سبط حسن گیلانیکالملکھاری

جے آئی ٹی ، ن لیگ اور قطری شہزادہ ۔۔ سبط حسن گیلانی

پندرہ جون کا دن انتہائی اہم تھا۔ پاکستانی وزیراعظم ایک مشترکہ تفتیشی ٹیم کے سامنے ہیش ہوئے۔ وزیراعظم کی جماعت نے اُن پر پھولوں کی بارش کی ۔ طلال چودھری، دانیال عزیز جیسے ’’ صداقت شعاروں ‘‘ نے قوم کو بتایا کہ اسے سجدہ شکر بجا لانا چاہیے کہ وزیراعظم نے جمہوریت کی تاریخ میں ایک سنہرے باب کا اضافہ کیا۔ اس کی اُجڑی مانگ میں ایک عظیم جمہوری روایت کا سیندھور بھرا۔ ایک سابق اخبار نویس نے جو اخبار کی نوکری چھوڑ کر سرکار کو پیارے ہو چکے اس موضوع پر ایک عظیم نثر پارہ تخلیق کیا۔ حکمران جماعت کی طرف سے کاغذات کے پلندے پیش کیے جا رہے ہیں۔ لیکن ان کاغذی پہاڑوں میں صرف ایک ثبوت جسے بینک کی زبان میں منی ٹریل یعنی پیسوں کاسفر کہا جاتا ہے ،نہ آج تک سپریم کورٹ کو مل سکا ہے، نہ ہی قوم کو۔ اسی مقصد کی خاطر جے آئی ٹی کا وجود عمل میں لایا گیا تھا۔ کہ اس ثبوت کو تلاش کیا جائے۔ جائیداد لندن کے قلب میں موجود ہے، اس کی مالیت چھ سو کروڑ بھی معلوم حقیقت ہے، اس کی ملکیت میں بھی کوئی شک اب کسی کو رہانہیں۔ بی بی سی کے ہمارے دوست اطہر کاظمی نے اس کی ملکیت کے دستاویزی ثبوت لا کر ساری دنیا کے سامنے لا رکھے۔ جس پر حسب عادت حکمران جماعت نے شکوک و شبہات کی گرد اُڑانا چاہی لیکن بی بی سی نے اس پر ثابت قدمی دکھائی، اپنے رپورٹر کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کی۔ اب لوگوں نے پوچھا کہ اگر بی بی سی بھی جمہوریت کے خلاف کسی سازش میں شریک ہو چکی ہے تو عدالتوں کے دروازے کھلے ہیں جائیے اور جا کر اس کا پول کھولیے۔ کم از کم انگلستان کی عدالتوں پرتو یہ شک نہیں کیا جا سکتا کہ وہ جمہوریت کو روندنے والی کٹھ پتلیوں کے کھیل کا حصہ بن چکی ہیں۔لیکن مجال ہے جو کسی نے عدالت میں جاکر اسے چیلنج کرنے کا سوچا بھی ہو۔ بس اپنی پوری توجہ ایک کام پر لگائے رکھی، پانی کو مسلسل گدلا کرنے کی۔ تاکہ اس کی تہہ میں پڑا وہ سب کچھ نظر نہ آ جائے جس کے سطح آب پر آنے سے عوام کی آنکھیں کھل جانے کا اندیشہ پیدا ہو جائے۔ صرف ایک سیدھا سادا بنیادی سوال ہے ؟۔ یہ چھ سو کروڑ والی پراپرٹی جن پیسوں سے خریدی گئی وہ پیسے وہاں تک کیسے اور کہاں سے پہنچے؟۔جائز قانونی ذریعہ تو بینک کا راستہ ہوتا ہے۔ بینک کے ذریعے سے اگر ایک روپیہ بھی کہیں حرکت کرتا ہے تو اس کا ثبوت موجود ہوتا ہے۔ بس وہ لا کر دکھا دیا جائے اور اللہ اللہ خیر صلہ۔ لیکن ایسا کچھ تھا نہیں۔ اس کے لیے ایک دیگر راستہ اختیار کیا گیا۔ قطر کے ایک ارب پتی شاہ زادے کا خط۔جسے پیش کرنے والا وکیل بھی اس کی قانونی حیثیت سے انکار کر چکا ہے۔ اب بات کھل رہی ہے تو قوم بہت سارے سوال کھڑے کر رہی ہے۔مثلاً جب وزیر اعظم کے بچے لندن میں کروڑوں اربوں کی جائدادیں خرید رہے تھے ٹھیک انہی دنوں اُن کے والد اتنے غریب کیوں تھے کہ صرف چند ہزار کا ٹیکس بھر رہے تھے؟۔ یورپ میں ایک ٹیکسی والے اور پاکستان میں ایک بینک مینیجر سے بھی کم۔ ن لیگ جیسا کہ اس کے نام سے ہی ظاہر ہے ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک شخصی و خاندانی جماعت ہے۔ کبھی آپ نے سنا ہے کہیں امریکہ میں ابراہام لنکن پارٹی، بینجمن فرینکلن پارٹی، جارج واشنگٹن پارٹی۔ یا انگلستان میں چرچل پارٹی۔ تھیچر پارٹی یا ٹونی بلیر پارٹی؟۔ چلیں چھوڑیں دنیا کے کسی دیگر کونے کھدرے میں جہاں جمہوریت نام کی کوئی شے موجود ہو وہاں پر؟۔ جب جمہوری جماعتوں کو شخصیات اور خاندانوں کی وراثت بنا دیا جاتا ہے۔ جہاں جماعتوں کے اندر رتی بھر جمہوریت گھسنے کی اجازت نہیں دی جاتی وہاں انجام ایسا ہی ہوتا ہے۔ پوری کی پوری قومیں سر پکڑ کر روتی ہیں۔ان کے بنیادی مسائل کبھی حل نہیں ہوتے نہ جمہوری ادارے مضبوط ہوتے ہیں۔اب سنا ہے جے آئی ٹی قطر جا کر شاہزادے سے سوال کرے گی۔ ایک عربی شہزادے سے سوال؟۔ کبھی چشم فلک نے ایسا نظارہ دیکھا ہے کیا؟ ۔ جب ایک سوال دوبارہ پوچھا جائے گا تو ظل سبحانی کے نازک مزاج پر کیا بیتے گی؟۔ اور بدلے میں وہ کیا سلوک کریں گے؟۔ یہ تو شائد ہم کبھی جان نہ پائیں لیکن واپسی پر جے آئی ٹی کے شہزادوں کے چہروں پر بہت کچھ لکھا ہوگا جو آسانی سے پڑھا جا سکے گا۔اگر بات جمہوریت کی کریں تو جمہوری روایت تو یہ ہے کہ جب آپ کے دامن پر ہلکا سا داغ بھی لگے تو آپ اپنے عہدے سے دستبردار ہو جائیں نا کہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوطی کے ساتھ اس سے لپٹ جائیں۔اگر حکمران جماعت پچاس فی صد بھی جمہوری روایات پر عمل پیرا ہو کر جمہوری اداروں کو مضبوط کرتی تو آج اس کا یہ حال نہ ہوتا۔پانامہ والے معاملے کا بنیادی سوال تو پیسوں کی جائز ترسیل کا ہے مگر حق حکمرانی کا بنیادی سوال کچھ اور ہے؟۔ وہ یہ کہ آپ نے عوام کو تعلیم، روزگار، انصاف میں سے کتنا کچھ دیا؟۔ یہاں بھی آپ کا رویہ وہی ہے جو پانامہ والے معاملے کے ساتھ ہے، دونوں سوالات کا آپ کے پاس کوئی جواب ہے ہی نہیں۔ پانامہ والے معاملے کا فیصلہ تو عدالت کرے گی لیکن حق حکمرانی والے معاملے کا فیصلہ تو عوام کو کرنا ہے جن کی زندگیاں پہلے سے زیادہ تلخ اور دشوار ہوئی ہیں۔جو حکومت اپنے چار سال کے مکمل اقتدار و اختیار میں اپنے عوام کو دو گھونٹ صاف پانی کے مہیا نہ کر سکے اسے جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپنے کا کتناحق ہے؟۔ اس کا فیصلہ اب بہت قریب ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker