سرائیکی وسیبشاکر حسین شاکرکالملکھاری

ہم قیوم خوگانی کے مقروض ہیں ۔۔ ( 1 ) ۔۔ شاکر حسین شاکر

جس گھڑی رانا اعجاز محمود نے ہم سب کو خیر باد کہا تو اس وقت کتاب نگر پر دوستوں کے ساتھ انہی کا ذکر ہو رہا تھا فیس بک پر ایک دم رانا اعجاز محمود کے لیے نوحے لکھے جانے لگے جب سے یہ کورونا شروع ہوا ہے ہم تو اب مرثیے اور تعزیت کے لیے وقف ہو کر رہ گئے ہیں ۔
جس دن رانا اعجاز محمود کی موت کی خبر آئی تو اسی شام اپنا دکھ شیئر کرنے کے لئے محمد افضل شیخ فون کیا تو انھوں نے دکھی دل کے ساتھ یہ افسوسناک خبر بھی بتائی کہ ہم سب کے ہر دل عزیز اور درویش طبعیت کے مالک قیوم خوگانی بھی کورونا کی وجہ سے طیب اردگان ہسپتال میں ونٹیلیٹر پر ہیں ۔
ونٹیلیٹر پر؟
میں نے دوبارہ تصدیق کرنا چاہی تو انھوں نے دلگیر لہجہ میں کہا ہاں قیوم خوگانی ونٹیلیٹر پر ہے۔
جب میری افضل شیخ سے بات ھوئی اس وقت میں گھر جا رہا تھا تو ایک دم سے مجھے گھر کا راستہ بھول گیا یہ بات میرے قریبی دوست جانتے ہیں میں اچھا ڈرائیور نہیں ہوں بس گزارے لائق ڈرائیو کر لیتا ہوں وہ تو میرا مالک میرے بیٹے ثقلین رضا کو سلامت رکھے جو مجھے ہر جگہ پر آسانی سے لے جاتا ہے ۔
رانا اعجاز محمود کی بے وقت موت
قیوم خوگانئ کا ونٹیلیٹر پر جانا
میرے لئے ایک دن میں دو صدمے ،
کورونا ہم سے اور کیا لینا چاہتا ہے اتنے بہت سے پیاروں کو ہم سے جدا کر دیا
یہ وہ پیارے تھے جن کے ساتھ مل کر زندگی کے بے شمار دکھوں کو کم کیا، سینکڑوں قہقہے لگائے ،مختلف موضوعات پر بحثیں کی سب سے اچھی بات ان دوستوں کے بارے میں یہ ہے کہ نظریاتی طور پر ہماری ہم آہنگی تھی رانا اعجاز محمود کا معاملہ میری زندگی میں بالکل مختلف تھا وہ تو یوں لگتا تھا جیسے وہ میرا کوئی بچھڑا ہوا بھائی ہے
لیکن قیوم خوگانی کا میرے ساتھ تعلق بڑا عجیب تھا جن دنوں اس کی تعیناتی دوبئی تھی تو چھوٹے بھائی باقر کو سفارت خانہ میں کام پڑا ۔
باقر بھائی نے صرف میرا بتایا تو کھڑے ہو کر کہنے لگا باقر بھائی آپ نہیں
مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میڈا شاکر بھرا آگیا ہے
قیوم خوگانی کی زبان سے سرائیکی سننا مجھے بہت بھلا لگتا تھا بلکہ میں نے بھی اس سے کبھی اردو میں بات نہیں کی کہ مجھے بھی اس پیارے ملتانی سے ملتانی بولنا اچھا لگتا تھا
اس دن قیوم خوگانی نے باقر بھائی کا منٹوں میں کام کر کے اس سے میرا نمبر لیا لیکن اس نے کبھی رابطہ نہ کیا کہ مجھ پر وہ احسان جتا سکے کہ میں نے آپ کے بھائی کا کام کر دیا ہے
اس کے کچھ عرصے بعد علم ہوا کہ وہ وطن واپس آ چکا ہے تمام زندگی سرکاری نوکری کے قواعد وضوابط کے تحت وہ اس گانے کی مثال بنا رہا
اس دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے
کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا
دوہزار سترہ کے پہلے ماہ کی ایک سرد اور گہری رات کو میرے چچا کو دل کی تکلیف ھوئی تو میں چوہدری پرویز الہی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ملتان میں ان کے ساتھ گیا کچھ ہی دیر میں ان کی طبیعت سنبھل گئی تو میں ہسپتال کے برآمدے میں کھڑا تھا ، دور سے برادرم قیوم خوگانی کو تیزی سے آتے ہوئے دیکھا تو میں نے قیوم خوگانی کا بازو پکڑ کر پوچھا خیریت تو ہے؟
پریشان حال میرا بھائی کہنے لگا
شاکر بھرا ابا جی دی طبعیت خراب تھی گئی اے
میں نے دریافت کیا ابا جی کہاں ہیں؟
کہنے لگا گاڑی میں بیٹھے ہیں
میں نے فوری طور پر ویل چئیر ارنیج کی قیوم بھائی کے والد صاحب کی ای سی جی کرائی اتفاق سے اسی وقت کارڈیالوجی ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر رانا الطاف احمد ایمرجنسی کا دورہ کر رہے تھے کہ مجھے دیکھ کر رک گئے میں نے ان سے قیوم بھائی کا تعارف کرایا تو اس کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ یہ ڈاکٹر اسامہ کے دادا بھی ہیں کچھ دیر میں ڈاکٹر اسامہ بھی آ گیا تو ڈاکٹر رانا الطاف احمد نے ڈاکٹر اسامہ کو کہا تمھارے ہوتے ہوئے دادا جان کی طبیعت اتنی خراب کیوں ہے
اس سے پہلے اسامہ جواب دیتا تو قیوم بھائی نے کہا ڈاکٹر صاحب ابا دوا نہیں کھاتے
اس رات قیوم بھائی کے والد صاحب کی طبیعت خاصی خراب تھی اور علاج شروع کر دیا گیا ۔
میں بھی کچھ دیر بعد گھر واپس آ گیا ان دنوں قیوم بھائی کی پوسٹنگ بہاولپور تھی اور ویک اینڈ پر ملتان آ جاتے تھے میں اگلے دن کسی کام سے لاہور گیا تو معلوم ہوا قیوم بھائی کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے ۔
لاہور سے واپسی پر میں ان کے گھر واقع نقشبند کالونی گیا تو مجھے دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے اور کہنے لگے
شاکر بھرا ابا جی چلے گئے
میں نے حوصلہ دیا تو صف ماتم پر بیٹھے تمام افراد کو بتاتے رہے کارڈیالوجی ہسپتال میں اس دن میں نے ان کے والد صاحب کے لیے کتنی محنت کی ۔
میں دل ہی دل میں شرمندہ ہوتا رہا کہ میرا شکریہ تو تب بنتا تھا اگر قیوم بھائی کے والد صاحب کی جان بچ جاتی وہ تو دنیا سے چلے گئے ۔
اس کے کچھ عرصے بعد قیوم بھائی کا فون آتا ہے کہ شاکر بھرا میڈا ملتان تبادلہ تھی گئے
میں نے مبارکباد دی تو کہنے لگے کہ اب کتاب نگر پر پہلے میں آوں گا
پھر آپ نے آنا ہے
اگلے دن دیکھا تو قیوم بھائی کیک کے ہمراہ کتاب نگر پر موجود تھے میں نے ان کو ملتان تعیناتی پر مبارک باد دی اور وعدہ کیا کہ جلد ہی ان کے دفتر آ کر گپ شپ لگاتا ہوں
دن گزرتے گئے تو ایک دن کینٹ گارڈن میں واک کرتے ہوئے انھوں نے مجھے کراس کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ پورا شہر مجھے دفتر ملنے آیا ہے۔
اگر کوئی نہیں آیا تو شاکر بھرا نہیں آیا
میں اس وقت برادرم اسرار احمد چودھری کے ساتھ واک کر رہا تھا ہم دونوں نے اسی دن طے کیا کل ہر حالت میں قیوم بھائی کے دفتر جانا ہے
دفتر پہنچ کر ہم نے اکٹھے کافی پی زمانے کی گفتگو اور اجازت چاہی
قیوم بھائی بھی ہمارے ساتھ دفتر سے گھر کے لیے روانہ ہوئے تو دیکھا کہ جناب ہیوی بائیک پر سوار ہو رہے ہیں میں نے حیرت سے ان سے پوچھا یہ کیا ہے؟
کہنے لگے ملتان کی سڑکوں پر تمام زندگی موٹر سائیکل پر آوارہ گردی کی ہے کیا ہوا جو میں افسر ہوگیا ہوں انسان کو اپنی اصلیت یاد رکھنی چاہیے
پھر ہم سب نے قیوم بھائی کو اکثر ہیوی بائیک پر سوار دیکھا کہ اسے ملتان میں بائیک پر پھرنا اچھا لگتا تھا ۔
اب میری، اسرار احمد چودھری کی ان سے کینٹ گارڈن میں واک کرتے ہوئے روز ملاقات ہونے لگی
واک کے بعد خورشید احمد خان اور علی رضا گردیزی کی میزبانی میں قہوہ پیتے
یا پھر واک کے بعد ایم جی ایم میں چائے کی میز پر وہ دوستوں کے ساتھ اکٹھے ہوتے اس میز پر دوستوں کی تعداد بیس سے زیادہ ہوتی
کبھی کبھار وہ شام کے بعد بھی بیٹھے دکھائی دیتے لیکن اکثر وہ مغرب کے بعد وہ منڈلی کو خیر باد کہہ کر گھر چلے جاتے ۔
واک کے دوران ہم ہر موضوع پر بات کرتے خاص طور پر بھٹو صاحب اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا ذکر بہت احترام سے کرتے ۔
محرم الحرام کے ایام میں مجھے یوں لگتا کہ جیسے ان کی آئیڈیل شخصیت امام حسین علیہ السلام ہیں اکثر واقعہ کربلا کا ذکر کرتے ہوئے نمناک ہو جاتے
جو لوگ قیوم خوگانی کو جانتے ہیں ان کے علم میں ہے کہ وہ جیسے دکھائی دیتے تھے ویسے ہی نظر آتے تھے ان کا ایک ہی چہرہ تھا نہ منافقت نہ زندگی میں کوئی دھوکہ
ملتان تعیناتی پر بہت خوش ھو ئے اکثر کہتے کہ مجھے ملتان، ملتان کے لوگوں اور ملتان کی مٹی سے عشق ہے ۔
اس کے علاوہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ جنون کی حد تک محبت کرتے جب ان کے بچوں میں ایک لاہور پڑھنے گیا تو اداس رہنے لگے اپنی شریک حیات کی بہت قدر کرتے یہ سب دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگتا کہ وہ اپنے بچوں اور اہلیہ کی قدر کر رہے ہیں
ملتان میں تعیناتی کے دوران ہر دوسرے دن واک پر، کسی خوشی، غمی پر ملاقات رہنے لگی کہ ایک دن اداس ہو کر کہنے لگے کہ لاہور تبادلۂ ہو گیا ہے میں نے تو سوچا تھا کہ ریٹائرمنٹ تک اس شہر میں رہوں گا لیکن لگتا ہے کہ قدرت مجھے اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع دے رہی ہے
سولہ مارچ 2020 کی شام قیوم بھائی کا فون آتا ہے کہ میں اپنے بھائی کے گھر چائے پی سکتا ہوں
میں نے جواب میں کہا
سجن آون اکھیں ٹھرن
تو ہنسنے لگے میں نے گھر کا پتہ بتانا چاھا تو کہنے لگے ہمیں دوستوں کے ہر ٹھکانے کی خبر ہے۔
کچھ دیر میں وہ میرے گھر موجود تھے میں نے اسرار احمد چودھری کو کہا کہ گھر آجائیں قیوم خوگانی آئے ہیں
دوگھنٹے وہ موجود رہے
رخصت ہونے سے قبل مجھ سے وعدہ لیا کہ لاہور میں میرے گھر لازمی آئیں گے
مارچ میں کورونا
پھر ہر طرف موت کا راج
آہستہ آہستہ موت نے ہمارے پیاروں کو شکار کرنا شروع کردیا
ہم پھر بھی غافل رہے
اور پھر ایک دن افضل شیخ کا دکھ بھرا فون
قیوم خوگانی ونٹیلیٹر پر
میں نے ان کے بھانجے ڈاکٹر مومن سے رابطہ رکھا
ایک دن خوش خبری
کہ قیوم بھائی ونٹیلیٹر سے آف
میں ڈاکٹر مومن کو کہتا ہوں بیٹا ابھی کسی کو نہ بتانا کہ ماموں ونٹیلیٹر سے باہر آ گئے ہیں
ڈاکٹر مومن کہتا ہے
جی انکل ہم کسی کو نہیں بتائیں گے
دو دن بعد پھر خبر آتی ہے
قیوم خوگانی کے لیے دعا کی درخواست
وہ پھر ونٹیلیٹر پر چلےگئے
میں اس بعد فیس بک پر نہیں جاتا کہ کہیں میرا گمان حقیقت نہ بن جائے
میں بلی کی طرح آنکھیں بند کر کے کتاب نگر پر موجود تھا
فون کی سکرین پر برادرم ظفر آھیر کا نام ابھرتا ہے
میں کہتا ہوں سر حکم
ظفر آھیر روتے ہوئے کہتے ہیں کہ قیوم خوگانی کا انتقال ہو گیا ہے انھوں نے روتے روتے فون بند کیا
اس کے بعد افضل شیخ، اعجاز کریم، رضی الدین رضی، قمر رضا شہزاد، سجاد بخاری، اسرار احمد چودھری، قسور سعید مرزا، آصف کھتیران، ناصر محمود شیخ اور اور پھر رونے کی آوازیں
مرکزی شاہی مسجد میں ایک آواز
اگر قیوم خوگانی کا کسی کے ساتھ کوئی لین دین ہے تو ان کا بھائی موجود ھے
جنازے میں موجود سب نے دلوں میں کہا کہ ہاں ہاں
قیوم خوگانئ ہمارا مقروض ہے
ان محبتوں کا
جو اس نے اپنی زندگی میں ھمیں دی
ہم وہ سب قرض واپس کرنا چاہتے ہیں
لیکن ایک شرط پر کہ
یہ قرضہ قیوم بھائی ہم سب سے خود وصول کرے
(جاری ہے )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker