شاہد راحیل خانکالملکھاری

رمضان سے پہلے منافع خوری : شکریہ کورونا وائرس ۔۔ شاہد راحیل خان

چند دن پہلے جب کراچی میں کیماڑی سے نکلنے والی نامعلوم گیس سے لوگ مر رہے تھے اور صوبائی و مرکزی حکومتیں ، حسب دستور ان ہلاکتوں کاملبہ ایک دوسرے پر ڈالنے میں اسی طرح مصروف تھیں،جیسے کسی نامعلوم مقتول جس کا قاتل بھی نامعلوم ہوتا ہے، کی لاش پر تھانے کی حدود کے تعین کا جھگڑا ہوتا ہے ،میری بہو نے کراچی سے فون پر بڑے افسردہ لہجے میں بتایا کہ ایک سو پچاس روپے قیمت والا ماسک کا ڈبہ سات سو روپے میں مل رہاہے،تو مجھے بالکل بھی حیرت نہ ہوئی۔۔کہ میں اسلام کے نام پرلیلةالقدر کی رات قیام پذیر ہونے والے اس ملک خدادا دمیں بسنے والوں کے منافقانہ رویئے اور مزاج سے بخوبی واقف ہوں جو لیلةالقدر کے فیوض و برکات پر ہی اس ملک کو چلانے کے درپے ہیں۔
میں معاشرے کے اس عمومی رویئے اور مزاج سے اپنے آپ کو ہرگزمبرا نہیں سمجھتا ، میں بھی اسی سماج کا حصہ ہوں ۔میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو کسی کی موت پر رنج و الم کا اظہار کرنے اور مرحوم کی اعلیٰ صفات کا پرچار کرنے کے بعد نجی محافل میں گفتگو فرماتے ہوئے مرحوم کی زندگی میں کیڑے بھی ایک فرض سمجھ کرنکالتے ہیں۔
خیر۔اس جملہ معترضہ کے بعد، عرض یہ ہے کہ پیارے پاکستان میں لوگ زلزلے کی قدرتی آفت کا شکار ہوں یا تندو تیز سیلاب کی لہروں میں بہتے چلے جا رہے ہوں ، یا اب تازہ ترین افتاد کرونا وائرس کے عذاب کا خدشہ ہو۔ہمارے منافع خورہم وطن بھائی ہر موقع پر اپنے مصیبت زدہ بھائیو ں کی مدد کے لیئے تیار پائے جاتے ہیں،اس لئے کہ ہم زندہ قوم ہیں۔پائیندہ قوم ہیں۔ اسی زندہ دلی کے سبب ،سیلاب کے موقع پر بیرون ملک سے امداد میں آئی ہوئی اشیاءلٹے پٹے سیلاب زدگان تک پہنچنے کی بجائے ،تقسیم کنندہ سرکاری اہلکاروں کے ہاتھوں اونے پونے داموں ہمارے منافع خور بھائیوں تک پہنچ جاتی ہیں اور پھر یہ امپورٹڈ مال لوکل مارکیٹ میں” مناسب دام“ پر فروخت کر کے قومی فریضہ سر انجام دیا جاتا ہے۔۔
زلزلہ زدگان کے نام پر آنے والی امداد میں نہ صرف حصہ دار بنتے بلکہ مرتے ہوئے افراد کا مال و اسباب ، جس کا ملبے میں دبے رہنے سے خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، وہاں سے نکال کر اپنی ملکیت میں لے آتے ہیں۔مردہ خواتین کے ہاتھوں سے چوڑیاں ، کنگن اور کانوں سے بالیاں تک نوچنے والوں کے خیال میں ان مردہ جسموں کو مرنے کے بعد ان اشیاءکی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اب عام آدمی کو کیا دوش دیں۔وزارت عظمیٰ جیسے منصب و مرتبے پر فائز بھی تحفے امداد میں دیا گیا قیمتی ہار اپنی بیگم صاحبہ کے گلے کی زینت بنانے سے نہیں چوکتے۔ تو صاحب، بات یہ ہے کہ چوکتا کوئی بھی نہیں۔اور جب سے افغان مہاجرین کی امداد کے نام پر آنے والے مال کی بندش ہوئی ہے تو اس پر ہاتھ صاف کرنے والے تو بے چارے بالکل بے کار ہو چکے ہیں۔اور اب آتے ہیں اپنے منافع خور بھائیوں کے نفع نقصان کی طرف۔
بات اگر نفع نقصان کی ہو تو، اکنامکس جو نفع نقصان کا تعین کرتی ہے وہ تو ڈیمانڈ اور سپلائی کے اصول پر ہی چلتی ہے ۔یہ تو اکنامکس کا سیدھا سادہ سا اصول ہے کہ ڈیمانڈ کے مطابق اگر سپلائی نہیں ہوگی تومطلوبہ شے کی قلت تو ہو گی۔ایسی بھر پور ڈیمانڈ کے موقع پر اگر ہمارے منافع خور پاکستانی بھائی ، اپنا پہلے سے پڑا ہوا مال چھپا کر اور پھر اسے منہ مانگی قیمت پر ضرورت مندوں کو بیچ کر منافع کمالیتے ہیں تو یہ تو رزق حلال ہوا ۔۔اور ۔رزق حلال عین عبادت ہے۔اس بات کا ثبوت دلانے کے لئے ہر منافع خور بھائی نے ۔۔رزق حلال عین عبادت ہے۔۔لکھوا کر اپنی دکان میں لٹکایا ہوا ہوتاہے۔جسے پڑھ کر رزق حلال پر اعتراض کرنے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔ابھی تو معاملہ ادویات، آٹے، چینی کی ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے بعد ماسک تک پہنچا ہے۔ہمارے منافع خور بھائی اپنے چینی بھائیوں کے لئے دعا گو بھی ہیں کہ چینیوں نے کرونا وائرس کی صورت میں منافع خوری کا ایک سنہری موقع فراہم کیاہے۔حالانکہ یہ وقت تو اشیائے خورد و نوش اور خاص طور پر کھجور جیسی دیگر کئی اشیاءکو ذخیرہ کرنے کا تھاکہ رمضان المبارک کی آمد بھی قریب قریب ہے۔اور لیلةالقدر کی متبرک و مقدس رات بھی اسی ماہ مبارک کے آخر میں آتی ہے۔اس رات ہم پاکستان کی سلامتی کے ساتھ ساتھ اپنے ایمان کی سلامتی کی ڈھیروں دعائیں مانگیں گے ، خاص طور پر یہ جملہ کہ ۔۔ اے میرے اللہ مجھے ایمان پر موت عطا کرنا ۔۔ہماری ہر دعا کا لازمی جز ہو گا۔رمضان المبارک میں روزے بھی رکھیں گے ،تراویح کا انتظام، ختم قرآن پاک کا اہتمام اور افطاریوں کے اہتمام بھی خوب دینی جوش و جذبے سے دل لگا کر کریں گے ۔ اور آخر میں ذخیرہ کی ہوئی اشیا ءکی ”حلال کمائی“ سے لیلةالقدر کی رات مسجدنبویﷺیا بیت اللہ شریف میں عبادت کرتے ہوئے گزارنے اور گڑاگڑا کر معافیاں مانگنے کی خواہش کی تکمیل کا بھی انتظام کریں گے۔اوریوں گزشتہ سال کی کمائی کے منافع پر” رزق حلال عین عبادت ہے“ کا عملی ثبوت دیتے ہوئے آئیندہ سال کے رزق حلال کے لئے کمر بستہ ہو جائیں گے۔
لوگوں کا کیا ہے ۔لوگ تو ہر روز ہی مرتے ہیں۔سڑکوں پر۔ہسپتالوں کے برآمدوں میں۔غربت سے۔۔لاچاری سے۔ بیماری سے۔ بے روزگاری سے۔۔رہے نام اللہ کا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker