کراچی : بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ کو پولیس کی جانب سے نقصِ امن کے خدشے کے باعث ایم پی او کے تحت احاطۂ عدالت سے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سمی دین بلوچ کو ایم پی او آرڈر کے تحت 30 روز کے لیے جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔اس حوالے سے سندھ حکومت نے اپنے حکم نامے میں لکھا ہے کہ سمی بلوچ سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ وہ عوام کو مشتعل کر رہے تھے اور ان کی وجہ سے نقصِ امن کا خطرہ تھا۔منگل کی صبح پولیس نے سمی دین سمیت پانچ افراد کو سینٹرل جیل میں جوڈیشل میجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا۔خیال رہے کہ پیر کو بلوچ یکجہتی کمیٹی اور سول سوسائٹی کراچی کے اراکین نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبرگ بلوچ اور دیگر کارکنوں کی حراست کے خلاف پریس کلب کے باہر احتجاج کی کال دے رکھی تھی جب سمی بلوچ اور دیگر مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔
منگل کو عدالت میں جبران ناصر سمیت دیگر وکلا پیش ہوئے اور عدالت کو آگاہ کیا کہ سمی بلوچ کو بے گناہ اور غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ہے اور شہر میں دفعہ 144 کا نفاذ غلط ہے۔عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد سمی دین محمد اور وہاب بلوچ سمیت پانچ افراد کو رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔تاہم ان کی رہائی کے فوری بعد پولیس نے سمی کو دوبارہ حراست میں لے لیا اور بتایا کہ انھیں ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کی جانب سے سمی بلوچ کو دوبارہ گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی جس پر وکلا کی جانب سے گرفتاری کی مزاحمت کی گئی اور پولیس اور وکلا کے درمیان دھکم پیل ہوئی۔ اس موقع پر عدالت نے پولیس سے ایم پی او کا آرڈر طلب کیا تھا تاہم پولیس نے آرڈر عدالت میں پیش کیا اور عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ قانون کے مطابق ایم پی او کے آرڈر پر آرڈر نہیں کر سکتے۔خیال رہے کہ ایم پی او کے تحت ان افراد کو حراست میں لیا جاتا ہے یا نظر بند کیا جاتا ہے جن کے آزاد گھومنے پھرنے سے، حکومت کے مطابق، امن و عامہ کے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔
سمی دین کی چھوٹی بہن مہلب بلوچ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سمی دین کو غیر مشروط رہا کیا جائے اور بلوچ خواتین پر تشدد اور ظلم میں ملوث افسران اور اہلکاروں کو سزا دی جائے۔انھوں نے کہا کہ اگر ریاستی ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رہا تو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے سخت احتجاج کیا جائے گا۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

