تو 17ویں ہی اوور کی پہلی گیند پہ محمد حسنین کو چھکا رسید کر کے سارا دباؤ واپس پاکستان کو لوٹا دیا۔
جس طرح سے پاکستان کی مڈل آرڈر بیٹنگ کوالٹی سپن کے سامنے آشکار ہوئی اور جس اعتماد سے شاناکا نے ڈیتھ اوورز میں حارث رؤف اور محمد حسنین کا سامنا کیا، وہ یہ بتانے کو بہت ہے کہ اتوار کی شام شاناکا کی ٹیم پاکستان کے لیے تر نوالہ ہرگز ثابت نہیں ہو گی۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)
فیس بک کمینٹ

