سرائیکی وسیبشاکر حسین شاکرکالملکھاری

سانحہ احمد پور شرقیہ اور پیپلز پارٹی کی بے حسی : کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

عید سے ایک دن پہلے احمد پور شرقیہ میں آگ و خون نے جو کھیل کھیلا اب اس کے ذمہ داروں کا تعین کیا جا رہا ہے۔ اس حادثے کے بعد من حیث القوم ہم نے کیا کھویا کیا پایا؟ یہ سوال بڑا اہم ہے۔ سیاسی جماعتوں نے اس حادثے کو کس طرح لیا یہ بھی بڑی افسوسناک کہانی ہے۔ کسی بھی حادثے کے بعد پہلی اور آخری ذمہ داری حکومت پر آن پڑتی ہے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے وزیراعظم کا اپنا دورۂ برطانیہ مختصر کر کے احمد پور شرقیہ آ جانا ایک مستحسن اقدام تھا۔ لیکن کیا ہی بہتر ہوتا کہ وزیراعظم اپنے دورۂ احمد پور شرقیہ میں اپنے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب سے دریافت کرتے کہ جنوبی پنجاب میں کتنے برن یونٹ کام کر رہے ہیں۔ چودھری پرویز الٰہی نے اپنے دورِ وزارتِ اعلیٰ میں ملتان میں جو برن یونٹ بنایا تھا وہ مکمل طور پر فعال کیوں نہ ہو سکا؟ بہاولپور کے وکٹوریہ ہسپتال کا برن یونٹ کس حال میں ہے؟ لیکن افسوس وزیراعظم کے ذہن میں ایسی کوئی بات یا ایسا کوئی سوال نہ آیا۔
اب ذرا ملتان کے برن یونٹ کی کہانی بھی سن لیں۔ باقی باتیں بعد میں کرتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر کر چکا ہوں چودھری پرویز الٰہی جب وزیر اعلیٰ پنجاب بنے تو انہوں نے صحت، تعلیم اور سڑکوں کے معاملے میں ان علاقوں کا انتخاب کیا جہاں پر قیامِ پاکستان کے بعد کوئی کام نہیں ہوا۔ چودھری صاحب نے ملتان میں دل کا ہسپتال، چلڈرن ہسپتال اور برن یونٹ بنوایا۔ دل اور بچوں کے ہسپتال تو انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں شروع کر دیئے تھے۔ لیکن برن یونٹ کا معاملہ لٹک گیا۔ پرویز الٰہی کے بعد مسلسل دوسری ٹرن بھی میاں شہباز شریف کو ملی لیکن ان کی طرف سے ہمیشہ اس برن یونٹ سے بے اعتنائی برتی گئی۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب احمد پور شرقیہ والا سانحہ ہوا تو سب کو جنوبی پنجاب کے برن یونٹ یاد آنے لگے۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ راجن پور، رحیم یار خان، بہاولپور سے لے کر ملتان تک کسی بھی ہسپتال میں برن ہسپتال تو دور کی بات ہے کسی بھی ہسپتال میں برن یونٹ بھی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سانحہ احمد پور شرقیہ کو دو ہفتے سے زیادہ ہو گئے ہیں لیکن مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومتِ پنجاب نے غیر فعال برن یونٹ کو عارضی طور پر فعال تو کر دیا ہے لیکن اس یونٹ میں مریضوں کے لیے سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسی طرح بہاولپور کے وکٹوریہ ہسپتال میں بھی 2009ء کے بعد برن یونٹ کے لیے کوئی فنڈز نہیں آئے۔ کسی زمانے میں بہاولپور کے برن یونٹ کے فنڈ ہر بجٹ میں مختص کیے جاتے تھے۔ لیکن جنوبی پنجاب کے منتخب نمائندے جب ایوان میں جا کر اپنے لیے آواز ہی بلند نہ کریں تو پھر حکومت ایسے فنڈز کو لاہور میں ہی روک لیتی ہے۔ بیوروکریسی سے لے کر سیاست دان تک جنوبی پنجاب میں برن ہسپتال کے نہ ہونے کے سبھی ذمہ دار ہیں۔ حالانکہ ملتان کی طرح بہاولپور میں بھی 2009ء میں برن ہسپتال کی منظوری دے دی گئی تھی۔ بہاولپور کے برن ہسپتال کے لیے کئی مرتبہ پی سی ون لاہور بھجوایا گیا۔ لیکن تادمِ تحریر کچھ نہ ہوا۔ البتہ اس سانحہ کے بعد یہ ضرور ہوا کہ حکومتِ پنجاب کے مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق لاہور سے اپنے لاؤ لشکر کے ہمراہ بہاولپور تشریف لائے۔ وہاں آ کر انہوں نے حکومتِ پنجاب کے صحت کے منصوبوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ مشیر موصوف سے بھلا کوئی پوچھے کہ آگ سے انسانوں کے جھلس جانے کا حادثہ اگر جنوبی پنجاب کے کسی علاقے میں ہو تو کیا وہ علاج کے لیے لاہور کا رخ کرے۔ یعنی پہلے رحیم یار خان سے لاہور وہ کم از کم بارہ گھنٹے میں وہ لاہور کی سرزمین کو چومے، ایمبولینس کا کرایہ کہاں سے دے گا؟ لاہور میں دیکھ بھال کیسے ہو گی؟ وغیرہ وغیرہ۔
سانحہ احمد پور شرقیہ کے بعد نت نئے مباحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ کوئی سیاست دانوں کو اس کا قصوروار ٹھہرا رہا ہے تو کوئی جمہوریت میں خامیاں تلاش کر رہا ہے۔ کسی نے اس حادثے کی ذمہ داری آئل ٹینکر والے پر ڈالی ہے۔ اس حادثے کے بعد سب سے خوبصورت تبصرہ حکومتی رکنِ اسمبلی نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کی موجودگی میں کیا۔ ایم۔پی۔اے کا جملہ ملاحظہ فرمائیں:
’’95% جلا ہوا بندہ جب اسے یہ پتہ چلا کہ شہباز شریف اس کے لیے دُعا کرنے آئے ہیں وہ خوشی سے نہال ہو گیا۔‘‘
یعنی ڈاکٹری قانون کے مطابق 40% آدمی جھلس جائے تو اس کا بچنا محال ہوتا ہے۔ جبکہ 60% سے اوپر جھلسنے والے کا شمار نہ زندوں میں ہوتا ہے نہ مُردوں میں۔ جبکہ ملتان کے نامکمل برن یونٹ میں جتنے زخمی لائے گئے ان میں سے اکثریت زمین کا رزق بن چکے ہیں۔ ویسے ایم پی اے کا بیان اگر مَیں اپنے سامنے رکھتا ہوں تو پنجاب میں اگر ہر حادثے کے بعد میاں صاحبان صرف زخمیوں کی عیادت کر لیں تو زخمی ان کو دیکھ کر ہی صحت مند ہو جاتے ہیں۔
دیکھنے سے یاد آیا کہ جب احمد پور شرقیہ والا سانحہ ہوا تو سارے زمانے کے ساتھ بلاول بھٹو زرداری کا تعزیتی پیغام بھی ٹی وی پر نشر ہوا۔ اس کے ساتھ یہ بھی خبر آئی بلاول بھٹو عید کے دوسرے دن احمدپور شرقیہ آئیں گے وغیرہ وغیرہ۔
بلاول بھٹو زرداری تو تادمِ تحریر تعزیت کے لیے نہیں آئے کہ وہ سندھ جیسے دور دراز علاقے میں عید کی خوشی منانے میں مصروف تھے۔ ابھی تک ان کی عید ملن پارٹیاں چل رہی ہیں۔ بلاول تو دور کی بات ہے اس سانحہ کے بعد سیاسی جماعتوں میں سب سے زیادہ بے حسی پیپلز پارٹی کی طرف سے دیکھنے کو ملی۔ جس جگہ آئل ٹینکر سے آگ لگنے کی وجہ سے 200 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے اس علاقے میں پی پی کی طرف سے کوئی معروف رہنما بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے نہیں گیا۔ صرف ملتان کی سطح پر یوسف رضا گیلانی اور حامد سعید کاظمی وغیرہ نے نشتر جا کر خالی جگہ پُر کی۔ لیکن جائے وقوعہ پر پی پی کے لیڈروں کی غیر حاضری بتا رہی ہے کہ انہوں نے اگلا الیکشن کس لیے لڑنا ہے یعنی ہارنے کے لیے لڑنا ہے۔
یہ سانحہ ہمیں کیا بتاتا ہے؟ حکومت کے لیے کیا پیغام ہے؟ عوام کی مالی اور ذہنی حالت کیا ہے؟ ہم نے تعلیم کے پھیلاؤ کے لیے کتنا کام کیا ہے؟ مکتب اور منبر ناکام کیوں ہو گئے ہیں؟ لوگوں نے ملاوٹ شدہ پیٹرول کا کیا کرنا تھا؟ آئل ٹینکر کے مالک کے ساتھ اس علاقے کے لوگوں کو پسماندہ رکھنے والوں کے لیے بھی کوئی سزا ہونی چاہیے جس وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچے۔ کالم تمام کیا چاہتا تھا کہ 6جولائی کو نشتر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مصطفی کمال پاشا کی پریس کانفرنس کا متن سامنے آ گیا۔ جس میں وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ سانحہ احمدپور شرقیہ قومی سانحہ تھا۔ واقعہ کے بعد 58 مریض لائے گئے۔ اس کے بعد مزید 8 اور مریض لائے گئے۔ زیادہ مریضوں کی حالت ابتر تھی جن میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جو 80 سے 90 فیصد جلے ہوئے تھے۔ جبکہ ہمارے ہاں 50% جلے ہوئے کا بھی بچنا مشکل ہوتا ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے یونیورسٹی میں پروفیسرز یا دیگر سٹاف کی خالی اسامیوں کے بارے میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کے تحت 10 دنوں میں اسامیوں کے بارے میں اشتہار دے دیا جائے گا۔
وائس چانسلر نشتر یونیورسٹی کی پریس کانفرنس کے بعد ہم کیا عرض کریں کہ وہ حکومتی مشیر صحت کا مؤقف کہاں گیا کہ حکومت جنوبی پنجاب کے عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ ابھی خادمِ اعلیٰ نے نشتر کی خالی اسامیوں کو چیک کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے۔ پھر اسامیوں کا اشتہار آئے گا بھرتی کے لیے انٹرویو ہوں گے۔ یعنی ہنوز دلی دور است۔
ان حالات کو دیکھتے ہوئے عوام سے گزارش ہے کہ فی الحال کسی بھی آئل ٹینکر کا مالِ غنیمت لوٹنے سے گریز کریں کہ ابھی حکومت پنجاب عوام کو بچانے کے لیے انتظامات کر رہی ہے۔ ایسے میں عوام ایک دم موت کے منہ میں بھی جا سکتی ہے جس کا کم از کم معاوضہ 20لاکھ مقرر کیا گیا ہے۔

(بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker