آج جو موضوع منتخب کیا اس پر قلم اٹھانے سے پہلے سو بار سوچا کہ لکھنے کی جسارت کرنی بھی چاہیے کہ نہیں پھر سوچا لکھتی ہوں ہو کیونکہ گردو پیش رضی الدین رضی کا پلیٹ فارم ہے یہاں بہادری سے لکھا جا سکتا ہے بات جب بھی ہوتی ہے ہے تو اکثریت کو تجزیہ میں لاکر کی جاتی ہے آج میں بات کروں گی محکمہ صحت کی جس کی اپنی صحت بدہضمی کی حد تک خراب ہے اور باز پرس کرنے والے بھی مجھے لگتا ہے کہ انتقال فرما چکے ہیں یا شاید وہ ان کرتوتوں میں بھائی وال ہیں ورنہ چشم پوشی کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے پنجاب کے ہر ڈویژن میں جانے کا اتفاق ہوتا رہتا ہےحتی کہ راجن پور جیسے پسماندہ علاقوں میں بھی کیونکہ کہ عزیز و اقارب یہاں رہتے ہیں یقین کیجیے میں نے عطائی کلینک وہاں بھی نہیں دیکھے جتنے ملتان شہر کے اردگرد بڑی بہادری اور محکمہ صحت کے افسروں کی چھتر چھایا میں دھڑلے سے چل رہے ہیں ۔
یہ کالم لکھنے سے پہلے میں نے کچھ مضافات میں وزٹ کیا اور ہر علاقے میں عطائی سپیشلسٹ پریکٹس کرتا پایا گیا حتی کہ ایک مڈوائف کا پتہ چلا کہ وہ عورتوں کے سیزیرین یعنی آپریشن سے ڈلیوری میں مصروف عمل ہے اور ڈاکٹر کہلاتی ہے کلینک ملتان سٹی کے سب سے قریب ہے ذمہ دار کیسے بے خبر ہو سکتے ہیں جب کہ مجھے معلوم ہے پہلے یہ معمول تھا کہ کسی نہ کسی ڈاکٹر کی پی ایم ڈی سی یعنی پریکٹس کا لائسنس لے کر یہ عطائی کلینک پر لگاتے مشکل کیس میں ڈاکٹر آن لائن رہتا کیوں کہ یہ ڈاکٹر کو منتھلی دیتےتا کہ مشکل کیس میں ڈاکٹر سنبھال سکے اور محکمہ صحت سے عطائی بچا رہے لیکن تاحال اس وقت تک کی خبر یہ ہے کہ اب موجودہ افسروں نے ان عطائیوں کی یہ مشکل حل کر دی ہے اب وہ افسرواں کو منتھلی دیتے ہیں اور آن کال ڈاکٹروں سے جان چھڑوا چکے ہیں ہر گاؤں میں BHU موجود ڈاکٹر موجود ہے مگر ماشااللہ پڑھی لکھی پبلک جب سرکاری ہسپتال پہنچتی ہے تو دو روپے خرچ کرنا بھی ابھی توہین سمجھتی ہے ہے مجھے ایک لیڈی ڈاکٹر نے بتایا کہ حکومت نے الٹراساؤنڈ مشین فراہم کر دی ہے مگر ٹیشو پیپراور الٹرا ساؤنڈ جیل( jell)جو لازمی لوازمات ہیں ان کا بجٹ نہیں دیااگر 50 روپے مریضوں سے چارج کریں تو وہ لڑتے ہیں کہ یہ سرکاری ہسپتال ہے پیسے کیوں لیتے ہو کیونکہ ایک جیل کا ڈبہ دو ہزار کا ہے جو ایک دن میں ختم ہو جاتا ہے بد انتظامی کہیں اسے یا کیا کہیں اسے میری سمجھ سے بالا ہے پھر جو گرانٹ محکمہ صحت کے دفتر میں آتی ہے مثلا کرونا کی گرانٹ آئی کہ مختلف ہسپتالوں میں ہیلتھ سینٹر میں تقسیم ہو گی وہ کٹوتی کرکےسینٹروں کو عنایت کی جاتی ہے اب یہ کٹوتی کیوں ہوتی ہے کچھ پتہ نہیں یہاں ایک سی سی او کروڑ روپے کما کر جا چکا ہے محکمہ کا ہر اہلکار جانتا ہے کہ وہ کروڑوں کا چونا لگا کر گیا ہے اور جب یہ لوگ چونا لگا رہے ہوتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہےکہ سیکرٹریٹ میں بیٹھے بااختیار بے خبر ہو۔
میرے اپنے شوہر محکمہ صحت سے ریٹائر ہوئے ہیں وہ 19ویں گریڈ کے ڈاکٹر تھے تو سترویں سکیل کا ڈاکٹر ڈی ڈی ایچ او آکر تعینات ہوا میں نے شوہر کے دوست ڈاکٹر سے پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہے تو ان کا جواب آپ کی بھی رہنمائی کرے گا وہ بولے سیکرٹریٹ کو کماؤ پوت چاہیے۔۔
لعنت ہے ایسے حرام خوروں پر ہم کس منہ سے صادق اور امین سیاستدانوں اور ججوں کی خواہش کریں یہ لوگ رشوت دے کر آڈر لاتے ہیں اور منتھلی فکس کرتے ہیں لفافہ بھرنے کے لیے انہیں عطائی اور دائی دونوں کے لیے چشم پوشی کرنی پڑے گی تمام بے ضابطگیوں کے خلاف قوانین اور رولز موجود ہیں مگر ہر باغ کی حفاظت پہ ایک گالہڑ بٹھا دو گے تو کیا حال ہوگا حرام کی کمائی ان کی ہڈیوں میں سرائیت کر چکی ہے کوئی بندہ یہ نہیں سوچ رہا کہ حرام بیٹےکو کھلائے گا تو وہ حرام زادہ ہی بنے گا میں اردگرد کےحالات ہر محکمے کے دیکھ کر سوچتی ہوں کہ ہمارے ملک میں اللہ اب نہیں رہتاکیوں کہ ہر بندہ اس کے وجود سے انکاری ہے ۔
حلال و حرام کی تمیز اللہ کا خوف کہیں بھی نہیں ہے اس محکمے میں ہیلتھ ورکرز کی ایک الگ سٹوری ہے اس پر بھی لکھوں گی کہ شرمساری سے پسینہ آ جائے گا یہ اس مملکت کے حالات ہیں صرف کرپشن نہیں وہ سب ضبط تحریر میں لانے کے لیے پتھر کا جگر درکار ہے مگر لکھوں گی ضرور ۔۔ ہمارے حالات نہیں بدل سکتے۔ ہم ان کرپٹ بدکار سیاستدانوں کےقابل ہیں کہ یہاں ایڑیاں رگڑیں اور روٹی کی تنگی کے ساتھ زندگی گزاریں اور مر جائیں. کیوں کہ حرام ہر ارباب اختیار کے خون میں سرایت کر چکا ہے اب ہمیں برا نہیں لگتا.کھاتا ہے کچھ ہم پر لگاتا ہے یہ ہمارا سلوگن ہے یہاں کوئی جواب دہ نہیں جائز کام تھا تھرو پراپر چینل این او سی چاہیے تھا ایک ڈاکٹر نے سیکرٹریٹ کے دس چکر لگائے بیوقوف نے رائٹ کام سمجھتے ہوئے رشوت نہیں دی ہر چکر پر ایک ہزار روپے کا پٹرول لگا.یہی پیسے دے آتا دوسرے دن کام بن جاتا. خدا کا خوف کرو اولادوں کاخون اور گوشت حرام کی کمائی سے بڑھا رہے ہو اور کچھ بھی نہیں ..کچھ کہانیاں ایسی نظر سے گزریں کہ تحریر میں تلخی آگئی بہت معذرت قارئین ہم خاموش تماشائی ہیں. ہر محکمہ خباثت کی حدیں چھو رہا ہے ہم مجبور ہیں.. اللہ کے بندےجنہیں عبداللہ کہتے ہیں وہ بھی ہر محکمے میں موجود ہیں لیکن وہ ہمیں سوٹ نہیں کرتے اس لیے کھڈے لائین لگا دیے جاتے ہیں آپ آئین ٹوٹنے کو رو رہے ہیں یہاں تو انسانیت ٹوٹ رہی ہے اور کسی کو برا نہیں لگ رہا.جہاں یہ مقولہ عام ہو کہ وکیل نہیں جج کر لیتے ہیں اور یہ مقولہ نہیں حقیقت ہے میں بدقسمتی سے عینی شاہد ہوں. کچھ نہیں ہوگا. کچھ معاشرے کے پاگل نشاندہی کرتے رہیں گے دشمنی مول لیتے رہیں گے. سب سے برا وقت ہے کہ ہم دیکھ کر بھی خاموش ہیں .محترم قارئین جب درجہ چہارم کے ملازمین ,6,6 لاکھ دے کر کسی نہ کسی سیاستدان کے حکم پر بھرتی ہو تو باقی کیا رہ جاتا ہے. یقین کیجئے کہ ہر درخواست کا ریٹ فکس ہے جہاں جائز تنخواہ لینے کے لیے بھی رشوت دینی پڑے. جائیں خود تحقیق کریں. ارباب اختیار خود دیکھ لیں ڈاکٹر دیہاتوں میں بغیر کسی سیکیورٹی کے ڈیوٹی کر رہے ہیں.. جب دفتروں میں جائز کاموں کے لیے بھی رشوت دینی پڑے تو یاد رکھیں اللہ ہے بے شک اللہ ہے..حرام پہ پلی ہوئی ان کی اولادیں ان کے لئے امتحان بن جائیں گی. بس انتظار کریں. اللہ پاک سے بہتری کی دعا کے ساتھ
فیس بک کمینٹ

