شاہد راحیل خانکالملکھاری

اور تو کوئی کام نہیں ، کرونا سے ہی لڑنا ہے ۔۔ شاہد راحیل خان

اپوزیشن کی سب سے توانا اور بلند آواز بلاول بھٹو زرداری نے جب کہہ دیا ہے کہ یہ تنقید کا وقت نہیں ، عمران خان ہمارے وزیر اعظم ہیں۔ تو پھر اور کسی کی کیا مجال کہ حکومت پر تنقید کرے۔ مگر ۔کیا کریں صاحب۔ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔یا ، یوں کہئیے کہ۔گھر میں فارغ بیٹھے ہیں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہے۔۔اور تو کوئی کام نہیں ، کورونا سے ہی لڑنا ہے۔۔گھر بیٹھنا ،کرونا سے بچاﺅ کے لیئے سب سے بہتر حفاظتی تدبیر قرار دی جا رہی ہے ،جبکہ ہسپتالوں میں ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹر حضرات کرونا سے لڑنے کے لیئے ۔ہر گھڑی تیار ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی حفاظت کے لیئے بھی کچھ ہتھیار مانگ رہے ہیں اور حکومت انہیں حضرت علامہ اقبال کا یہ پیغام سنا کر اس پر عمل درآمد کا درس دے رہی ہے کہ۔۔مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔۔
ایک شاعر کے لیئے اس بڑی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کے تصوراتی لفظی پیراہن کو عملی جامہ پہنا دیا جائے۔خیر۔ یہ سرکاری ڈاکٹروں اور سرکار کا معاملہ ہے۔۔گڑ جانے تے گٹھلی جانے۔۔ٹیوٹر حکومت کا ہم عوام کہلانے والوں کے لیئے بھی بین السطور پیغام یہی ہے کہ۔۔جاگدے رہنا۔ساڈے تے نہ رہنا۔۔
کرونا، جو بلا بھی ہے وہ گزشتہ سال دسمبر کے آخر میں روئے زمین پر براستہ ہمارے دوست و مربی چین ، قدم رنجا فرما چکی تھی۔مگر ہماری ٹیوٹر حکومت نے نئے سال کے آغاز پر قوم کو نئے سال میں معاشی مسائل کے حل کی خوشخبری اسی طرح سنائی جس طرح نئی نویلی دلہن کو دلہا میاں ہی نہیں سسرال والے بھی آنے والی زندگی کے بہترین اور خوشگوار ہونے کی نویدیں سنا سنا کر اس کس کا دل لبھاتے ہیں۔جنوری میں قوم یہ لوریاں سنتی رہی۔اور فروری میں حکومتی احکامات پر ہر جگہ کشمیر کی آزادی کے نغمے اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے گونجتے رہے اور فروری کے آخری عشرے میں۔۔تیار ہو۔۔تیار ہیں۔۔جیسا نغمہ کرکٹ کے دیوانوں کے دل گرماتا رہا۔
مارچ آیا تو مارچ کی آٹھ تاریخ تک قوم عورت مارچ کی بحث سے لطف اندوزہوتی رہی۔ایک خاتون اور ایک ڈرامہ نگار نے مل کر ٹی وی چینلز پر خوب ڈرامہ کیا۔خوب شہرت کمائی ۔کرونا کو پاکستانی قوم اور ٹیوٹر حکومت کی مصروفیات کا علم تھا،پھر بھی کرونا نے چھبیس فروری کو ایک پاکستانی کے جسم میں داخل ہو کر اپنی آمد کی اطلاع دے دی کہ مبادا پاکستانی قوم اور حکومت یہ گلہ نہ کرے کہ ۔۔بھارت کی طرح کرونا بھی بغیر پیشگی اطلاع دیئے اشتعال انگیزی کرتے ہوئے ہمارے اجسام کی سرحدوں میں داخل ہوکر گولہ باری کرنے لگا ہے۔ اور ہمارے اجسام کی بہادر قوت مدافعت منہ توڑ جوابی حملہ کر کے کرونا کی اشتعال انگیز کاروائی کو ناکام بنانے اور بھاری نقصان پہنچانے کے لیئے اپنی جان کی بازی لگا رہی ہے۔
اپنی طرف سے”چتاونی“دینے کے بعد ،اب کرونا پوری طرح حملہ آور ہو چکا ہے اور ہماری مدافعتی قوتیں،افراتفری میں حفاظتی تدابیر اختیار کرنے میں مصروف ہو چکی ہیں۔ سب سے بڑی حفاظتی تدبیر ہے۔۔۔اللہ خیر کرے گا۔۔ دوسری اہم تدبیر کا نام ہے۔۔پاکستانیو گھبرانا نہیں ۔۔اور ۔۔تیسری تدبیر پھر حسب دستور ایک نعرے کی صورت میں یہ ہے۔۔۔کرونا سے ڈرنا نہیں ۔۔لڑنا ہے۔۔اور وہ بھی حضرت اقبال کے مومن سپاہی کی طرح۔۔بے تیغ۔۔
کرونا نے وفاقی حکومت کو مصروف دیکھ کر سب سے پہلے براستہ تفتان ، ہمارے صوبہ سندھ میں قدم رنجا فرمانے کا قصد کیا۔اور کرونا بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں گنگناتا ہوا ،آرام کے ساتھ اپنا سفر طے کرتے ہوئے سندھ کے میدانوں میں آکر خیمہ زن ہوگیا۔ وفاقی حکومت اورپنجاب حکومت ”ہنوز کرونا دور است“کے خیال سے دل بہلاتی رہیں۔ اور اب کرونا نے پنجاب کی صحت مند وزیر، وزیر صحت یاسمین راشد کی پھولی ہوئی سانس کی طرح وفاقی حکومت کے سمارٹ سے معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی سانس بھی پھلا دی ہے۔اور آپ جانتے ہیں کہ پھولی ہوئی سانسوں کی بحالی کے لیئے وینٹیلیٹرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ وینٹیلیٹرز کی کمی کا تو ساری پاکستانی قوم کو علم ہے۔لہٰذا حکومت کی طرف سے افراتفری میں کئے جانے والے اقدام بزبان خود یہ پیغام دے رہے ہیں ۔۔جاگدے رہنا۔۔ساڈے تے نہ رہنا۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker