شاکر حسین شاکرکالملکھاری

کمالِ فن ایوارڈاور ڈاکٹرجمیل جالبی: کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے 2017ءکے قومی ادبی ایوارڈز اور کمالِ فن ایوارڈ 2017ءکا اعلان کر دیا گیا۔ جس کے تحت انجینئر عامر حسن سیکرٹری قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن نے جنابِ ڈاکٹر جمیل جالبی کو 2017ءکا کمالِ فن ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا۔ کمالِ فن ایوارڈ ہر سال کسی بھی ایک پاکستانی اہلِ قلم کو اُن کی زندگی بھر کی ادبی خدمات کے طور پر دیا جاتا ہے۔ اس ایوارڈ کا اجرا 1997ءمیں کیا گیا جس کے تحت احمد ندیم قاسمی، انتظار حسین، مشتاق احمد یوسفی، احمد فراز، شوکت صدیقی، منیر نیازی، ادا جعفری، سوبھو گیان چندانی، ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، جمیل الدین عالی، محمد اجمل خان خٹک، عبدﷲ جان جمالدینی، محمد لطف ﷲ خان، بانو قدسیہ، محمد ابراہیم جویو، عبدﷲ حسین، افضل احسن رندھاوا، فہمیدہ ریاض اور امر جلیل کو کمالِ فن ایوارڈز دیئے گئے۔
ڈاکٹر جمیل جالبی کی شخصیت اور خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ وہ یکم جولائی 1929ءکو سہارن پور میں پیدا ہوئے۔ مثنوی کدم راؤ پدم راؤ کا متن مرتب کرنے پر جامعہ سندھ نے ڈی لٹ کی سندتفویض کی۔ انہوں نے پاکستان کی سول سروس کا امتحان پاس کرنے کے بعد انکم ٹیکس سروس کو جوائن کیا اور کمشنر انکم ٹیکس کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ وہ یکم ستمبر 1983ءسے لے کر یکم ستمبر 1987ءتک کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے جبکہ 1987ءسے 1994ءتک مقتدرہ قومی زبان کے صدر نشین رہے۔ اُردو ڈکشنری بورڈ کے 1991ءسے لے کر اب تک اعزازی صدر ہیں۔ انہیں حکومتِ پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ ”ہلالِ امتیاز“ بھی 1994 ءمیں ملا۔ انہوں نے چالیس کے قریب کتب لکھیں جن میں تراجم اور تدوین بھی شامل ہیں۔ ہم نے ڈاکٹر جمیل جالبی کا مختصر سا تعارف اس لیے دیا کہ اُردو ادب کے نئے پڑھنے والوں کو علم ہو کہ جب حکومتی سطح پر کسی کو ادب کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا جاتا ہے تو اس کے پیچھے اُن کی زندگی بھر کی ریاضت کو دیکھنا پڑتا ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ ڈاکٹر جمیل جالبی 1990ءکی دہائی میں جنابِ عاصی کرنالی کی کتاب ’لبِ خنداں‘ کی تعارفی تقریب کے لیے ملتان آئے تو اس تقریب کی نظامت ہم نے کی تھی ۔ اُس زمانے میں وہ مقتدرہ قومی زبان کے صدر نشین تھے اور اُن کے علمی ادبی کام کی وجہ سے سینکڑوں لوگ صرف اُن کا خطاب سننے کے لیے اُس تقریب میں موجود تھے۔ ہم نے اُن دنوں دیکھا کہ اُن کے ہاں عجز، انکسار اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ علم و ادب سے جو محبت کا اظہار انہوں نے جو اپنی گفتگو میں کیا وہ آج بھی اہلِ ملتان کو یاد ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں یہ بتایا کہ مَیں نے اپنی کتاب ’ارسطو سے ایلیٹ تک‘ کے دیباچے میں لکھا ہے:
”مَیں نے آج تک کوئی کام کسی کی فرمائش پر نہیں کیا …. سوچنا، پڑھنا اور لکھنا میرے لیے زندگی کی سب سے بڑی سرگرمی ہے۔ زندگی بسر کرنے اور اس سے لطف اندوز ہونے کا ایک مثبت طریقہ ہے۔ اس لیے مَیں جو کچھ لکھنا چاہتا ہوں وہ اسی کیف اور فکر و احساس کے ساتھ لکھتا ہوں جس سے ایک ناول نگار لکھتا ہے۔ شاعر شعر کہتا ہے، مصور تصویر بناتا ہے، مفکر اظہارِ خیال کرتا ہے …. اک ایسے دور میں جب ادب و فکر کا کاروبار چمکانے کے لیے لکھنے والے تاشے، باجے کا استعمال کرتے ہیں میرا طریقہ کار یقینا صبر آزما ہے۔ لیکن میرا خیال ہے، کام خود خوشبو ہے، جو نہ صرف باقی رہتی ہے بلکہ جب آتی ہے تو سارے وجود کو تازہ کر جاتی ہے…. واضح رہے کہ علم و فکر کا کام صرف سکھانا نہیں ہے بلکہ پڑھنے والے کے ذہن کو حرکت میں لانا ہے …. کوئی بڑا کام تنقیدی شعور کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتا۔“
اسی تقریب میں انہوں نے ڈاکٹر عاصی کرنالی کی کتاب پر بھی خوبصورت مضمون پڑھا۔ تقریب کے بعد جمیل جالبی ادیبوں شاعروں میں گھل مِل گئے۔ کسی نے اُن سے پوچھا کہ آپ کی صحت کا راز کیا ہے؟ کہنے لگے کہ مَیں غیبت سے پرہیز کرتا ہوں تاکہ میری صحت ٹھیک رہے۔ کسی نے اُن سے پوچھا کہ آپ کا تنقیدی و تحقیقی کام بہت زیادہ ہے یقینا آپ کی لائبریری بھی بہت بڑی ہو گی۔ کہنے لگے اب تک میری لائبریری میں تیس ہزار سے زیادہ کتب موجود ہیں اور ان کتابوں کا کوئی کیٹیلاگ بھی موجود نہیں ہے لیکن اس کے باوجود مجھے اُن تیس ہزار کتابوں میں جب کسی بات کی ضرورت پڑتی ہے تو مَیں دو منٹ میں وہ کتاب تلاش کر کے خوش ہو جاتا ہوں۔
اُردو کے عہد ساز نقاد، ادیب، شاعر سلیم احمد نے کئی مرتبہ ڈاکٹر جمیل جالبی کو دیکھ کر کہا کہ ہم اور ہمارا کام زندہ نہیں رہے گا البتہ ڈاکٹر جمیل جالبی ادب میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ سلیم احمد کی یہ بات اس لیے بھی سو فیصد درست ہے کہ ڈاکٹر جمیل جالبی نے اپنی زندگی میں اُردو ادب کو جس طرح کی کتب دی ہیں جن میں خاص طور پر پاکستانی ثقافت کے موضوع پر ’پاکستانی کلچر‘ مطبوعہ 1964ءکو اس موضوع پر پہلی کتاب کہا جاتا ہے اور اس کتاب کے بعد ڈاکٹر وزیر آغا اور حسن عسکری نے اس موضوع پر قلم اٹھایا لیکن جو بات ڈاکٹر جمیل جالبی کے ہاں تھی وہ اُن کی کتب میں نہ مل سکی۔ اُن کی لکھی ہوئی تاریخِ ادبِ اُردو آج بھی پی ایچ ڈی، ایم فل اور ایم اے کے طالب علموں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے مشکل موضوعات کا انتخاب کر کے اُردو میں تراجم بھی کیے جو اُردو زبان میں اس سے پہلے نہ ہوئے تھے۔ وہ گزشتہ 65 برس سے علم و ادب کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ہماری دُعا ہے کہ وہ تادیر سلامت رہیں اور اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے2017 کا کمالِ فن ایوارڈ دینے پر چیئرمین اکادمی ادبیات سیّد جنید اخلاق، جیوری کے اراکین ڈاکٹر فہمیدہ حسین، حفیظ خان، ڈاکٹر تحسین فراقی، ڈاکٹر نذیر تبسم، محترمہ پروین ملک، ڈاکٹر توصیف تبسم، ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، ڈاکٹر رؤ ف پاریکھ، محمد ایوب بلوچ اور ڈاکٹر روبینہ شاہین کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے کمالِ فن ایوارڈ کے لیے ایک ایسی شخصیت کا نام انتخاب کیا جس کے بعد کمالِ فن ایوارڈ حقیقی معنوں میں کمال کی بلندیوں پر پہنچ گیا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker