شاہد مجید جعفریلکھاریمزاح

شاہد مجید جعفری کا مزاح پارہ : دعوت شیراز اور مسٹر نون غنہ!

خواتین و حضرات ہمارے ایک دوست ہوا کرتے تھے مسٹر نون ! یہاں میں نے ہوا کرتے تھے اس لیئے کہا کہ اب ان کی شادی ہو گئی ہے موصوف کے بارے میں ایک بات بتا دوں کہ شادی سے قبل آپ جناب خاصے دبنگ ، ہٹے کٹے اور خود کو بڑی ‘ چیز ” سمجھا کرتے تھے اس توپ نما چیز کو جس سوکھی سڑی اور منحنی سی جان نے ‘چیز ‘ سے “ناچیز” بنایا وہ ان کی منکوحہ تھی جسے بیوی کہتے ہیں ۔اس سلسلہ میں وہ اپنی داستان درد سناتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عقد کے فوراً بعد بیگم نے ان کے نون سے نقطہ نکال دیا تھا اس لیئے اب وہ نون سے نون غنہ بن گئے ہیں۔ابھی کل ہی کی بات ہے کہ وہ مفتی صاحب سے اس بات پر شرعی فتوٰی لیتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ کیا شادی کے بعد بیوی کو میاں کے ساتھ گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹانا چاہیئے کہ نہیں؟ موصوف سے اگر پوچھا جائے کہ آپ شادی سے پہلے کیا کرتے تھے؟ تو آپ جناب چھاتی پھلا اور سینہ تان کر کہتے ہیں کہ جو میرا دل کرتا تھا جب پوچھا جائے کہ اب کیا کرتے ہیں؟ تو اس سوال پر وہ نگاہ نیچ کیئے گردن جھکا کر کہتے ہیں جو ‘وہ ‘ کہتی ہیں۔ لیکن اگلے ہی لمحے وہ اپنی خودی کو بلند کرتے ہوئے یہ بھی فرماتے ہیں ہر چند کہ کوئی بھی مائی کا لعل جس نے اپنی ماں کا دودھ پیا ہو چاہے وہ کتنا ہی اولوالعزم، پیکر شجاعت صاحب ہمت و جرات کیوں نہ ہو۔ بقائمی ہوش و حواس اپنی منکوحہ کے سامنے آواز نہیں نکال سکتا لیکن جناب نون غنہ صاحب اپنی داستان شجاعت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اتنے سارے لوگوں میں صرف انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ لاکھوں ہزاروں شادی شدہ افراد میں فقط وہ ہی اتنے جری و بہادر پائے گئے ہیں کہ انہوں نے ایک نہیں بلکہ پورے دو دفعہ بیوی کے سامنے آوازنکالی تھی ۔یوں انہوں نے ہمت مرداں سے کام لیتے ہوئے داستان بہادری میں اپنا نام سنہری حروف میں رقم فرمایا ہے (اگر یہ بات سچ ہے تو انہیں ستارہ جرات دینے کی پر زور سفارش کی جاتی ہے (منجانب ؛ انجمن حقوق مظلوم شوہراں) لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے تیسری دفعہ آواز کیوں نہ نکالی؟ تو وہ دبے الفاظ میں کہتے ہیں اللہ جانتا ہے میں نے تیسری دفعہ بھی آواز نکالی تھی ۔۔لیکن اس دفعہ میری آواز کو بیگم صاحبہ نے سن لیا تھا۔ پھر کیا ہوا ؟ ہر چند کہ اس کے بارے میں راوی ابھی تک خاموش ہے لیکن تمام شادی شدہ حضرات اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ پھر کیا ہوا ہو گا۔ اس سلسلہ میں دریا کو کوزہ میں بند کرتے ہوئے مصرعہ عرض ہے اے محبت تیرےانجام پہ رونا آیا۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ کچھ دن قبل مسٹر نون غنہ میرے پاس تشریف لائے اور باتوں باتوں میں کہنے لگے کہ حال ہی میں انہوں نے شیرازی صاحب کی کتاب دعوت شیراز اپنے جیب خرچ سے خریدی ہے جسے پڑھ کر انہیں بہت ہنسی آئی ۔ اس پر میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا اور قدرے تیز آواز میں بولا اوئے گھامڑ آدمی ! مزاحیہ کتاب پڑھ کے آدمی کو ہنسی ہی آتی ہے اور کیا کوہ قاف سے جن اترتے ہیں؟ اس پر اس شادی شدہ بندے نے (کہ جس کی بیوی نے اس کے نون سے نقطہ نکال کے اسے نون غنہ بنا دیا تھا) سہم کر میری طرف دیکھا اور پھر آبدیدہ ہو کر کہنے لگا یار پلیز مجھ سے اتنی اونچی آواز میں بات نہ کیا کرو کہ خواہ مخواہ ہی میرا “تراہ” نکل جاتا ہے اور پتہ نہیں کیوں بیگم صاحبہ یاد آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ ماجرا دیکھ کر میں نے انہیں کافی حوصلہ دیا۔یوں میری تسلی و تشفی دینے سے وہ کچھ نارمل ہوئے اور پھر کہنے لگے۔ یقین کرو بھائی میں نے بڑے بڑے جید قسم کےمزاح نگاروں کی کتابیں پڑھیں ہیں لیکن سچ پوچھو تو انہیں پڑھ کر ہنسی کی بجائے مجھے تو ہمیشہ رونا ہی آیا ہے۔اس پر میں کہنے ہی لگا تھا کہ ایسی کتابیں اپنی بیوی کے سامنے نہ پڑھا کر۔ لیکن پھر یہ سو چ کر چپ رہا کہ مرے کو کیا مارنا ۔دوسری طرف اتنا کہہ کر مسٹر نون غنہ تھوڑا سرک کر میرے قریب ہوئے اور بڑے ہی متجسس لہجے میں کہنے لگے۔ ایک بات تو بتاؤ یہ شیرازی صاحب بندے کیسے ہیں؟ اس پر میں ان سے بولا وہ بہت کمال آدمی ہیں اور باتیں ایسی کرتے ہیں کہ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔ پھر بات میں وزن ڈالتے ہوئے بولا اگر تم ان کے پاس دومنٹ کے لیئے جاؤ تو بہت دیر سے اُٹھو گے میری بات سن کر مسٹر نون غنہ جھٹ سے بولے لیٹ اُٹھنے کا مطلب ۔۔کیا وہ چائے بہت دیر سے منگواتے ہیں؟
شکر ہے ایسے موقعوں پر ہم جیسوں کی راہنمائی کے لیئے پہلے ہی بزرگ کہہ گئے ہیں کہ جواب جاہلاں باشد خاموشی ۔سو میں نے ان کی اس بات پر سکوت فرمایا۔ البتہ اسے ایسی نظروں سے ضرور دیکھا جیسے میں ان پر تبرا بھیجتے ہوئے کہہ رہا ہوں کہ تُف ہے تمہاری سمجھ پر ۔۔ ۔ ۔اس خاموشی کے دوران اچانک ہی وہ کہنے لگے چھڈ یار ان کے بارے کوئی اور بات بتا تو میں ان سے بولا وہ صاحب علم آدمی ہیں اوران کے اس علم کی وجہ سے کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے کہ سب چھوڑ چھاڑان کے پاس رہ کر علم کی پیاس بجھاؤں تو نون غنہ صاحب کہنے لگے پھر تم جاتے کیوں نہیں؟اس سے قبل کہ میں ان کی بات کا جواب دیتا خود ہی کہنے لگے تم اس لیئے نہیں جاتے نہ کہ روٹی کا بندوبست اپنا کرنا پڑے گا؟ نون غنہ کی اس بات پر مجھے بڑا غصہ آیا اور میں ان سے بولا تم روٹی کی بات کر رہے ہو تو کان کھول کر سن لو وہ تو اتنے اچھے انسان ہیں کہ اکثر محلے کے کتے بلیوں کو کھانا ڈالتے ہوئے پائے گئے ہیں میری بات سن کر وہ چونک کر بولا کیا واقعی شیرازی صاحب محلے کے کتے بلیوں کو کھانا ڈالتے ہیں؟ تو میں جھٹ سے بولا اس میں کوئی شک ہےکیا ؟ تب اس نے بڑی ہی معنی خیز نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا پھر توتمہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں فوراً ہی بات کی تہہ تک پہنچ گیا اور بغلیں جھانکتے ہوئے بولا۔ تو بیٹھ میں چائے لے کر آتا ہوں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker