کالملکھاریوجاہت مسعود

وجاہت مسعود کا کالم : کیا سر ظفراللہ خان کی سازش یا نالائقی کے سبب گورداسپور بھارت کو ملا؟

تقسیم ہند کی پوری داستان سیاسی معاملات میں غیر واضح حکمت عملی اور عوام کے جذبات سے کھلواڑ کی کہانی ہے اور اس میں کانگرس یا مسلم لیگ کی تخصیص نہیں کی جا سکتی۔ پنڈت نہرو نے ایک غیر ذمہ دارانہ پریس کانفرنس سے کیبنٹ مشن پلان کا تیا پانچا کر دیا۔ دوسری طرف مسلم لیگ کی راست اقدام کی سیاست برصغیر کے طول و عرض میں فرقہ وارانہ فسادات پر منتج ہوئی۔ روزنامہ انقلاب کے مدیر مولانا غلام رسول مہر نے تقسیم پنجاب کے ضمن میں عوام کی توقعات کو غیر حقیقت پسندانہ سطح تک بڑھانے کے بارے میں لکھا تھا۔
”مسلم لیگ کے لیڈروں خصوصاً پنجابی لیڈروں نے جو بیانات پے درپے دیے یعنی یہ کہ پاکستانی پنجاب کی حدیں ستلج سے بھی آگے نکل جائیں گی۔ یہ بیانات یا تو پرلے درجے کی نالائقی اور سیاست کی نافہمی کی دلیل تھی یا سمجھنا چاہیے کہ دیانت کیشی کے خلاف تھے۔ ان کی وجہ سے سادہ لوح عوام غلط فہمیوں میں مبتلا ہوئے۔ خود میرے جالندھری عزیز مدت تک کہتے رہے کہ ہم پاکستان میں آئیں گے۔ حالانکہ میں نے نقشہ بنا کر ’انقلاب‘ میں چھاپ دیا تھا اور صاف لکھ دیا تھا کہ گورداسپور کے بچنے کا بھی بظاہر کوئی امکان نہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہنگامہ کشمکش کی سرگرمیوں میں جذبات مشتعل ہو جاتے ہیں۔ عقل و فہم سے کم تر کام لیا جاتا ہے۔ لیکن سیاسی فیصلوں میں کاروبار کی باگ ڈور جذبات کے حوالے نہیں کی جا سکتی۔ ہمارے ہاں موازنہ نفع و ضرر کا پہلو برابر کمزور رہا۔ اس کا سبب ناواقفیت بھی ہو سکتاہے۔ بے حسی اور سہل انگاری بھی“۔
اسی رویے اور دانستہ ابہا م کے بارے میں عاشق حسین بٹالوی اپنی گراں قدر تصنیف ’ہماری قومی جدوجہد ‘ میں لکھتے ہیں۔
سن ” 1942 کے نومبر میں ملک برکت علی نے قائداعظم کو لکھا کہ اگر واقعی مسلم لیگ کی قرارداد لاہور کے مطابق ہندوستان کی تقسیم ہمارے پیش نظر ہے تو ہمیں چاہیے کہ ابھی سے ایک کمیٹی بنا لیں جس میں بعض مسلم لیگی لیڈروں کے علاوہ چند جغرافیہ دان، مورخ، قانون دان، ماہر اقتصادیات، زبان دان، انجینئر، ریٹائرڈ مسلمان فوجی افسر وغیرہ شامل ہوں تاکہ ہندوستان کا ہر پہلو سامنے رکھ کر غور کیا جائے کہ تقسیم کی نوبت آئی تو حد بندی کی لائن کہاں پڑنی چاہیے۔
ملک صاحب کا یہ خط میں نے پڑھا ضرور تھا لیکن کچھ معلوم نہیں قائداعظم نے اس کا جواب کیوں نہ دیا تھا۔ یہ احساس مجھے اب تک پریشان کر رہا ہے کہ ہم نے سات سال میں تقسیم ہند کا کوئی نقشہ، کوئی فارمولا ”بلیو پرنٹ“ تیار نہ کیا۔ سات سال مسلسل نعروں، تقریروں اور بیان بازیوں میں صرف کر دیے۔ بالآخر جب قرارداد لاہور کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آیا تو چودھری ظفراللہ خاں کو صرف تین دن کی مہلت دی گئی کہ اس قلیل عرصے میں تن تنہا بیٹھ کر کیس بھی تیار کریں اور گزشتہ ایک سو سال کا تاریخی مواد بھی فراہم کریں“۔
سر ظفراللہ خان باؤنڈری کمیشن کے سامنے مسلم لیگ کے وکیل کے طور پر پیش ہوئے تھے۔ مسلم لیگ کی صفوں میں تقسیم کے بارے میں ابہام نیز بدانتظامی کے بارے میں ان کے مشاہدات ان کی خودنوشت سوانح ’تحدیث نعمت‘ میں شامل ہیں۔
”میں اپنے اندازے سے ایک دن پہلے لاہور پہنچ گیا۔ نواب صاحب ممدوٹ سے معلوم ہوا کہ ریڈکلف لاہور پہنچ چکے ہیں اور دوسری صبح گیارہ بجے فریقین کے وکلا کو طلب فرمایا ہے۔ نواب صاحب نے فرمایا کہ کل ڈھائی بجے بعد دوپہر میرے مکان پر تمہاری ملاقات ہمارے وکلا کے ساتھ ہو گی۔ ۔ ۔ دوسرے دن منگل کی صبح گیارہ بجے ہم سرسیرل ریڈکلف کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ کمیشن کے اراکین جسٹس دین محمد، جسٹس محمد منیر، جسٹس مہرچند مہاجن اور جسٹس تیجا سنگھ موجود تھے۔
سر سیرل نے کمیشن کا پروگرام بتاتے ہوئے حکم دیا کہ آئندہ جمعہ کی دوپہر تک فریقین اپنے بیانات داخل کریں۔ ۔ ۔ منگل کی دوپہر ہو چکی تھی اور تحریری بیانات جمعہ کی دوپہر تک داخل کیے جانا تھے۔ اس وقت تک مجھے اتنا بھی معلوم نہ تھا کہ میرے ساتھ کون وکلا صاحبان کام کریں گے اور انہوں نے تحریری بیان یا اس کے لیے ضروری مواد تیار کر لیا ہے یا نہیں؟ مجھے اس وقت تک یہ بھی نہیں بتلایا گیا تھا کہ ہماری طرف سے کمیشن کے روبرو کیا ادعا پیش کیا جانا تھا۔ میں بے تابی سے وکلا کے ساتھ ڈھائی بجے ہونے والی میٹنگ کا منتظر تھا کہ ان سب امور کے متعلق تفاصیل معلوم کروں۔ ۔ ۔ (ممدوٹ ولا میں) بہت سے وکلا اصحاب موجود تھے۔
مجھے کسی قدر حیرت ہوئی کہ اتنے قانون دان اصحاب کو کیوں جمع کیا گیا ہے۔ میں نے وکلا صاحبان سے دریافت کیا کہ آپ میں سے کون کون صاحب اس کیس میں میرے رفیق کار ہیں؟ اس پر ڈاکٹر خلیفہ شجاع الدین صاحب نے فرمایا کس کیس میں؟ میں نے کہا ’اسی حد بندی کے کیس میں جس کے لیے میں حاضر ہوا ہوں‘۔ خلیفہ شجاع الدین صاحب نے فرمایا ہمیں تو کسی کیس کا علم نہیں۔ ہم سے تو صرف یہ کہا گیا تھا کہ تم کیس کی پیروی کے لیے آئے ہو اور اس کمیشن کے روبرو مسلم لیگ کا کیس تم پیش کرو گے۔ میں نے نواب صاحب کی طرف استفساراً دیکھا تو وہ صرف مسکرا دیے۔ میں نہایت سراسیمگی کی حالت میں اٹھ کھڑا ہوا۔ وکلا صاحبان سے معذرت خواہ ہوا کہ وقت بہت کم ہے اور مجھے کیس کی تیاری کرنی ہے۔ اس لیے رخصت چاہتا ہوں۔اگر قائداعظم لاہور میں تشریف فرما ہوتے تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ہدایات طلب کرتا لیکن وہ دلی میں تھے۔ ٹیلی فون پر بات ہو سکتی تھی لیکن ٹیلی فون پر ایسی ہدایات حاصل کرنا غیر مناسب تھا۔ ساتھ ہی مجھے یہ بھی احساس تھا کہ کیس کے متعلق جو تیاری ہونا تھی وہ تو مسلم لیگ لاہور کی قیادت کے ذمہ تھی۔ ۔ ۔ خواجہ عبدالرحیم (کمشنر راولپنڈی) تشریف لائے۔ خواجہ صاحب نے فرمایا میں کچھ کاغذات لایا ہوں میں نے اپنے طور پر سرکاری ریکارڈ سے پنجاب کے دیہات، تھانہ جات، تحصیلات اور اضلاع کی فرقہ وارانہ آبادی کے اعداد و شمار جمع کرائے ہیں۔ یہ سارے صوبے کی آبادی کے نقشہ جات ہیں۔ ممکن ہے تمہیں کیس کی تیاری میں ان سے کچھ مدد مل سکے۔ اس کے علاوہ کیس کے سلسلہ میں اگر تمہیں کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔ میں نے خواجہ صاحب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
خواجہ صاحب کے رخصت ہونے کے بعد چار وکلا صاحبان تشریف لے آئے۔ صاحبزادہ نوازش علی اور شیخ نثار احمد منٹگمری سے، سید محمد شاہ پاکپتن سے اور چودھری علی اکبر ہوشیار پور سے۔ ہم نے پہلا کام یہ کیا کہ طریقہ تقسیم کے متعلق سرکاری بیان کا مطالعہ کیا اور اس کے تجزیہ سے ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ ”ملحقہ اکثریت کے علاقوں“ کی تشخیص کے لیے یونٹ کا تجویز کرنا لازم ہو گا۔ گاؤں تو عملاً یونٹ نہیں بن سکتا تھا کیونکہ بعض علاقوں میں اگر ایک گاؤں میں مسلم اکثریت تھی تو ساتھ کے گاؤں میں غیر مسلم اکثریت تھی لہٰذا گاؤں کو یونٹ قرار دے کر کوئی معقول حد بندی تجویز نہیں ہو سکتی تھی۔ تھانہ کو اگر یونٹ تجویز کیا جاتا تو اس صورت میں بھی اکثر جگہ وہی مشکل درپیش تھی۔ یونٹ مقرر کرنے کے لیے انتخاب دراصل تحصیل اور ضلع کے درمیان تھا گو ہم نے یہ بھی طے کیا کہ بحث کے دوران میں ہماری طرف سے کمشنری اور دو آبوں کو یونٹ مقرر کرنے کی طرف بھی اشارہ کر دیا جائے۔
ان دنوں صوبے بھر کے اخبارات میں ملحقہ اکثریت کے علاقوں (Principle of Continguity) پر بحث ہو رہی تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے لدھیانہ تک کا علاقہ مسلم اکثریت کا علاقہ بتایا جاتا تھا اور غیر مسلموں کی طرف سے کہا جا رہا تھا کہ جہلم تک کا علاقہ غیر مسلم اکثریت کا علاقہ ہے۔ عارضی انتظامی تقسیم میں راولپنڈی، ملتان اور لاہور ڈویژن کے جملہ اضلاع ماسوائے کانگڑہ مغربی پنجاب میں شامل کیے گئے تھے۔ اگر ہماری طرف سے ضلع کو یونٹ قرار دیے جانے کا مطالبہ کیا جاتا تو اضلاع میں سے امرتسر کو ترک کرنا پڑتا۔اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا کہ اگر ہم نے ضلع کو یونٹ قرار دیے جانے کا مطالبہ کیا تو اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے گا کہ ہم انتظامی تقسیم میں جو علاقہ مغربی پاکستان میں شامل کیا گیا ہے اس سے بھی کم علاقہ لینے پر رضامند ہیں اور اس کے نتیجے میں ممکن ہے ہمارے علاقے کو اور بھی کم کر دیا جائے۔ تحصیل کو یونٹ قرار دینے سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا تھا کہ ضلع فیروزپور کی دو تحصیلیں فیروزپور اور زیرہ اور ضلع جالندھر کی دو تحصیلیں نواں شہر اور جالندھر مسلم اکثریت کے علاقے تھے۔ ان کے ساتھ مشرق کی طرف ملحقہ تحصیل دسوہہ ضلع ہوشیار پور میں تھی۔ اس تحصیل میں نہ تو مسلمانوں کی اکثریت تھی نہ ہندوؤں اور سکھوں کی۔ عیسائی آبادی جس فریق کے ساتھ شامل کی جاتی اس فریق کی اکثریت ہو جاتی۔ اس تحصیل کے عیسائیوں کی طرف سے سرسیرل ریڈکلف کی خدمت میں محضر نامہ ارسال کیا گیا تھا کہ ہمیں مسلمانوں کے ساتھ شمار کیا جائے لہٰذا تحصیل کو یونٹ قرار دیے جانے سے فیروز پور، زیرہ، نواں شہر، جالندھر اور عیسائیوں کے شامل ہونے سے دسوہہ پانچوں تحصیلیں مسلم اکثریت کے علاقے شمار ہوتیں۔
ریاست کپور تھلہ میں بھی مسلمانوں کی اکثریت تھی وہ بھی ان تحصیلوں سے ملحق علاقہ تھا۔ ضلع امرتسر میں اجنالہ تحصیل میں مسلمانوں کی کثرت تھی اور امرتسر اور ترن تارن میں غیر مسلموں کی لیکن اگر فیروز پور، زیرہ، نواں شہر، جالندھر اور کپور تھلہ پاکستان میں شامل کیے جاتے تو امرتسر اور ترن تارن غیر مسلم اکثریت کے ملحق علاقے نہ رہتے کیونکہ وہ چاروں سے مسلم اکثریت کے علاقوں میں گھرے ہوئے تھے۔ ضلع گورداسپور میں بٹالہ، گورداسپور اور شکر گڑھ کی تحصیلوں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی اور تحصیل پٹھان کوٹ میں غیر مسلموں کی۔ یہ تحصیل کانگڑہ اور ضلع ہوشیار پور سے ملحق بھی تھی جو غیر مسلم اکثریت کے اضلاع تھے۔پورے غور و خوض کے بعد ہم سب کا میلان اسی طرف ہوا کہ تحصیل کو یونٹ قرار دیے جانے پر زور دیا جائے۔ لیکن اس بات کا فیصلہ ہم اپنے میلان کی بنا پر نہ کر سکتے تھے۔ ہم مسلم لیگ کی طرف سے وکیل کے طور پر مسلم لیگ کا کیس تیار کر رہے تھے۔ لیگ کی طرف سے کیا کیس پیش کیا جائے اس کا فیصلہ کرنا مسلم لیگ کے اختیار میں تھا۔ پنجاب میں مسلم لیگ کے صدر نواب صاحب ممدوٹ تھے ان سے استصواب لاحاصل تھا۔ وہ اپنی روایتی تواضع اور انکساری کی وجہ سے خود کوئی فیصلہ فرماتے نہیں تھے۔ (زیادہ صحیح تو یہ ہے کہ فیصلہ سازی کی اہلیت نہیں رکھتے تھے۔ ۔ ۔ و۔ مسعود )۔
میاں ممتاز محمد خان دولتانہ کی خدمت میں میں نے گزارش کی کہ تحریری بیان تیار کرنے کے لیے اس امر کا فیصلہ ضروری ہے کہ ”ملحقہ اکثریت کے علاقوں“ کی تشخیص کے لیے ہماری طرف سے کونسا یونٹ اختیار کرنے پر زور دیا جائے۔ انہوں نے فرمایا اس بات کو تم سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے؟ جو تجویز تم کرو گے، وہی بہتر ہو گی۔ میں نے کہا یہ فیصلہ مسلم لیگ کی طرف سے ہونا چاہیے۔ میں تو ایک فرد واحد ہوں اور میری حیثیت بھی وکیل کی ہے۔ مجھے جو ہدایات مسلم لیگ کی طرف سے دی جائیں مجھے ان کی پابندی کرنی ہو گی۔ میاں صاحب نے میری رائے دریافت کی۔ میں نے مختصر طور پر اپنا اور اپنے رفقائے کار کا رجحان بیان کر دیا۔ میاں صاحب نے فرمایا تو بس یہی ٹھیک ہے۔ اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے“۔
اس موقع پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ قیام پاکستان کے بعد موثر باماضی بصیرت کی روایت کے عین مطابق ظفراللہ خان پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے کہ ان کی نا اہلی اور بدنیتی کے باعث بہت سے علاقے پاکستان کے ہاتھ سے نکل گئے۔ الزام تراشی کی اس مہم میں مجلس احرار کے شعلہ بیاں مقررین پیش پیش تھے جو سرے سے تقسیم ہند کی مخالف جماعت تھی۔ 1953ء کے فسادات کی تحقیقات کے دوران جب یہ قضیہ اٹھایا گیا تو جسٹس منیر نے واضح طور پر کہا کہ وہ خود باؤنڈری کمیشن کے رکن تھے اور ظفراللہ خان نے پوری اہلیت اور دیانتداری سے مسلمانوں کا مقدمہ کمیشن کے سامنے پیش کیا۔ جسٹس منیر کی یہ رائے انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں شامل ہے۔

( بشکریہ : ہم سب لاہور )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker