سرائیکی وسیبشاکر حسین شاکرکالملکھاری

جب شیخ محمد فاروق نے احمد فراز کو وکیلوں سے اعزازیہ دلوایا : کہتا ہوں سچ ۔۔ شاکر حسین شاکر

جب سے مشال خان کا قتل ہوا تھا مجھے ملک کے نامور قانون دان، سابق رکن پنجاب بار کونسل اور سابق صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ملتان شیخ محمد فاروق بار بار یاد آتے رہے کہ وہ اپنی ذات میں ایک ایسی انجمن تھے کہ ان کے دسترخوان پر ہر مکتبہ¿ فکر سے تعلق رکھنے والے بڑی آزادی سے ہر موضوع پر بات کر لیتے۔ مشال خان کے قتل سے ایک ہفتہ قبل ان کے بیٹے ڈاکٹر عمر فاروق سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا تو مَیں نے حسبِ عادت شیخ محمد فاروق کی صحت کے متعلق پوچھا تو ڈاکٹر عمر کہنے لگا شاکر بھائی ان کی صحت اب پہلے جیسی نہیں رہی ہے لیکن پیرانہ سالی کے باوجود ٹی۔وی پر سیاسی پروگرام باقاعدگی سے دیکھتے ہیں۔ آپ اس سے اندازہ لگا لیں کہ ابو ٹھیک نہ ہونے کے باوجود ٹھیک ہیں۔ مَیں نے ڈاکٹر عمر سے وعدہ کیا جلد ہی ان کی عیادت کے لیے حاضری دیتا ہوں۔
20 اپریل 2017ء کا دن ایک بڑے فیصلے کے منتظر لوگوں کی اُمیدوں کے ساتھ طلوع ہوا تو دوپہر دو بجے سے قبل ہی قدرت نے ممتاز قانون دان شیخ محمد فاروق کی زندگی تمام ہونے کا فیصلہ سنا دیا۔ یوں سپریم کورٹ کے وزیراعظم نواز شریف کے متعلق فیصلے پر ایک خوبصورت تبصرہ کرنے سے قبل ہی شیخ محمد فاروق کو داعی اجل سے بلاوا آ گیا۔ زندگی کے 83 برس بسر کرنے کے بعد شیخ محمد فاروق وہاں چل دیئے جہاں سے کسی کی واپسی نہیں ہوتی۔
میری ان سے پہلی ملاقات آج سے تقریباً 25 برس قبل ہوئی۔ جب شہر میں ان کی وکالت کا طوطی بولتا تھا۔ ان کا گھر مسلم لیگی رہنمائوں کی ایسی آماجگاہ تھا جہاں پر انتخابات میں حصہ لینے والوں کا ہجوم رہتا تھا۔ ملتان وکلاء سیاست میں جس نے کامیابی حاصل کرنا ہوتی تھی وہ شیخ محمد فاروق کے چرنوں میں بیٹھ جاتا۔ ملتان لاءکالج میں بھی پڑھاتے رہے۔ شہر کی ہر سیاسی، سماجی اور ثقافتی تقریب میں بڑے اہتمام سے جاتے۔ ایک مرتبہ ملتان ہائی کورٹ بار نے احمد فراز کے ساتھ تقریب کی۔ مَیں نے نظامت کی۔ اس موقع پر شہر کے شعراء کے علاوہ وکلاءبرادری کے شعراءکرام نے بھی کلام سنایا۔ احمد فراز کے فن پر گفتگو کی گئی۔ آخر میں ان کا کلام بھی سنا گیا۔ مشاعرہ تمام ہوا۔ احمد فراز نے وکلاء کے ساتھ ڈنر کیا اور واپس ہوٹل چلے گئے۔ صبح ناشتہ پر ملاقات ہوئی تو مَیں نے پوچھا فراز صاحب رات آپ کو میزبانوں نے نے زادِ راہ پیش کیا تھا؟ کہنے لگے نہیں تو۔ مَیں نے شیخ فاروق صاحب کے بیٹے ڈاکٹر عمر فاروق سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ ابو کے ذریعے احمد فراز کے لیے زادِ راہ کا انتظام کریں۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر عمر نے فون پر بتایا کہ ابوجان کہہ رہے ہیں کہ ہائی کورٹ بار کے عہدے داران کا کہنا ہے کہ ہم نے ان کو کسی بھی قسم کا اعزازیہ دینے کا نہیں کہا تھا۔ تو اب احمد فراز کس بات پر تقاضہ کر رہے ہیں۔ مَیں نے تمام صورت حال سے احمد فراز کو آگاہ کیا تو احمد فراز فوراً کہنے لگے انہوں نے باقاعدہ مجھے لکھ کر نہ صرف دعوت دی اور مبلغ بیس ہزار کے علاوہ رہائش دینے کا بھی کہا تھا۔ مَیں نے احمد فراز سے دعوت نامے کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے اﷲ کرے وہ دعوت نامہ مَیں اسلام آباد سے ملتان لایا ہوں۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنے سامان سے ہائی کورٹ بار کی طرف سے وہ دعوت نامہ تلاش کر لیا جس میں معاوضہ، رہائش وغیرہ کا بھی ذکر تھا۔ اتنی دیر میں ڈاکٹر عمر بھی ہوٹل پہنچ گئے اس نے دعوت نامہ کی فوٹو کاپی کرائی اور اپنے ابو کو جا کر دی۔ شنید ہے کہ شیخ محمد فاروق نے ہائی کورٹ بار کے عہدے داروں کی نہ صرف سرزنش کی بلکہ انہوں نے بعد میں احمد فراز کو ڈرافٹ کے ذریعے ادائیگی بھی کروا دی۔
شیخ محمد فاروق اپنے گھر میں تراویح بڑے اہتمام سے پڑھاتے تھے۔ پھر 27ویں رمضان المبارک کو ختم مبارک کے موقع پر اپنے تمام دوستوں کو جمع کرتے۔ ختم قرآن کے بعد وہ تمام حاضرینِ محفل کی تواضع پُرتکلف عشائیے سے کرتے۔ تقریب میں ہر مسلک سے تعلق رکھنے والے احباب شریک ہوتے۔ اس ختم قرآن میں جب مَیں مسیحی برادری سے یونس لعل دین مرحوم کو دیکھتا تو بڑی حیرت ہوتی۔ شیخ صاحب بار بار ان کو آ کر پوچھتے کہ آپ نے کھانا کھا لیا ہے۔ یعنی ایک طرف ختم قرآن کے موقع پر شہر کے نامور لوگ دُعا میں شریک ہوتے تو دوسری جانب ان لوگوں کا بھی ہجوم ہوتا جو مذہب سے قدرے دور ہوتے۔ ایسے تمام احباب دُعا کے وقت ہاتھ تو اٹھا لیتے لیکن وہ دورانِ دُعا اپنی بات چیت بھی کرتے رہتے۔ شیخ محمد فاروق کے دسترخوان پر اس دن شیعہ، سنی، وہابی، اہلِ حدیث، عیسائی اور ہندو بھی اتنے ہی معزز ہوتے جتنا تراویح پڑھانے والے حافظ صاحب ہوتے۔ اس دن شیخ صاحب اپنے پوتے صائم کے ساتھ نئی سفید شلوار قمیض میں ہوتے۔ کھانے کے بعد ہر شریک کو جاتے وقت تبرک بھی دیتے۔ یوں ان کے ہاں ختم قرآن کی تقریب اتحاد بین المذاہب کا شاندار نمونہ ہوتی۔
پرویر مشرف کے زمانے کا ذکر ہے ان کے بڑے بیٹے ڈاکٹر عمر فاروق نے اپنے والدِ محترم سے کہا ابو جان میرے سینئر کولیگ زبیر شفیع غوری (نامور محقق اور ماہر آثار قدیمہ) کو ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ سننے میں آیا ہے متعلقہ مجسٹریٹ آپ کا شاگرد ہے۔ آپ اُس سے جا کر کہیں کہ وہ میرٹ پر فیصلہ کرے۔ شیخ محمد فاروق اگلے دن ہی اپنے شاگر مجسٹریٹ کے پاس پہنچ گئے اور جا کر کہا کہ آپ جس شخص کو جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرنا چاہ رہے ہیں وہ میرے بیٹے کا نہ صرف دوست ہے بلکہ اُس کا افسر بھی ہے۔ مَیں غوری صاحب کو ذاتی طور پر جانتا ہوں اگر آپ فوجی افسران کے کہنے پر اُن کو گرفتار کرنا ہی چاہتے ہیں تو یہ بات سوچ لیجئے گا کہ مَیں سب سے بڑا کسٹوڈین بن کر سامنے آئوں گا۔ جس پر متعلقہ مجسٹریٹ نے کہا شیخ صاحب پہلے تو میری کوشش ہو گی کہ مَیں ناحق کسی کو گرفتار نہ کروں اور اگر کسی موقع پر میری نہ چل سکی تو پھر مَیں آپ کو چوبیس گھنٹے پہلے اطلاع کر دوں گا۔ آپ ضمانت قبل از گرفتاری کروا لیجئے گا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ اُس مجسٹریٹ نے اپنے محکمہ کے فوجی افسر کو بتایا کہ وہ ناحق کسی کو گرفتار نہیں کریں گے۔
گزشتہ کئی برسوں سے وہ چلنے پھرنے سے معذور تھے۔ پانچ چھ برس پہلے کی بات ہے کہ وہ خواجہ محمد شفیق (تاجر رہنما) کے گھر محفلِ میلاد میں شرکت کے لیے آئے تو مَیں نے ان سے کہا اب آپ اس کالونی میں آ گئے ہیں تو میرے گھر بھی تشریف لائیں۔ مجھے کہنے لگے کہ ایک شرط پر آئوں گا کہ مجھے چائے پلائو گے۔ مَیں نے بسم اﷲ کہا تو کچھ دیر بعد وہ شیر زمان قریشی کے ساتھ اپنی ویل چیئر سمیت آ گئے۔ گھر کو دیکھ کر دُعائوں سے نوازا۔ چائے پی اور رخصت ہو گئے۔ میرے بچوں کو وہ اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے تھے۔ عنیزہ بیٹی کی شادی پر شدید علالت کے باوجود آئے۔ ڈاکٹر عمر کا کہنا تھا کہ جب سے آپ شادی کارڈ دے کر گئے ہیں روز دریافت کرتے تھے کہ شاکر کی بیٹی کی شادی کب ہے؟ بیٹی کی شادی میں اس وقت تک موجود رہے جب تک رخصتی نہ ہو گئی۔ شیخ محمد فاروق سے سیاست پر بات کرنے میں بڑا لطف آتا۔ وہ پیدائشی مسلم لیگی تھے۔ پی۔پی کے بہت خلاف تھے۔ اخبار بھی صرف نوائے وقت پڑھتے۔ ایک دن ملنے گیا تو کہنے لگے تم نے میرے دوست حافظ اقبال خاکوانی کے بارے میں کالم لکھ کر اچھا نہیں کیا۔ مَیں نے کہا اگر وہ پارٹی تبدیل نہ کرتے تو مَیں وہ کالم بھی نہ لکھتا۔ میرا اتنا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا ”ہاں خاکوانی صاحب نے مسلم لیگ چھوڑ کر غلطی کی۔“ چند سال پہلے مجھے کہنے لگے آج کل آپ کا کالم نہیں آ رہا ہے۔ مَیں نے انہیں چھیڑتے ہوئے کہا مَیں نے آپ کے پسندیدہ اخبار میں لکھنا چھوڑ دیا ہے۔ اب ایکسپریس کے ساتھ وابستہ ہوں۔ اس پر کہنے لگے مَیں آپ کی خاطر ایکسپریس بھی گھر میں لگوا لیتا ہوں۔
20 اپریل 2017ءکی صبح جب میری آنکھ کھلی تو صبح کے نو بج چکے تھے۔ ڈاکٹر عمر فاروق کے پیغام کے ذریعے معلوم ہوا کہ شیخ محمد فاروق صبح دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ جس کمرہ میں ان کا انتقال ہوا اس کمرے کی چاروں دیواروں پر انہوں نے اپنے ذہین و فطین بچوں ڈاکٹر عمر فاروق، علی فاروق اور ڈاکٹر عائشہ کی مختلف اعزازات لیتے ہوئے تصاویر آویزاں کر رکھی تھیں۔ اہلیہ کا انتقال ہوئے ایک عرصہ ہو چکا تھا۔ ان کی ساری متاع یہ بچے ہی تھے جو اپنے اپنے شعبوں میں اپنے والد کا نام روشن کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ ملتان میں ایک ایسی شخصیت نے بھی کوچ کیا جس کے ہوتے ہوئے توہینِ مذہب کے جھوٹے الزام لگا کر کسی کی جان نہیں لی جا سکتی تھی کہ وہ چوہدری پرویز آفتاب، مرزا اکبر بیگ، عمر کمال خان، ملک محمد رفیق رجوانہ، عبداللطیف امرتسری، ملک ارشاد رسول، صاحبزادہ فاروق علی خان اور دیگر وکلاءکے ساتھ مل کر اپنی برادری کے وقار کے لیے ہر وقت کمربستہ رہتے تھے۔ وہ قانون کے رکھوالے تھے جس کے لیے انہوں نے بھاری قیمت بھی ادا کی۔ اہلِ ملتان نے ان کو پورے احترام سے رخصت کیا۔ اﷲ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے کہ اُن کی موت سے ملک ایک نامور قانون دان سے محروم ہو گیا۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker