شاہد مجید جعفریلکھاریمزاح

شاہد مجید جعفری کا مزاح پارہ : پیر ککڑ شاہ کے نام مریدِ نامراد کا خط!

بخدمت جناب حضرت قبلۂ عالم ،مجدد منورہ ، کعبۂ حاجات، قبلۂ مرادات، سجادہ نشیں خندہ جبیں پیر دل نشیں، مرشد عالم محبوب اہل سکر جناب پیر ککڑ ( شاہ صاحب) !
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! ہزار بار قدم بوسی، دو سو بار نیازمندی، تین سو بار ادائے آداب بندگی، عاجز، غلام ،غلامان کمترین، کنیزک زادہ مسکین ، آپ کا دل دادہ یعنی کہ غلام ز ادہ کچھ دنوں سے مبتلائےغم ہوا جاتا ہے کھانا صبح کھاتا ہے نہ رات کو من بھاتا ہے کمترین کچھ عرصہ قبل بغرض ملاقات آستانہ عالیہ حاضر آیا تھامگر آپ کو موجود نہ پایا تھااس لیئے جناب چھوٹے ککڑ شاہ صاحب کو اپنا دکھڑا سنایا تھا سن کے جنہوں نے دل بہلایا تھا۔حال کچھ پیچیدہ و نہایت سنجیدہ ہے ایک حسینہ کہ مار گزیدہ ہے دہن دریدہ ہے نام جس کا حمیداں ہے اس پہ بندہ کا دل دھک دھک گیا ہے یعنی کہ بندہ مر کھپ گیا ہے۔
احوال واقعی کچھ یوں ہے کہ دل گھوں موں ہے گزشتہ ماہ عرس کے موقع پر بوقت دھمال اس ماہ جبیں نے مجھے دیکھ آنکھ ماری تھی بندے پہ یہ ضرب سخت کاری تھی ۔ میں اس ادا پر قربان ہو گیا یعنی کہ دل لہو لہان ہو گیا ۔پھر ایک اور حادثہ ہوا۔ مطلب یہی سلسلہ ہوا۔ ہم دونوں سائیں لنگڑے کی ڈالی پر دھمال ڈال رہے تھے یعنی کہ بلاؤں کو ٹال رہے تھے ایسے میں پیر بھائی نے جیب میں ہاتھ ڈالا۔اور دس کا نوٹ ہوا میں اچھالا، جہاں تک نوٹ کا تعلق تھا ابھی وہ ہوا میں ہی معلق تھا کہ بندہ نے جھپٹا مارا۔ عین اسی وقت وہ راحت جاں بھی اسی نوٹ پر جھپٹی ۔ پوزیشن کچھ ایسی بن گئی کہ ہم دونوں میں ٹھن گئی آدھا نوٹ اس کے ہاتھ اور آدھا میرے ہاتھ آ گیا تھا ۔ اسی دوران اس نے پھر وہی حرکت کی ۔یعنی کہ آنکھ مار دی ۔ مثل مشہور ہے کاروبار اپنی جگہ اور محبت اپنی جگہ۔ چنانچہ فدا ہونے کے باوجود میں نے پیسہ ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ بلکہ اس سے بقیہ نوٹ بھی لے لیا۔ پھر اسے جیب میں ڈالا اور حسینہ پر سچے دل سے عاشق ہو گیا۔ اس سے اپنی محبت کا اظہار بہ تکرار کیا لیکن اسے نوٹ چھن جانے کا اس قدر غم تھا کہ اس نے لفٹ نہ کرائی۔بلکہ الٹا جوتی دکھائی ۔حالانکہ اس دن میں نے بوسکی کی قمیض ، چٹی شلوار اور آنکھوں میں سرمہ بھی لگایا تھا جبکہ کانوں میں (عطر والا) روئی کا گولہ بھی دبایا تھا۔لیکن اسے میری قدر نہ ہوئی یعنی کہ وہ ذرا بھی متاثر نہ ہوئی۔اس کے بعد میں جتنا بھی قریب ہوتا وہ اتنی ہی بعید ہوتی تھی ۔عجب بےقراری تھی طرفین میں کشمکش جاری تھی ۔ ایک دن کی بات ہے کہ میں چاچے چڑی کی دکان پر سائیکل میں ہوا بھر رہا تھا کہ سامنے سے وہ راحت جاں روح افزا آتی دکھائی دی ۔یہ دیکھ کر میں نے پمپ وہیں پھینکا اور سائیکل پر بیٹھ اس کے قریب جا پہنچا۔پھر کان پر ہاتھ رکھ گانا گایا۔آ جا نی بہہ جا سائیکل تے ۔میری آواز سن کر وہ ایک دم سے اچھلی اور بجائے سائیکل پر بیٹھنے کے۔ پہلے تو اس نے گالیاں از قسم مردانہ دیں پھر زنانہ گالیوں کی پوری ڈکشنری ہی اُلٹ دی۔ اس پر ہی بس نہ کیا بلکہ طیش میں آئی اور دھکا بھی دے دیا ۔یہ سب نصیبوں کا کیا دھرا تھا میں سائیکل سمیت کھلے مین ہول جا گرا تھا۔ گرنے کی وجہ سے جو چوٹ آئی تھی مجھے اس کی بے پرواہی تھی لیکن اصل خسارہ جس سے کوئی چارہ نہ ہوا وہ یہ کہ سائیکل کے کتے فیل ہو گئے ۔گویا کہ میرے پیسے تیل ہو گئے۔ نقصان ِ عظیم دیکھ کر دل خون کے آنسو رو یا ،میں نے محبت میں سائیکل کا کتا کھویا۔ لیکن پھر عشق کو سینے میں کاشت کیا حمیداں کی خاطر یہ بھاری نقصان برداشت کیا ۔
تنگ آ کر میں نے اپنا دکھڑا جناب چھوٹے ککڑ شاہ کو سنایا گویا کہ دل کھول کے دکھلایا۔تو انہوں نے بعد از نذر نیازمجھے ہدایت کی کہ اگر میں مسلسل سات جمعراتیں سر پہ خاک ڈالے دربار عالیہ پر دھمال ڈالوں اور اس کے ساتھ ایک کالا ککڑ پیر صاحب کو نذرِ آل کروں تو وہ حسینہ گھائل ہو جائے گی یعنی کہ میری طرف مائل ہو جائے گی۔
مقصد اعلیٰ کی خاطر میں نے سینہ زوری کیا یعنی کہ ہمسایوں کا مرغا چوری کیا لیکن بدقسمتی سے اس کا رنگ سفید تھا چنانچہ اپنے مقصد کا بول بالا کیا مطلب مرغے پہ رنگ کالا کیا۔اسے بغل میں دابے دربار شریف پہنچا ہی تھا کہ پتہ نہیں کیسے مرغا نکل بھاگا ۔بسیار تلاش کے بھی وہ بدبخت کہیں نہ ملا۔اسی طرح اگلی جمعرات کو دربار کے قریب ہی میری سائیکل میں پنکچر ہوگیا اور کوئی بدذات اس کا کئیریر بھی اتار لے گیا ۔اس سے اگلی دفعہ کسی ناہنجار نے سائیکل کی گھنٹی اتار لی اور میری نئی جوتی جو کہ ابھی پچھلے ہی جمعہ کو مسجد سے لایا تھا۔اُٹھا لے گیا۔ تواتر سے اپ شگن ہوتے دیکھ ،چھوٹے پیر صاحب نے مجھے مزار شریف پر آنے سے منع کر دیا کہ مبادا میری نحوست دربارِ ککڑ صاحب پر نہ پڑ جائے۔ تالیف قلب کی خاطر انہوں نے مجھے ڈیڑھ پاؤ بھنڈی دم کر کے دی اور فرمایا کہ میں اس کے گھر دے آؤں جیسے ہی وہ بھنڈی کھائے گی مبتلا ئے محبت ہو جائے گی۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا لیکن بدقسمتی سے اس وقت وہ ساتھ والے گاؤں گئی تھی چنانچہ دم شدہ بھنڈی اسکی دادی نے کھا لی۔یہ احوال دیکھ کر میں نے دوبارہ پیر صاحب سے رجوع کیا اس دفعہ انہوں نے مجھے بینگن پر 786 لکھ کر دیا اور تاکید کی کہ اسے گلے سے نہ اتاروں میں نے ایسا ہی کیا لیکن جانے کیوں ہمسائی نے بیگن کا سوال کیا تو اماں نے میرے گلے سے اتار دیا۔اس نے بیگن کا بھرتہ بنایا جو کہ اس کے ابا نے بڑی رغبت سے کھایا۔
عالی جاہ ! مزید کیا بتلاؤں کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں میرا دم گھبراتا ہے کلیجہ منہ کو آتا ہے داستان فراق قصہ طول طویل ہے زندگی کا بکھیڑا قلیل ہے ۔مختصر یہ کہ اس کی محبت میں چھکے چھوٹ گئے ہیں۔پسینے کے گھڑے سرپر پھوٹ گئے ہیں صورت حال یہ ہے کہ جب میں اس کی گلی میں جاتا ہوں تو بجائے حسینہ کے، درو ازے پر اس کی دادی کو کھڑا پاتا ہوں۔وہ مجھے میٹھی نظروں سے دیکھتی ہے یعنی محبت کے تیر بھیجتی ہے۔جبکہ ہمسائی کے والد الگ سے دل جلاتے ہیں وقت بے وقت مجھے پاس بلاتے ہیں سخت مشکل میں ہوں کیا کروں؟ نیلا تھوتھا کھا مروں؟ ۔
حضور والا شربت عنایت و معجون شفقت سے کام لیجیئے کوئی ایسا تعویز دیجئے کہ معشوق پردغا اس عاشق با وفا کی سائیکل پہ بیٹھ جاوے، امرود میری چاہت کا کھا جاوے ۔ تو میں تین جمعرات چھولے اور نان دوں گا ساتھ تین ککڑ بھی دان دوں گا۔ایک بار پھر قدم بوسی و نیازمندی، اور سو بار ادائے آداب بندگی۔
فقط
آپ کا تابعدار
عاجز مسکین لاشئ محمد یتیم چوچا
ادنیٰ سگ دربار معلیٰ غفاری پیرککڑ شاہ صاحب

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker