شاکر حسین شاکرکالملکھاری

راجو شاہ گردیزی :نذرانے وصول نہ کرنے والے سجادہ نشین ۔۔کہتا ہوں سچ/شاکر حسین شاکر

3 فروری 2020ءکی صبح جب اٹھا تو سوشل میڈیا پر ایک خبر بہت نمایاں طور پر گردش کر رہی تھی کہ جنوبی پنجاب کی معروف روحانی شخصیت ”خانقاہ حضرت شاہ یوسف گردیزؒ کے سجادہ نشین اور گردیزی خاندان کے سربراہ الحاج مخدوم سیّد محمد راجو شاہ گردیزی طویل علالت کے بعد ملتان میں انتقال کر گئے“۔ انتقال کے وقت اُن کی عمر 85 برس تھی۔ بظاہر یہ خبر عام آدمی کے لیے اتنی اہم اس لیے نہ تھی کہ وہ اس خطے کے واحد مخدوم و سجادہ نشین تھے جو خانقاہ حضرت شاہ یوسف گردیز کے متولی ہونے کے باوجود کوئی سالانہ عرس نہیں کیا کرتے تھے نہ اپنے مریدوں کو دیدار کرانے کے لیے نذرانہ وصول کرتے اور نہ ہی انہوں نے حضرت شاہ یوسف گردیز کے مزار کو محکمہ اوقاف کے سپرد کر رکھا تھا کہ ایسے تمام دربار جو اوقاف کی تحویل میں ہیں ان کے باہر لوہے کی ایک بہت بڑی تجوری دکھائی دیتی ہے اور اس تجوری کے ساتھ اوقاف ملازم اس تجوری کو چھڑی کے ساتھ کھٹکا کے زائرین کو اس میں پیسے ڈالنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ تمام مناظر ہم نے ہر اس مزار کے باہر دیکھے جس کا انصرام تواوقاف کرتا ہے لیکن سجادہ نشین وہ ہوتا ہے جس کو دین کے ساتھ ساتھ دنیا سے بھی بہت زیادہ رغبت ہوتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا اگر مطالعہ کریں توعلم ہوتا ہے کہ جہاں ایک طرف بڑے زمیندار، صنعتکار کازارِ سیاست میں سرگرم ہوتے ہیں تو اتنی ہی بڑی تعداد اُن سجادہ نشینوں کی ہے جو کسی نہ کسی ذریعے سے اولیائے کرام کے مزارات سے وابستہ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں صرف خانقاہ حضرت شاہ یوسف گردیز کے واحد سجادہ نشین ہوتا ہے جو نہ تو اپنی ذات کی تشہیر کرنا پسند کرتا ہے اور نہ ہی سیاست کے ذریعے مراعات لینے کا خواہشمند۔ کچھ ایسی ہی شخصیت مرحوم الحاج مخدوم سیّد محمد راجو شاہ گردیزی کی تھی جنہوں نے اپنے آپ کو اسلام کے لیے وقف کر رکھا تھا نہ دنیا کی کوئی خواہش نہ اختیارات کی طلب۔ آج کے دور میں اس طرح کے اللہ والے لوگ کہاں دکھائی دیتے ہیں کہ جنہوں نے اپنے آپ کو صرف عبادات تک مصروف رکھا یا گردیزی خاندان کی غمی خوشی میں دکھائی دیتے۔
مَیں نے گزشتہ چار عشروں میں یہ بھی دیکھا کہ اُن کے ہاں ملکی سربراہ سے لے کر غیر ملکی سفیر اور اعلیٰ عہدے داران ملاقات کے لیے تشریف لاتے رہے لیکن انہوں نے کبھی اُن ملاقاتوں کی نہ تو  تشہیر کی اور نہ ہی اُس سے کبھی دُنیاوی فائدہ اُٹھانے کی کوشش۔ دور کیوں جائیں ہمیں جنرل ضیاالحق کا وہ زمانہ یاد آتا ہے جب انہوں نے پورے پاکستان سے بااثر مذہبی، سیاسی اور سماجی لوگوں کا انتخاب کر کے مجلسِ شوریٰ تشکیل دی تو انہوں نے ملتان سے جہاں اور بہت سے ناموں کا انتخاب کیا وہاں پر الحاج مخدوم سیّد محمد راجو شاہ گردیزی کا نام بھی شامل کیا۔ حکومت کا پیغام لے کر اہلکار اُن تک آئے تو مخدوم صاحب نے انکار کر دیا جب مقامی انتظامیہ کا اصرار بڑھا تو پھر انہوں نے اپنے بھائی مخدوم احمد نواز گردیزی کو اس کے لیے نامزد کر دیا۔
یہ بات بھی دیکھنے کو ملتی ہے کہ گردیزی خاندان قیامِ پاکستان سے پہلے سے لے کر ملتان میں سیاست میں سرگرم تھا اور آج کے دن تک ہر حکومت میں اس خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد اہم عہدے پر فائز ہوتا ہے لیکن خاندانِ گردیز کے سربراہ ہونے کے باوجود وہ ایسے تمام جھمیلوں سے دور رہے جس میں اُن کی ذات کی تشہیر کا کوئی پہلو نمایاں ہوتا تھا۔ بچپن سے لے کر اب تک عید کی نماز ہو یا جمعہ کی ہم نے نماز کے بعد الحاج مخدوم سیّد محمد راجو شاہ گردیزی کو غریبوں میں گھلتے ملتے دیکھا۔ ان کی ہاتھ ہمیشہ اوپر ہوتا تھا۔ سیاہ عینک، سر پہ خوبصورت کیپ، گرمیوں میں سفید کرتا اور پاجامہ، سردیوں میں لانگ کوٹ اور دھیمے دھیمے انداز میں بات کرنے کا ڈھنگ، کہیں پر کوئی رعونت نہیں آنے والے سے جب ہاتھ ملاتے تو اس وقت تک ہاتھ نہ چھڑواتے جب تک ہاتھ ملانے والے ہاتھ نہ چھوڑ دیتا۔ سرائیکی اتنی خوبصورت بولتے کہ جی چاہتا کہ وہ بولتے رہےں۔ یادداشت اتنی بلا کی کہ کئی برس بعد بھی کسی کو ملیں تو آخری ملاقات کو یاد کرتے۔ ساری زندگی اندرون بوہڑ گیٹ میں گزار دی اور ہر بڑے آدمی کو اُن سے ملنے کے لیے اُس قدیم گھر میں آنا پڑا جو اُن کا آبائی گھر تھا۔
3 فروری 2020ءکی صبح جب اُن کے انتقال کی خبر ملتان میں پھیلی تو ہر شخص کا راستہ خانقاہ حضرت شاہ یوسف گردیز کی طرف تھا۔ وسیع و عریض صحن میں دریاں اور کرسیاں لگا دی گئی تھیں، ہر طرف سوگوار موجود تھے۔ گردیزی خاندان تو جمع ہی تھا لیکن شہر کے تمام نامور لوگ اُن کے بچوں کو پُرسہ دینے کے لیے جمع ہو رہے تھے۔ سہ پہر کو جب مَیں اُن کے بڑے بیٹے سیّد روشن علی گردیزی سے افسوس کرنے محلہ شاہ یوسف گردیز پہنچا تو عجیب منظر تھا مخدوم صاحب کے دیوان خانے کے مرکزی دروازے کھلے ہوئے تھے ملازمین دھاڑیں مار کر رو رہے تھے۔ امام بارگاہ حضرت شاہ یوسف گردیز میں داخل ہوا تو یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ مخدوم صاحب کے بچے کس جگہ بیٹھ کر افسوس لے رہے ہیں کہ اُن کی جدائی میں رونے والوں کی آوازیں چاروں طرف سے آ رہی تھیں۔ ہر شخص یہ سمجھ رہا تھا کہ اُس کے سر سے شجرِ سایہ دار اُٹھ گیا ہے۔ یہ بہت خوش بختی کی بات ہے کہ جب کوئی دنیا سے رخصت ہو تو ہر شخص یہ سمجھے کہ اس کا ذاتی نقصان ہوا ہے۔ مخدوم صاحب چلے گئے نہ دنیا کی رنگینی میں گم ہوئے نہ اقتدار کی راہداریوں میں دکھائی دیئے۔ اُن سے زیادہ ملاقاتیں عبادات کے مصلے پر ہوئیں۔ ملتان میں اُن جیسا نہ مَیں نے اپنی زندگی میں دیکھا نہ اُن کے بعد مخدوم صاحب جیسا دکھائی دیتا ہے۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے اور جاتے ہوئے اُس انجمن کو بھی ساتھ لے گئے جو صرف انہی سے ہی منسوب تھی۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker