شاہد مجید جعفریلکھاریمزاح

شاہد مجید جعفری کا مزاحیہ مضمون : تھانیدار کا مطلب کیا؟

پیارے دوستو! پرانے زمانے سے دو دن پہلے کا واقعہ ہے آدھی رات کا وقت تھااور ہم سینما سے اس فلم کا آخری شو دیکھ کر آ رہے تھے جس میں ہماری پسندیدہ ہیروئن کے کڑکڑاتے رقص پوری آپ و تاب کے ساتھ موجود تھے اس ہیرؤین کے ڈانس دیکھ کر بندے سمیت پورا حال “پھاوا ” ہوا جا رہا تھا ادھر ہمارا یہ حال تھا کہ فلم ختم ہونے کے بعد بھی ہم اسی رقاصہ کے تصور میں گم شاداں وفرحاں گھر کی طرف چلے آ رہے تھے کہ اچانک ہمارے کانوں میں ایک نسوانی سی آواز گونجی ” رک جاؤ“ ۔چونکہ طبعاً ہم نہایت ہی خوش فہم قسم کے بندے واقع ہوئے ہیں اس لیئے امید بھری نظروں سے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک دیگ جتنی بڑی توند والے موٹے تازے تھانیدار صاحب معہ ”ہم توند“ سپاہیوں کے ہمیں پاس بلا رہے ہیں اپنے حسیں تصور کا یہ بھیانک انجام دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے ہی والا تھا کہ جناب کے غیض و غضب کو دیکھ کر سہم گئے ۔اور بلا چوں چرا تھانیدار صاحب کے پاس پہنچ گئے انہوں نے مجھے سر سے پاؤں تک غور سے دیکھا اور پھر بڑے ہی مشکوک لہجے میں بولے اتنی رات گئے کہاں سے آ رہے ہو ؟اتنے بڑے منہ سے باریک سی آواز سن کر ہنسی تو بہت آئی ۔لیکن چونکہ معاملہ سخت اور جان عزیز تھی۔اس لیئے لہجے کو عاجزی اور انکساری کا مکسچر بنا کر بڑی تابعداری سے بولے کہ جناب فلم دیکھ کر آ رہا ہوں اور بطور ثبوت سینما کا ٹکٹ بھی دکھا دیا تھانیدار صاحب نے جھپٹ کر ٹکٹ پکڑا اور ایک ماتحت کو تلاشی کا بولا کہ کہیں میرے پاس کوئی اسلحہ نہ ہو ۔ ہم کہنے ہی لگے تھے کہ قبلہ اگر ہمارے پاس اسلحہ ہوتا تو اس کی جگہ ہم آپ کی تلاشی نہ لے رہے ہوتے؟۔لیکن مصلحتاً چپ رہے۔ ادھر تھانیدار صاحب کا حکم سنتے ہی ایک ماتحت تیر کی طرح ہمارے پاس وارد ہوا اور اس نے کمال ہوشیاری سے تلاشی کے نام پر ہماری ساری جیبیں خالی کر دیں لیکن ہمارے پاس چند تعویذ بتاں کے سوا کچھ بھی نہ برآمد ہو سکایہاں تک کہ چند پیسے بھی کہ جو ان حالات میں جان چھڑانے کا ٹوکن ثابت ہو سکتے تھے یہ حال دیکھ کر تھانیدار صاحب کا لال پیلا ہونا بنتا تھا سو وہ لال پیلے ہوئے اور مناسب ڈانٹ ڈپٹ کے بعد ایک مختصر سا وعظ فرمایا خلاصہ جس کا یہ تھا کہ ہمیں رات کے وقت خالی جیب لے کر ہر گز نہیں پھرنا چاہیئے کہ زمانہ خراب ہے کوئی چور ڈاکو خالی جیب دیکھ کر آپ کو جانی نقصان بھی پہنچا سکتا ہے ہم نے ایک نظر ان کی طرف دیکھا اور پھر اس فقرے کی تائید میں ایک زوردار بیان جاری کیا پھر ان کے روبرو اظہار ندامت کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ آئیندہ سے خالی جیب پھرنے کا رسک نہیں لیں گےاور آخر میں یتیم سا منہ بنا کر ایک طرف کھڑے ہو گئے۔
ہم نے شکل ہی ایسی بنائی تھی کہ جسے دیکھ کر شاید پہلی دفعہ تھانیدار صاحب کا دل پسیج گیا ۔کہنے لگے اچھا بتا جانا کہاں ہے؟ہم نے اپنے علاقے بمعہ محلے کا نام بتایا جسے سنتےہی وہ خاصے پرجوش ہو کر بولے میں بھی وہیں رہتا ہوں اور فلاں صاحب کا نیا کرایہ دار ہوں۔اس تعلق داری کے بعد آپ بہت محبت سے پیش آئےاورپاس بٹھا کر ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔باتوں باتوں میں اچانک بولے تمہیں شعر و شاعری کا بھی کوئی شوق ہے؟اس پر ہمارے کان کھڑے ہوگئے اور چھٹی حس کچھ کہنے لگی۔۔۔ لیکن ہم تو لگے تھے تھانیدار صاحب کی خوشنودی حاصل کرنے۔ بھلا چھٹی حس پر توجہ کیسے دیتے، جھٹ سے بولے حضور بھلا شعر و شاعری کا شوق کس کافر کو نہیں ہوتا؟ سن کر خوش ہو کر بولے بندے تم سخن شناس لگتے ہو۔آؤ تمہیں اپنی نظمیں اور غزلیں سناؤں۔۔ایک تھانیدار اوپر سےشاعریہ سن کر حیران تو بہت ہوئےاور مروتاً بولے جی ارشاد۔ میرے ارشاد کہنے کی دیر تھی کہ تھانیدار صاحب نے خیمہ نما پتلون کی نجانے کس جیب سے کاغذوں کا ایک پلندہ نکالا اورشروع ہو گئے۔پہلے پہل تو ہم نے بڑے جوش کے ساتھ واہ واہ کی لیکن جلد ہی یہ واہ واہ آہ آہ میں بدل گئی وجہ یہ تھی کہ تھانیدار صاحب غزل جیسی نازک اور شاندار صنف کے ساتھ عین وہی سلوک فرما رہے تھے جو کہ ہر تھانے میں غریب آدمی کے ساتھ کیا جاتا ہےقصہ مختصر اس رات ہم نے تھانیدار صاحب کی شاعری سنی جبکہ اس دوران ان کا ماتحت عملہ اپنی ”خفیہ“ کاروائیوں میں مصروف رہا۔ ان کی بیاض سے بطور نمونہ کچھ تبرک یہاں درج کیا جاتا ہے سنیئے اور سر دھنئے
یادوں نے تانی چھتری ، میرا محبوب کھتری
کون کہتا ہے کہ مجھے گنتی نہیں آتی ، تری اکتری بتری
تو یہ تھی جناب تھانیدار صاحب کے ساتھ ہماری پہلی ملاقات کا حال۔جس میں ہم ان کے اشعار نہ صرف یہ کہ بڑی نیازمندی سے سنتے رہے بلکہ دل پہ پتھر رکھ کر بڑی ”چوکھی“ داد بھی دیتے رہے۔ تھانیدار صاحب کا اصل نام شاعرخان جبکہ ان کا تخلص تھانیدار تھا۔ یہ نام ان کے والد صاحب نے رکھا تھاجو خود بھی ماشاء اللہ شاعر تھےاور حوالدار تخلص کیا کرتے تھےحوالدار صاحب کا غیر مطبوعہ کلام استادامام دین سے کافی ملتا جلتا تھا۔چنانچہ ان کی وفات حسرت آیات کے بعد پولیس کی نوکری کے ساتھ ساتھ شاعری کا بوجھ بھی آن جناب کے بھاری کندھوں پر آن پڑا تھا جسے وہ بڑی چابک دستی کے ساتھ سر انجام دے رہے تھے۔ دیکھنے میں تھانیدار صاحب پوری دیگ لگتے تھے اور چلنے پھرنے میں رقبہ اتنا گھیرتے ہیں کہ اتنے رقبے میں تو تین مرلہ سکیم کے تحت ایک غریب آدمی کا فلیٹ بہ آسانی بن سکتا ہے۔اتنی تیزی سے پاکستان میں مہنگائی نہیں بڑھتی جتنی تیزی سے آپ فی البدیہہ شعر کہتے ہیں شعر بھی آپ یوں سناتے ہیں جیسےتفتیش فرما رہے ہوں چنانچہ ایک ہاتھ میں ڈنڈا پکڑ کر شعر سناتے ہیں اگر ڈنڈادستیاب نہ ہو تو سرکاری ریوالور پر ہاتھ رکھ کر شعر سناتے ہیں کہ اس طرح بندے پر شاعری کا رعب پڑتا ہے اور وہ داد دینے میں بخل سے کام نہیں لیتا۔
آپ خیر سے شادی شدہ بھی ہیں اور سات آٹھ بچوں کے اکلوتےباپ ہونے کے باوجود بھی اکثر دھائی دیتے پائے گئے ہیں کہ انہیں ابھی تک سچا پیار نہیں ملا۔جہاں تک ان کی بیوی کا تعلق ہے تو اللہ نے خوب جوڑی ملائی ہے ہرچند کہ وہ اندھی ہے نہ کوڑھی لیکن اس کے برعکس ایک سوکھی سڑی جلاد نما بیوی ہے دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر جی جلاتے رہے ہیں ہم تو آج تک یہی سمجھتے تھے کہ صرف شریف آدمی ہی اپنی بیوی سے ڈرتے ہیں لیکن شاعر صاحب کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ بعض تھانیدار حضرات بھی اپنی بیویوں سے نہ صرف ڈرتے بلکہ تھر تھر کانپتے بھی ہیں۔ بیگم صاحبہ کے پاس نجانے ایسا کون سا منتر ا ہے کہ ان کے سامنے تھانیدار صاحب کی نہ صرف سٹی گم ہو جاتی ہے بلکہ بعض اوقات پینٹ بھی ڈھیلی ہو جاتی ہے پوری کائنات میں بیوی واحد ایسی مخلوق ہے کہ جسے تازہ کلام سنانے سے کتراتے ہیں یوں سمجھیئے کہ اس موٹے تازے ہاتھی کی جان ہڈیوں کے ایک ایسے پنجر میں مقید ہے کہ جسے یہ اپنی دلہن بیگم کہتے ہیں مجال ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر ان کے گھر کا پتہ بھی ہل جائے رشتے میں یہ ان کی خالہ ز اد ہیں (لیکن اب بھوت زاد زیادہ لگتی ہیں ) ان سے نسبت بچپن میں ہی ہونا طے پائی تھی راوی بتاتا ہے کہ ان کی بیوی بچپن میں بھی پچپن کی لگتی تھیں بیوی کا ذکر کرتے ہوئے اکثر ہی ان پر رقت طاری ہو جاتی ہے اور ان کی پہلی اور آخری خواہش ہے کہ وہ کوئی کام ان کی مرضی کے بغیر کر سکیں ( بیوی سے اتنے ڈرتے ہیں کہ تنہائی میں بھی اسے چڑیل نہیں کہتے ) ایسے موقعوں پر میر کا ایک شعر نظریہء ضرورت کے تحت ترمیم کرے ضرور پڑھتے ہیں وہ شعر کچھ یوں ہے۔
ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے تھانیداری کی
جو چاہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
بیگم کا غصہ بھی ملزموں پر اتارتے ہیں ہاں جو بندہ ان کی ” خدمت “ کر دے اس کو کچھ نہیں کہتے بلکہ وہ ان کے لیئے وی آئی پی ہوتا ہےاس کے ساتھ وی آئی پی سلوک ہوتا ہے ملزم سے اس سلوک پر کبھی بھی شرمندہ نہیں ہوتے بلکہ دلیل کے طور پر اپنا مشہور و معروف قطعہ سناتے ہیں کہ جو ان کا منشور بن چکا ہے اورجس کی دھوم چہار سو تھانوں میں مچ چکی ہے ۔جو کچھ یوں ہے۔
تھانیدار کا مطلب کیا، مک مکا مک مکا۔۔۔۔حوالدرکا مطلب کیا، مک مکا ،مک مکا ۔۔سارا تھانہ واہ واہ ۔۔۔مک مکا، مک مکا۔
اور جو مک مکا نہیں کرتا اس کے لیئے ارشاد ہے پراں مر، حولات جا۔۔سو دوستو تھانے جاتے وقت تھانیدار حضرات کا مندرجہ بالا منشور ذہن میں رکھیں۔۔۔اگر نہیں تو۔۔۔۔ پراں مر دفعہ ہو جا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker