شاکر حسین شاکرکالملکھاری

قسور گردیزی کی کمی کیوں محسوس ہوتی ہے ؟ کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

گزشتہ برس مَیں نے لکھا تھا کہ اگر قسور گردیزی اس دنیا سے کوچ نہ کرتے اور خدانخواستہ موجودہ حکومت کا حصہ ہوتے تو کس طرح عوام کو مطمئن کر پاتے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جو شخص لباس پہننے میں کھدر کو ترجیح دیتا تھا، کھانے پینے میں سادہ خوراک اور سیاست میں ایمانداری کو منشور بنا کر چلتا تھا تو اس کے لیے پروٹوکول کی کیا حیثیت ہوتی۔ اچھے لباس کے ساتھ فوٹو سیشن اور کھانے کی میز پر لوازمات کی بھرمار اس کے لیے کوئی معنی نہ رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال جب سیّد قسور گردیزی کی برسی آتی ہے تو مجھے ایک بات شدت سے پریشان کرتی ہے کہ ہمارے ملکی سیاسی منظرنامے میں قسور گردیزی جیسا کوئی اور کیوں نہیں؟ حتیٰ کہ اُن کے خاندان میں بھی اُن کے نقشِ قدم پر چلنے والا کوئی دوسرا قسور گردیزی دکھائی نہیں دیتا۔



وہ درویش منش انسان تھے، مٹی سے محبت کرنے والے اور دکھوں کو کم کرنے کا ہر وقت کوئی نہ کوئی منصوبہ ذہن میں رکھتے کہ شاید اُن کی وجہ سے معاشرے میں کوئی تبدیلی آ جائے۔ وہ انسان کی توقیر کرانا چاہتے تھے۔ ان کے ہاں جو تبدیلی کا نعرہ تھا اس میں منافقت اور دہرا معیار قطعاً نہ تھا۔ وہ جیسا دِکھتے تھے ویسے ہی وہ اپنے گھر میں ہوتے تھے اور دوستوں میں بیٹھ کر اور بھی درویشی اوڑھ لیتے تھے۔ جیل گئے تو جیل کی زندگی کو انہوں نے اپنے لیے اعزاز جانا۔ سیاست میں آئے تو اثاثے بیچ کر سیاست کی۔



وہ عجیب وضع کے شخص تھے جو معاشرے میں تبدیلی چاہتے تھے لیکن اکیلا آدمی کس طرح تبدیلی لا سکتا ہے جس کا ایک ایسے خاندان سے تعلق تھا جو رئیس ابنِ رئیس کہلاتا تھا۔ وراثت میں کئی مربعے زمین ملی لیکن حیرت کی بات ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کے لیے ایک بہت بڑی لائبریری وراثت میں چھوڑی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے بچوں میں نیک نامی اور خدا ترسی کا ترکہ بھی وقف کیا۔



قسور گردیزی کا تعلق پنجاب کے اس علاقے سے تھا جہاں پر صرف محرومیاں راج کرتی تھیں۔ لیکن اس سب کے باوجود سید قسور گردیزی کا قلم اور ان کی زبان کبھی بھی پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہوئی۔ وہ پاکستان کی محبت میں اس انداز سے گرفتار تھے کہ اگر انہوں نے اپوزیشن کی سیاست کرنی ہوتی تو حکومت وقت کو مطعون کرتے لیکن پاکستان اور قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں ہمیشہ اپنے خیالات ارفع و اعلیٰ رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ مَیں ہر سال ستمبر میں سیّد قسور گردیزی کو یاد کرتا ہوں کہ ان کی شخصیت کے ہیولے کے سامنے نہ صرف اپنے آپ کو چھوٹا محسوس کرتا ہوں بلکہ اسی تناظر میں جب آج پاکستان کی سیاست دیکھتا ہوں تو پھر سیّد قسور گردیزی کی یاد کی شمع مزید روشن ہو جاتی ہے۔ اسی لیے ملکی سیاست کے منظرنامے میں جب سیّد قسور گردیزی جیسے لوگوں کی کمی دیکھتا ہوں تو پھر احساس ہوتا ہے کہ ہم نے رائیگانی کے جس سفر کو اپنا منشورِ حیات بنا رکھا ہے وہ تو صرف وقت کا ضیاع ہے۔



یہ بھی کتنی عجیب بات ہے کہ سیّد قسور گردیزی کبھی اقتدار میں نہیں رہے لیکن عوام اور خواص ان کا برابر احترام کرتے تھے۔ ملکی سیاست میں اب جس طرح کے لوگ آ رہے ہیں ان کی حالت بھی شاعری کے ایس ایم ایس جیسی ہے ان میں کوئی بھی بزنجو، بھٹو، قسور گردیزی، ولی خان جیسا نہیں۔ اب جو لوگ ہم پر مسلط کیے جاتے ہیں ان پر تو پھر کبھی لکھوں گا فی الحال سیّد قسور گردیزی کے بارے میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ انہوں نے اپنی اکہتر سالہ حیات میں کبھی کوئی ایسا کام نہ کیا جس پر انہیں شرمندگی ہوئی ہو۔



دوسری طرف ان کو سیاسی جدوجہد میں ایوبی اور ضیاءکی آمریت ملی۔ اس دوران جن ان کو بھٹو کا اندازِ حکمرانی پسند نہ آیا تو وہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ یعنی ساری زندگی سیاست کی وادی میں گزار دی۔ جہاں پر طویل اور تھکا دینے والے مقدمات اور انسانیت سوز سزائیں جھیلیں۔ پوری زندگی سیاست دانوں کے ساتھ بسر کی لیکن نہ لوٹے بنے اور نہ ہی کسی نے بکا ؤ مال کہا۔ کہیں پر ہارس ٹریڈنگ کا حصّہ نہ بنے۔ البتہ ملتان میں ٹریڈرز کے لیے چیمبرز آف کامرس قائم ضرور کیا۔ اپنا کاروبار پوری ایمان داری سے کیا اور خسارہ بھی اُسی انداز میں برداشت کیا۔ جس طرح انہوں نے اپنی سیاست کی یعنی ان کی پوری زندگی اس بات کی غماز رہی کہ طاقت کو کریں سجدہ یا سچ کا بھریں دم یہ راز اب بھی تشریح طلب ہے۔



ان کی تاریخ پیدائش 6 ستمبر اور تاریخ وفات 11 ستمبر ہے جو آج پاکستان کے تناظر میں بڑی اہمیت کی حامل تاریخیں ہیں۔ سیّد قسور گردیزی نے اپنی زندگی ترقی پسند جدوجہد کے لیے گزاری اور کامیاب رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مَیں جب بھی حضرت شاہ یوسف گردیز کے مرقد پر جاتا ہوں تو پہلے سیّد قسور گردیزی کے فاتحہ کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مَیں اپنے آپ کو نظریاتی طور پر ان کے خاندان کے قریب جانتا ہوں کہ مجھے علم ہے سیّد قسور گردیزی نے اپنی زندگی جس انداز میں بسر کی اس طرح کی زندگی گزارنے والے اب اس دنیا میں نہیں آتے۔ اس لیے شاہ جی جیسے سیاست دانوں کی کمی پاکستان جیسے ملک کے لیے ہمیشہ محسوس ہوتی ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker