اظہر سلیم مجوکہکالملکھاری

درد وچھوڑے دا روگ : ہے خبر گرم / اظہر سلیم مجوکہ

کسی کی بھی موت پر لکھنا خاصا مشکل اور تکلیف دہ مرحلہ ہے بلاشبہ موت ایک اٹل حقیقت ہے اور موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ مرنے والے کے ساتھ کوئی مر نہیں جاتا لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ مرنے والے یادوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں کسی کی بھی موت کا نوحہ لکھتے ہوئے خود بھی مرنا پڑتا ہے۔ ان کی باتوں اور یادوں کے چراغ جلانے پڑتے ہیں اور درد کا روگ پالنا پڑتا ہے۔ کورونا نے اوپر تلے اپنے مہلک وار اور کاری ضربوں سے کتنے ہی پیاروں کو ہم سے جدا کر دیا ہے ابھی تو پروفیسر شوکت مغل کی وفات کا نوحہ بھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ اور کتنے ہی نام ہیں جو اس عفریت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ہر دلعزیز رانا اعجاز محمود دوستوں کو افسردہ کر گئے رانا اعجاز محمود اپنی ذات میں اک انجمن تھے انجمن آرائی اور محفل کو سجانا ان پر ختم تھا ۔
ان کی وفات کا غم ابھی تازہ تھا کہ معروف شاعرہ اور ڈاکٹر اسد اریب کی ہم سفر ماہ طلعت زیدی بھی کینسر جیسے موذی مرض سے جنگ ہار گئیں۔ ڈاکٹر مقصود زاہدی کی صاحبزادی اور ہمارے افسانہ نگار دوست ڈاکٹر انوار زاہدی کی بہن ہونے کے ناطے وہ وراثتی طور پر شعر و ادب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے تھیں اور انہوں نے آخری دم تک قلم و قرطاس سے رابطہ استوار رکھا۔ ڈاکٹر اسد اریب نے بھی ان سے محبت اور رفاقت کا حق خوب ادا کیا۔ رضی، شاکر اور میں جب ان سے تعزیت کیلئے ان کے گھر گئے تو انہوں نے ماہ طلعت کی فرمائش پر بنایا ہوا لان بھی ہمیں دکھایا جہاں پر پودوں اور پھولوں میں ان کی یادوں کی مہک اور خوشبو رچی بسی تھی۔ ماہ طلعت کی بیماری کے درد کی طرح ڈاکٹر اسد اریب بھی اب جس کرب سے گزر رہے ہیں اللہ اس کرب اور دکھ کو دور فرمائے۔ انہوں نے درست کہا کہ ہر بیماری کی تشخیص کے ساتھ ساتھ اس کی پیمائش کا پیمانہ موجود ہے لیکن ابھی تک درد ماپنے کا کوئی آلہ ایجاد نہیں ہوا۔
ماہ طلعت کی وفات ادبی حلقوں کیلئے یقیناًایک بہت بڑا سانحہ ہے انہی دنوں ریڈیو ملتان کی ابتدائی دنوں کی آواز شاہد اشرف بھی راہی عدم ہوئے۔ ان کی وفات پر ایک تعزیتی پروگرام ریڈیو پاکستان ملتان کی کنٹرولر کوثر ثمرین نے قیصر نقوی اور سعید احمد کے تعاون سے خاصی محنت سے ترتیب دیا جس میں سابق سٹیشن ڈائریکٹر سرفراز قریشی، سہیل اصغر، محسن گیلانی، مظہر جاوید اور راقم کے تاثرات بھی شامل کیے گئے۔
قومی اسمبلی کے چیف وہپ اور ایم این اے ملک عامر ڈوگر کے چچا اور صلاح الدین ڈوگر کے بھائی سابق ایم این اے ملک لیاقت علی ڈوگر بھی انہی دنوں خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات پر بھی جنوبی پنجاب کے تمام مکاتب فکر کی طرف سے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کی وفات کے بعد نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر غلام مصطفےٰ پاشا بھی کورونا کا شکار ہوئے۔ ایک ماہر سرجن بہترین معالج اور منتظم کی موت نے بھی پورے شہر کو اداس اور سوگوار کر کے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے اپنی بیماری کے دوران ایک ویڈیو کے ذریعے کورونا کے مریضوں کے حوصلے اور دلجوئی کے لیے ایک ویڈیو پیغام بھی ریکارڈ کرایا لیکن خود کورونا کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے نشتر میڈیکل کالج اور یونیورسٹی کے لیے قابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔
ہماے بنک کے صدر کے دورے اور ملاقات کے دوران انہوں نے یونیورسٹی کے لیے مزید سہولتوں کی فراہمی کی خواہش کا اظہار کیا جو پوری بھی ہوئیں۔ ڈاکٹر غلام مصطفےٰ پاشا کی وفات کے اگلے ہی دن ہمارے بہت ہی پیارے دوست قیوم خان خوگانی بھی کورونا کے مہلک وار کا شکار ہو گئے۔ قیوم خوگانی کالج کے کھلنڈرے دور سے اپنی حساس ملازمت کے سنجیدہ دور تک دلوں پر نہ مٹنے والے نقش چھوڑ گیا ہے۔ اس کے بچپن کے ساتھی اس کی جدائی پر رنجیدہ ہیں۔ وہ جو دوستوں کا دوست تھا سب کو حیران و پریشان کر کے وچھوڑے کا دکھ دے گیا ہے۔ زمانہ طالب علمی میں ایک سیاسی لیڈر کی حیثیت سے وہ خاصا نمایاں رہا۔ دوران ملازمت وہ ایک فرض شناس آفیسر کی حیثیت سے اپنے محکمے کی زینت بنا ہوا تھا۔دبئی میں پاکستان کے قونصل جنرل کی حیثیت سے قیوم خوگانی نے پاکستانی کمیونٹی کی خوب خدمت کی۔8 دسمبر 2019ء کی ایک یادگار دوپہر میں کمشنر فیصل آباد جناب محمود بھٹی، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آئی بی جناب افضل شیخ اور ایس ایس پی سپیشل برانچ جناب شریف ظفر کے ساتھ راقم کے غریب خانے پر ایک کھانے پر اس دوپہر کی خوبصورت باتیں اور یادیں کبھی نہیں بھلائی جا سکتیں۔ اس دن قیوم خوگانی نے آنے سے پہلے فون کیا کہ میں ٹریک سوٹ میں ہوں اور واک سے سیدھا ہی آپ کی طرف آ رہا ہوں کیا ٹریک سوٹ میں آنا مناسب ہے،میں نے کہا کہ گھر کی بات ہے اور دوستوں کی محفل ہے لہٰذا وقت پر پہنچنے والے قیوم خوگانی کے ساتھ اس دوپہر دوستوں کی خوب بیٹھک لگی بہت سی باتیں ہوئیں یکم جولائی کو قیوم خوگانی کی طرف سے مجھے صبح بخیر کا بلاناغہ آنے والا آخری میسج جو موصول ہوا وہ درود شریف کا تھا۔
وہ خدا پر توکل رکھنے والا ایک درویش صفت خوبصورت انسان تھا اس کی موت پر دوست ہی نہیں سارا شہر اداس ہے۔ افضل شیخ، محمود بھٹی، شریف ظفر، شوکت فیروز ڈی آئی جی جیل، علی رضا گردیزی، ناصر محمود شیخ، رضی الدین رضی، شاکر حسین شاکر، عامر شہزاد صدیقی، خالد خان مہمند، کلیم درانی، طارق قادری،امیر اللہ شیخ، زاہد اور قیوم خان کے دفتر کے ساتھی ابھی بھی اس موت کا یقین نہیں کر رہے۔ شہر میں اوپر تلے ہونے والی ان اموات نے وسیب کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker