آنچلکالملکھاری

راشدہ قاضی کے لئے محبت بھری تحریر ۔۔ ثمینہ اشرف

راشدہ قاضی ۔۔ ذہین آنکھیں ۔۔ کُشادہ پیشانی۔۔جادوئی انداز گفتگو۔۔۔ یہ ہے بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کی شان ، راشدہ قاضی
راشدہ قاضی کے نام سے میں شعبہ اردو میں داخلے سے پہلے ہی واقف ہو چکی تھی۔ میرے سابقہ تایا زاد اور موجودہ شوہر نامدار نے شعبہ اردو میں داخلے کی یقینی خبر کے بعد بارہا پیغام بھجوایا۔ ۔۔۔ کہ سرانوار صاحب کی رہبری میں راشدہ قاضی کو مٹھائی کا ڈبہ پیش کر کے سیاسی شاگردی اختیار کر لو۔۔۔ وہ پنجاب یونیورسٹی میں سیاسی وابستگی کو سیاسی علمبرداری تک نبھا رہے تھے اور محترم انوار صاحب “محبت فاتح عالم ” جیسے انسان سے ایک سیاسی ملاقات میں ناقابلِ فراموش لذت آفرینی سے آشنا ہوچکے تھے۔ مگر میں اپنے سادہ لوح باپ کی غمگین اور فکرمند آنکھوں کے باعث پیش قدمی نہ کرسکی ورنہ میں تو کسی ٹارزن سے کم نہ تھی۔
راشدہ قاضی اصلی ، سچے اور کھرے رشتوں کی نارسائی کا شکار رہی۔۔۔یتیمی تو صبر عطا کردیتی ہے۔۔۔ مگر پیاز کی طرح تہہ در تہہ پرتیں ہمیشہ کڑواہٹ بھرے آنسوﺅں سے آنکھ نم رکھتی ہیں۔۔۔ راشدہ کا بچپن داجل کی گلیوں میں آج بھی گھومتا ہے وہ ہمیشہ داجل کی یاد کے سفر میں رہتی ہے۔ وہ داجل کی فضاﺅں سے کبھی نکل نہیں سکی۔ جہاں بزرگوں کی شفقت ۔۔۔ روایتی طرزِ زندگی۔۔۔ قدامت پرستی اور جدت پرستی کی کشمکش۔۔۔ رشتوں کی کانٹ چھانٹ ۔۔۔۔ ماں کی ممتا کا ادھورا لمس ۔۔۔ باپ کی محرومی کا عکس آج بھی زندہ ہے اور سانس لیتا ہے۔
بچپن کی قیمتی یادوں میں قیمتی ترین یاد دادی کی ہوتی ہے۔ بیسنی لڈو، گُڑ والے چاول ، چاٹی کی لسی نانی کی یاد کا بونس ہیں۔ مگر نانی کی گود تو نانی کی ہی ہوتی ہے راشدہ کی نانی جاگیرداری کے کلف والے لباس میں ملبوس تھیں۔ محبت والی تو تھی مگر کیا کیجئے اِس کلف کو تلف کرنے کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہ تھا۔۔۔راشدہ کی دادی نے اسے بے حد پیار دیا بیٹے کی یاد سے بھری نمناک آنکھ کا تارا بنی رہی ۔ دادی اِس کی انگلی پکڑ کر “قادریہ دربار ” گگو آ جُلوں ” کہہ کر لے جاتی اِس کی منت اتارتی اور راشدہ قادریہ دربار کے پراسرار مذہبی رچاﺅ کی پرت پہن کر آتی۔
داجل کی سنڈریلا جس کو کھویا ہو مطلوبہ سُرخ جوتا تو مل جاتا مگر گھنگریالے بالوں والی سنڈریلا کا ذہنی پھیلاﺅ خود شناسی کا گھیراﺅ شہنشاہ فلپ کی قبولیت اور سنڈریلا کی “حوالگی” کے ساتھ تال میل نہ کھا سکا۔۔۔ اور شہنشاہ فلپ مرتبان میں لال تتلی کو قید نہ کر سکا۔۔۔ اور سنڈریلا اکیلی اکیلی تنہا تنہا۔۔۔ اپنے صحیفہ جاں میں بسی تنہائی اور ادھورے پن کی بلند و بالا چیخوں کو ضبط کر کے ایک لڑی میں پرو کر یادوں کی تجوری میں سنبھال کر رکھتی ہے۔
بلاشُبہ ۔۔۔اِنسانی رشتے اور ان کی قدریں زندگی کا “ناگُزیر” پہلو ہیں۔ ان کی سچائی سے انکار کفر ہے۔۔۔ نظام قدرت ہے خدا کسی کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ شعبہ اردو کے دل والوں میں یہ محبت بھرا رشتہ ایک انوکھی اور وکھری سی یک جہتی قائم کرتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے نرم و ملائم گداز مٹی میں لٹو۔۔۔ اور ڈوری اس کے گرد لپٹ رہی ہے اور وہ گھومتا ہی چلا جارہا ہے۔۔ اردو والے بھی اسی طرح محبت کی ڈوری میں بندھے گھومتے ہی رہتے ہیں۔۔۔ اب اردو والے اتنے بھی سادہ دل نہیں کبھی کبھی “بچہ جمورا گھوم جا” کہہ کر گھما دیتے ہیں۔
راشدہ قاضی محبت کے کھوجی کی طرح اردو والوں کو ڈھونڈتی ہیں۔ محبت بانٹتی ہیں۔ ہمیشہ کسی ساتھی کو ایم فِل کی تحریک دیتی ہیں۔ کسی بچے کو سکالرشپ کا راستہ بتاتی ہیں۔ کبھی دوستوں کو ایم ۔ اے کے تھیسس کی کتابی شکل کا مشورہ۔۔۔ اور کسی کو اُٹھو۔ جاگو۔۔۔ اور زندگی کی رفتار کو پکڑ کر بھاگو کا درس دیتی ہیں۔
غیر رسمی رشتوں سے محبتوں کی وصولی اور ان کا دل و جان سے احترام ہی راشدہ قاضی کی تشنگیوں کو سیراب کرتا ہے۔ مگر یہ احساس اور احسان غرور کے ساتھ تسلیم کرتی ہے۔ عزتِ نفس کی پاسداری راشدہ قاضی کا غرور ہے۔ محبت بھرے احسان کو اعزاز سمجھتی ہیں۔ زندگی کے سفر کو ماہر شہہ سوار کی طرح طے کرتی ہیں۔ کبھی کبھار تیز رفتار ی سے لگام کھینچ کر شانِ بے نیازی سے رواں دواں ہو کر اپنے ہمسفر کو بھی نظر انداز کردیتی ہے۔راشدہ قاضی کو زیرک قاضی کہنا غلط نہ ہوگا۔
میاں بیوی کا رشتہ ایک ترازو کی طرح ہوتا ہے۔ اب ایسا بھی نہیں کہ عورت ہی مظلوم اور لاچار و بے بس ہوتی ہے۔ مگر مرد کا پلڑا ہمیشہ بھاری ہوتا ہے۔۔۔ بے شک اس میں نفرت اور لاپرواہی کے کنکر ہی کیوں نہ ہوں۔۔۔ عورت کو اپنے پلڑے کے توازن کی بحالی کیلئے ایثار محبت قربانی کے بٹے ڈالتے ہی رہنا پڑتے ہیں۔ راشدہ کی زندگی کا یہ ترازو۔۔۔ راشدہ کی عزتِ نفس کے بوجھ کو برداشت نہ کرسکا۔ ایک پلڑے میں راشدہ کی ممتا عزت نفس اور بیٹے کی جذباتی اور قانونی ملکیت کے جملہ حقوق محفوظ کروانے کا وزن لیکر ترازو کے کنڈے سے الگ ہوگئی اور دوسرا پلڑا۔۔۔ محبتوں کی محرومی کو بھی خسارہ نہ سمجھ کر کرنسی نوٹوں کی گنتی میں اُلجھ کر رہ گیا۔ راشدہ ازدواجی زندگی کو دانش مندی سے نبھانے کی چابکدستی سے محروم رہی۔ گھر کے بنتے ہی نئے رشتے نئے ناطے عورت کی زندگی میں پیوستہ ہوجاتے ہیں۔ عورت کو پھر چابکدستی کے ہتھیار سے لیس ہوجانا چاہئیے۔ ۔۔ یہ چابکدستی ڈگریوں سے سیکھی نہیں جاسکتی۔ میری نظر میں اِس کے دو وسیلے ہیں۔
ایک اپنی ماں اور دوسرا اپنے اندر کی ماں۔ دوستوں۔۔۔ میں اب ذرا چابکدستی کی وضاحت کردوں۔
بسا اوقات محض ایک ہی دفعہ دنیا بھر کی سچی جھوٹی محبت سمیٹ کر آنکھ دبا کر شوہر کو یقین دلانا۔۔۔ کہ
“دُنیا میں سب سے زیادہ تم سے محبت “میں” ہی کرتی ہوں اور تم ہی وہ مرد ہو جسے دنیا میں سب سے زیادہ میں ہی چاہتی ہوں۔”
آرام نہ آنے کی صورت میں یہ فارمولا مختلف حیلوں بہانوں اور طریقوں سے آزماتے رہنا چاہیئے۔ آخر افاقہ ہوہی جاتا ہے۔ اور سچ مچ محبوب آپ کے قدموں میں نہ سہی ہاتھوں میں ضرور ہوتا ہے۔ راشدہ قاضی اس “تم اور میں”والی محبت بھری دھونس کو اپنا نہ سکی اور میں اور تم والے جھانسے کے ذریعے اپنے ساتھی کو ورغلا نہ سکی۔
زندگی کے سب سے برے کٹاﺅ کے بعد راشدہ میں سچ مچ تبدیلی آگئی ہے۔۔۔ اب راشدہ تعلقات نبھانے کے ہنر سے بخوبی آگاہ ہے۔ کمر کے پیچھے سے کوئی وار ہو یا براہِ راست جملہ۔۔۔ وہ سب کُچھ بھانپ لیتی ہے۔ وہ زندگی کی ٹھوکروں میں آکر کندن کیسے بنی؟ یہ وہ جانے اور ہمارا خُدا ۔۔۔ مگر میں سمجھتی ہوں کہ یہ سب مکتب کی کرامت کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ دراصل “آداب فرزندی ” کسی عورت کے بس کی بات نہیں۔ لہٰذا راشدہ گلے میں بندھی رسی کو قربان گاہ سے چھڑوا کر ۔۔۔ یہ جا ۔۔۔ وُہ جا۔
راشدہ کی زندگی کا سیاسی سفر دلیرانہ رہا۔ دراصل پاکستان کی سیاست “سرپرستی ” کے بنا ایسے ہی ہے۔ “جیسے کوئی مکان ہو دیوار کے بغیر”
پاکستان کے سیاسی نظریات کا ماخذ اسلامی نظریہ حیات ہے مگر اس موجودہ رائج نظام میں نہ کوئی نظریہ حیات ہے اور نہ ہی کوئی ماخذ حیات ہے۔ بس نظام سیاست منتشر اور متصادم بلکہ پوریاں تلنے والے بڑے سارے کڑاہے کی طرح کھلبلی ہی کھلبلی۔۔۔ اپنے مفاد کی بقاءکے لئے چھری مارنا سیکھو اور مارتے ہی چلے جاﺅ۔۔۔
راشدہ کی ایک پہچان اُستاد ہونا ہے۔ ان کی زندگی کا یہ پہلو میری آنکھ سے اوجھل ہے کیونکہ میں اسکی دوست ہوں شاگرد نہیں اور نہ ہی میں نے اسے کبھی اپنے ساتھ استادی کرنے دی۔ میرا اندازہ ہے کہ وہ یقیناً ایک اچھی استاد ہونگی۔ ان کی علمی ادبی گفتگو زندگی کے تجربات معاملہ فہمی سے ضرور ان کے شاگرد فیض یاب ہوتے ہوں گے۔ یقیناً اس مقدس پیشے کی ذمہ داریاں ہی اس کی پہلی ترجیح ہوں گی۔
کسی بھی تخلیق کار کی تخلیق سے اس کی ذات کا تجزیہ کرنا ایسا ہی جیسے آٹے والی چھلنی ے آٹا چھن کر پرات میں آگرے اور اس کی چھاچھ آپ کے ہاتھ میں رہ جائے۔ راشدہ کی تحریریں پڑھنے کے بعد غیر جذباتی پن کی چھاچھ میرے ہاتھ میں رہ گئی۔
راشدہ کو پُر آسائش زندگی پسند ہے ” سیلف میڈ ” انسان زندگی کو جی بھر کر جینا چاہتا ہے اور اسے زندگی کا لطف بھی جی بھر جینے میں ہی آتا ہے۔ پھر ُوہ ایک ایسی ماں بھی تو ہے جو اپنے بیٹے کوقیام و طعام کی پُر آسائش سہولت دینے کی خواہشمند ہے۔
راشد یقینا آٹھ د کتابوں کی تخلیق کار ہیں۔ بہت سارے مقالہ جات کی خالق۔۔۔ کانفرنسز میں لیکچرز دیتی رہتی ہیں۔ میرے لئے راشدہ کی شخصیت ان تمام اعزازات سے الگ مقام کی حامل ہے۔ وُہ ایک ایسی ماں ہے جو اپنے بیٹے کی جذباتی اور معاشی کفیل ہے۔
وہ دِن بھر اپنی زنبیل میں حق حلال کا دانہ پانی بھرتی ہے اور اپنے بیٹے کی آرزوﺅں، خواہشوں اور تمناﺅں کیلئے سنبھال رکھتی ہے۔

خُدا راشدہ اور اِن کے بیٹے کو ہمیشہ ایک دوسرے کی جذباتی کفالت کا پیش خیمہ بنائے رکھے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker