انجلینا جولی جو کسی تعارف کی محتاج نہیں وہ ایک بار پھر پاکستان کے سیلاب زدگان سے یک جہتی اور ہمدردی کا اظہار کرنے اور ان کی عملی مدد کرنے کے لئے پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں آئی ہوئی ہیں جبکہ ہمارے وزیراعظم بھاری بھرکم وفد کے ہمراہ امریکہ میں موجود ہیں جہاں وہ اور ان کا وفد امریکہ میں مقیم پاکستانی صحافیوں کی طرف سے دی جانے والی اطلاعات کے مطابق دس ہزار ڈالر روزانہ فی کمرہ بمعہ دیگر اخراجات والے ہوٹل میں رہائش پذیر ہو کر دنیا سے پاکستانی سیلاب زدگان کے لئے مدد کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ڈالروں میں یہ اخراجات پاکستانی اشرافیہ کے وہ حکمران کر رہے ہیں جن کے بقول ڈالروں کی قلت کی وجہ سے پاکستان دیوالیہ ہونے والاہے ۔۔مگر یہ اشرافیہ امریکہ میں "دیوالی کے چراغ”جلا رہی ہے۔
انجلینا جولی دو ہزار دس کے سیلاب کے دوران بھی انسانی ہمدردی کا جذبہ لئے پاکستان آئیں تھیں وہ ایک نامور فنکارہ رہی ہیں مگر وہ اپنے سابقہ دورے کے بعد یہ احساس لئے واپس گئیں تھیں کہ پاکستانی اشرافیہ ان سے کہیں بڑی فنکار ہے۔انجلینا جولی نے اپنے دورے کے بارے میں مرتب کردہ رپورٹ میں پاکستانی اشرافیہ کی "فنکاریوں”سے پردہ اٹھایا تھا۔انجلینا جولی کو اس دور کے وزیراعظم کی طرف سے وزیراعظم ہاؤس میں دی جانے والی پرتکلف دعوت اور اس دعوت میں شرکت کے لئے وزیراعظم کے اہل و عیال کا خصوصی طیارے پر اسلام آباد آنا یاد رہا۔انجلینا جولی جو ایک غیر مسلم خاتون ہیں ان کے لئے یہ بات نہ صرف افسوس بلکہ حیرت کا باعث تھی کہ "اخوت و بھائی چارے” کو اپنے دین کا اہم جزو قرار دینے والے ملک میں ایک طرف بھوک کا شکار سیلاب زدگان زندگی کی انتہائی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور دوسری طرف پاکستانی اشرافیہ کے وسیع دسترخوان اور اعلٰی معیار زندگی ۔۔
گزشتہ دنوں سیلاب زدہ علاقوں کے دورے پر آئے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھی ایسا ہی تاثر لے کر واپس گئے کہ "پاکستانی اشرافیہ کو اپنے مصیبت زدہ عوام کی کوئی پرواہ نہیں”۔۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے سامنے سیلاب زدہ علاقوں میں بھی حکمران اشرافیہ کی آمد پر سرخ قالین بچھائے گئے ۔
ترکی کے صدر طیب اردگان اور ان کی بیگم صاحبہ نے دو ہزار دس کے برعکس اس بار خود پاکستان آنے کی بجائے جہاز کے ذریعے سیلاب زدگان کے لئے امداد بھیجنے پر اکتفا کیا۔ترکی کی خاتون اول کو یقیناً اپنے گلے سے سیلاب زدگان کی امداد کے لئے اتار کر دیا گیا اپنا وہ ہار یاد آتا ہو گا جو سیلاب زدگان کے کام آنے کی بجائے اس دور میں پاکستان کی خاتون اول کے گلے کی زینت بنا رہا۔دو ہزار دس میں ترکی کے صدر کی آمد کا ایک بہت بڑا فائدہ مظفرگڑھ کے قریب لق و دق صحرا میں ایک اچھے اور معیاری ہسپتال کے قیام کی صورت میں آج بھی مظفرگڑھ اور اس کے گردونواح کے لوگوں کو صحت کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔اگر ترکی کے صدر کا پاکستانی اشرافیہ پر اعتماد قائم رہتا تو وہ سیلاب سے اس بار ہونے والی تباہی پر آ کر ممکن ہے ایسا کوئی اور شاندار منصوبہ سیلاب زدگان کو دے جاتے۔
اس بار سیلاب زدگان کی امداد کے لئے غیر ملکی اور ملکی سرکاری امداد سے پہلے خاص طور پر وسیب کے مصیبت زدہ بہین بھائیوں کی مدد کے لئے وسیب سے تعلق رکھنے والے سماجی تنظیموں کے کارکن اور درد دل رکھنے والے زن و مرد انفرادی طور پر وہاں وہاں پہنچے جہاں اب تک سرکار نہیں پہنچ پائی۔تین خواتین جن میں ڈاکٹر زری اشرف رضوانہ تبسم درانی اور راشدہ بھٹہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں مردانہ وار سیلاب زدگان کی مدد کے لئے دشوار گزار علاقوں تک جا پہنچیں۔خواجہ مظہر السلام صدیقی رب نواز مونس اور چوہدری محمد یاسین ایڈووکیٹ نے امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔۔الخدمت فاؤنڈیشن اور اخوت کے ڈاکٹر امجد ثاقب تو ایسے کار خیر میں ایک نام و مقام رکھتے ہیں۔اگر پاکستان نامی ایٹمی قوت غیر ملکی امداد اور خیرات سے ہی چلانا ہے تو اس کی باگ ڈور پاکستانی اشرافیہ کے ہاتھوں سے لے کر ملکی و غیر ملکی سماجی تنظیموں کے حوالے کر دی جائے تو ضرورت مندوں کو بر وقت کچھ تو ریلیف ملے۔۔
فیس بک کمینٹ

