یہ کہانی ہے اُس ”علی منزل“ (چاہ بوہڑ والا ریلوے روڈ ملتان) کی جہاں پر ہم 1981ءمیں خونی بُرج سے منتقل ہوئے تھے۔ یہ وہی خونی برج ہے جہاں پر سکندر اعظم جنگ لڑتے ہوئے زخمی ہوا اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر موت کی وادی میں اُتر گیا۔ جس گھر میں ہم منتقل ہوئے وہ ماضی میں حویلی کے طور پر جانا جاتا تھا اور علاقے کے بزرگ لوگ بتاتے تھے کہ اس حویلی میں ہندوستان کے ایک سابق وزیراعظم وی۔پی سنگھ پیدا ہوئے تھے۔ اُس کی تصدیق یوں بھی ہوتی ہے کہ چاہ بوہڑ والہ کو اس سے پہلے چوہدری نرائن سنگھ سٹریٹ کے نام سے پکارا جاتا تھا جو وی۔پی سنگھ کے دادا تھے۔
ہمارے بزرگوں نے اس حویلی کا نام ”علی منزل“ اس لیے رکھا کہ ہمارے دادا کا نام حاجی برکت علی تھا۔ اور ہمارے دادا ابو کے پاس وہی والا کمرہ تھا جس کے بارے میں یہ گمان کیا جاتا تھا کہ سابق وزیراعظم وی۔پی سنگھ اسی کمرے میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ علاقہ اب شہر کے گنجان آباد علاقوں میں تصور کیا جاتا ہے کہ کینٹ ریلوے اسٹیشن، صدر بازار، نشتر ہسپتال، دل کا ہسپتال، ڈیرہ اڈا اور ایئرپورٹ یہاں سے چند منٹوں کے فاصلے پر ہیں۔ چاہ بوہڑ والا کی یہ پراپرٹی میرے چچا حاجی عاشق حسین نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر خریدی۔ وقت گزرتا گیا تو اسی ”علی منزل“ کو توسیع ملتی گئی۔ پھر حاجی جعفر حسین، پروفیسر حسین سحر،میاں افتخار حسین، ڈاکٹر ذوالفقار حسین اور میاں عابد حسین نے اپنے اپنے گھر تعمیر کر لیے۔
اس گھر سے پہلا جنازہ ہماری پھوپھی ریاض بیگم کا اٹھا، اور اس کے بعد دادا ابو، دادی امی، مسز حسین سحر اور پروفیسر حسین سحر رخصت ہوئے۔ اس گھر میں میرے چچا افتخار حسین و چچا عابد حسین سعودیہ میں ہونے کی وجہ سے بہت کم مقیم رہے لیکن ان کے گھر موجود تھے۔ البتہ میرے والد جعفر حسین، پروفیسر حسین سحر، حاجی عاشق حسین اور ڈاکٹر ذوالفقار حسین کی اولادیں یہیں پر ہی پلی بڑھیں۔ اُن کی شادیاں ہوئیں۔ یوں علی منزل آہستہ آہستہ اپنے مکینوں کی وجہ سے بارونق ہوتا گیا۔
اب تمام مکینوں کی طرف سے یہ گھر چھوڑتے ہوئے مجھے دکھ اس لئے بھی ہوا کہ اس گھر کی درودیوار کے ساتھ بہت سے موسم دیکھے ۔ان موسموں میں کبھی قہقہے اور رنج کے لمحات دیکھے۔ اس گھر میں کبھی احمد فراز کی شاعری سنی تو کبھی مستنصر حسین تارڑ کے قہقہے گونجے ۔رضا علی عابدی سے بی بی سی ریڈیو کی یادیں سنتے رہے، تو اسی گھر میں ثریا شہاب سے پی ٹی وی کے خبر نامے کی کہانیاں سنی ۔یہ گھر اس اعتبار سے خوش قسمت بھی تھا کہ پروفیسر حسین سحر مرحوم کی وجہ سے عرش صدیقی،جابر علی سید، منوبھائی، اسلم انصاری، اسد اریب، مقصود زاہدی، حیدر گردیزی، اقبال ساغر صدیقی، ارشد ملتانی، غضنفر مہدی، حنیف چوھدری، عبدا لمجید ساجد، عاصی کرنالی، اقبال ارشد، اے بی اشرف، انوار احمد اظہر جاوید، انور سدید، حفیظ تائب، لالہ صحرائی، انور جمال، صلاح الدین حیدر، عامر فہیم، تابش صمدانی ،انور زاہدی اوراصغر علی شاہ سمیت سینکڑوں اہل علم علی منزل میں بارہا آئے۔
2008ءمیں جب میرے بچے بڑے ہوئے تو مَیں نے قاسم بیلہ میں سب سے پہلے گھر بنایا، علی منزل کے تمام مکین میرے اس فیصلے پر بظاہر تو خوش تھے لیکن اُن کو میرا علی منزل کو خیرباد کہنا اچھا نہ لگا۔ لیکن مجھے یہ فیصلہ اس لیے کرنا پڑا کہ اب علی منزل آہستہ آہستہ گنجان ہو رہا تھا۔ اس گھر سے منتقل ہو جانے کے باوجود مَیں روزانہ شام کو والدین کی قدم بوسی کرنے حاضر ہوتا تو سب سے ملاقات ہو جاتی۔ پھر 2015ءمیں میری چچی مسز حسین سحر کا انتقال ہوا، علی منزل کا ماحول ایک دم اداس ہو گیا۔ اگلے برس ستمبر 2016ءمیں پروفیسر حسین سحر بھی انتقال کر گئے۔ اب علی منزل میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلا گھر (جو پروفیسر حسین سحر کا تھا) ہر آنے جانے والے کو اُس کے مکینوں کی یاد دلانے لگا۔ ایسے میں سب سے پہلے پروفیسر حسین سحر کے بچوں نے وہ پورشن فروخت کیا ۔ کہ ان کے دونوں بیٹے بسلسلہ روزگار اسلام آباد اور دوبئی میں مقیم تھے ۔پھر علی منزل کے دیگر مکینوں نے بھی اصولی طور پر فیصلہ کر لیا کہ وہ اب یہاں سے کوچ کریں گے ۔اس کے بعد والدِ گرامی جعفر حسین بھی قاسم بیلہ میرے نواح میں منتقل ہوگئے۔ یوں علی منزل میں حاجی عاشق حسین، حاجی افتخار حسین اور میاں عابد حسین کے گھر رہ گئے لیکن عملی طور پر آخری مقیم حاجی عاشق حسین ہی تھے جنہوں نے گزشتہ ہفتے علی منزل کو خیرباد کہا۔
علی منزل کا وہ سفرجو 1981ءمیں شروع ہوا تھا وہ 2021ءاپریل تمام ہو گیا ۔اس موقعہ پر میری بھتیجی سیرت زہرا نے اپنے فیس بک پر علی منزل سے رخصت ہوئے جون ایلیا کا جب یہ شعر لگایا تو میرا ہاتھ بےساختہ دل پر گیا کہ سیرت زہرا ہم سب کی کس طرح ترجمانی کی۔
اُس گلی نے یہ سن کر صبر کیا
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں
۔ اس دوران علی منزل کے تمام مکینوں نے ایک بڑا صدمہ بھی دیکھا کہ حاجی برکت علی کے بیٹے حاجی افتخار حسین جو گزشتہ چار عشروں سے جدہ میں مقیم تھے نومبر 2020ءمیں کرونا کا شکار ہونے کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کا جسدِ خاکی ملتان لایا گیا، آبائی قبرستان حسن پروانہ میں تدفین ہوئی۔ اُن کے جاتے ہی میرے سب سے چھوٹے چچا میاں عابد حسین بھی مستقل ملتان منتقل ہو گئے۔ علی منزل میں اب درجنوں لوگ رہ رہے ہیں۔ لیکن اُن کے رہنے میں اور علی منزل کے سابقہ مکینوں میں ایک فرق واضح ہے کہ اب علی منزل کے رہنے والے ایک دوسرے سے لاتعلق ہیں۔ جبکہ اس کے سابقہ مکین ہر وقت ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہتےتھے۔ تمام تہوار مل کر مناتے تھے۔ بچیاں اور بچے علی منزل کی راہداری میں کبھی کرکٹ تو کبھی کیکلی کلیر دی کھیلتے تھے۔ خود مَیں نے بھی سائیکل علی منزل کی راہداری میں چلا نا سیکھا۔ علی منزل بظاہر ایک گھر تھا۔ ”تھا“ کا لفظ لکھتے ہوئے تکلیف بھی ہو رہی ہے لیکن کیا کریں اب بچے بڑے ہو رہے ہیں، اُن کو الگ گھروں کی ضرورت ہے ایسے میں 1981ءمیں خریدا ہوا علی منزل نئے دور کے بچوں کی ضروریات کیسے پوری کر سکتا تھا۔ اس لیے جب علی منزل کے آخری مقیم عاشق حسین نے اس کو خیرباد کہا تو مجھے یاد آ گیا
یہ لمحے عشق و مستی کے سدا پابند نہیں رہتے
سدا خوشیاں نہیں رہتی ہمیشہ غم نہیں رہتے
ذرا دیکھو کہ دروازے پہ دستک کون دیتا ہے
محبت ہو تو کہہ دینا یہاں اب ہم نہیں رہتے
( بشکریہ روزنامہ خبریں )
فیس بک کمینٹ

