اختصارئےسرائیکی وسیبلکھاری

ابنِ صفی کی عمران سیریز زندہ رکھنے والا ہمارا ابنِ صفی ۔۔ سرور صمدانی

یہ اس دور کی بات ہے جب میں ایف اے کا طالب علم تھا اور ایک دن کسی کام سے ضلع کچہری میں والد محترم جناب تابش صمدانی کے چیمبر میں گیا۔۔ میں نے دیکھا کہ والد گرامی اور ایک وکیل صاحب چائے نوش فرما رہے تھے۔میں نے دونوں کو سلام کیا۔والد صاحب نے پوچھا انہیں جانتے ہو ؟ میں نے انکار میں سر ہلا یا تو کہنے لگے یہ وہی مظہر کلیم ایم اے ہیں جن کے ناول تم چپکے چپکے پڑھتے ہو اور جن کے ناول میں تمہارے تکیے کے نیچے سے وقتاً فوقتاً برآ مد کرتا ہوں تا کہ تم پڑھائی پر توجہ دے سکو ۔میں مظہر کلیم صاحب کو اپنے سامنے دیکھ کر یکدم خوشی سے اچھل پڑا ، اور پھر گرمجوشی سے ان کے ساتھ سے دوبارہ ہاتھ ملایا۔ پھر ان کے ساتھ گاہے گاہے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا ۔ 1995ء میں وکالت کا آغاز کیا تو میری ان سے روزانہ ہی ملاقات ہونے لگی ۔ ان سے کبھی بھی وکالت کے موضوع پر بات نہ ہوتی تھی ۔ موضوع عمران سیریز ہی ہوتا تھا۔میری اور رہبر صمدانی کی ان کے ساتھ گھنٹوں گفتگو رہتی تھی ۔ مجھے عمران سیریز کا چسکا ابن صفی کے ناولوں سے پڑا ، جب میں چھٹی کلاس کا طالب علم تھا ۔ گلگشت میں عباس لائبریری جانامیرا روز کا معمول تھا۔ابن صفی کے بعدمیں مظہر کلیم کو آج تک پڑھتا ہوں۔
مظہر کلیم کو کوئی مصنف مانے یا نہ مانے مگر وہ ایک بہت بڑے لکھاری تھے۔یہ بات درست ہے کہ عمران سیریز کے بانی ابن صفی تھے اور اس کے تمام کردار ابن صفی کے تھے۔مظہر کلیم خود بھی ابن صفی کے مداح تھے۔مظہر کلیم اور ابن صفی کا موازنہ کیا جاتا رہا ہے اور اس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں سکتا۔ ابن صفی کا اپنا انداز تھا اور مظہر کلیم نے اپنا انداز اپنایا ۔ انھوں نےجدید انداز میں دور حاضر کے واقعات پر مبنی ناول لکھے جبکہ ابن صفی نے پرانے دور میں جدید حالات کی نشاندہی کی۔مثلاً زیرو لینڈ کی تشکیل ، تھریسا، سنگ ہی فنچ اور ان کے مقابلے میں عمران بلیک زیرو، کرنل فریدی ، کپٹن حمید ، میجر پرمود جیسے لازوال کردار تخلیق کئے ۔ابن صفی کے انتقال کے بعد مظہر کلیم ان کے جانشین ثابت ہوئے اور مظہر کلیم نے کچھ اضافی کرداروں کے ساتھ لازوال ناول تحریر کئے ۔ابن صفی سے ایک دفعہ پی ٹی وی کے ایک پروگرام میں میزبان نے طنزیہ کہا کہ آپ اتنے بڑے ادیب ہیں مگر آپ کے ناول بڑی لائبریریوں میں موجود نہیں ہوتے۔ابن صفی نے مسکراتے ہوئے کہا میرے ناول قارئین کے تکیوں کے نیجے ہوتے ہیں۔مظہر کلیم کے ناول بھی تکیوں کے نیجے ہوتے تھے۔
مظہر کلیم کے جانے کے بعد عمران سیریز پڑھنے والے شاید اب کبھی دانش منزل کو آباد نہ دیکھ سکیں گے۔دیگر کردار وں عمران، صفدر ، جولیا، کیپٹن شکیل ، چوہان صدیقی ، تنویر ، کیپٹن حمید، کرنل فریدی ، میجر پرمود کے ساتھ ایکسٹو بھی گمنامی کی موت مر گیا۔مظہر کلیم کےساتھ ہی عمران سیریز بھی جو کہ ستر کی دہائی سے پڑھی جا رہی تھی اور جو ابنِ صفی کی وفات کے بعد بھی ختم نہ ہوئی تھی اب اپنے اختتام کو پہنچی۔ہمارا ابنِ صفی ، ملتان کا ابنِ صفی رخصت ہو گیا لیکن وہ ہمارے دلوں پر راج کرتا رہے گا ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker