ادبخیبر پختونخواہکتب نمالکھاری

مشاہیر ادب سے سراج تنولی کے بصیرت افروز مکالمے۔۔ پروفیسر اسحاق وردگ

مشاہیر علم و ادب سے مکالمہ دراصل اپنے عہد کے باطن میں جھانکنے اور ان سوالات کی تفہیم کا عمل ہے جن پر چپ کے تالے لگے ہوں۔۔اسی لیے تحقیقی مقالات میں بھی مکالمے کو مآخذات میں مقدم رکھا جاتا ہے۔۔۔ ”بات کرکے دیکھتے ہیں“ جواں سال و جواں فکر اہل قلم سراج احمد تنولی کے مشاہیر علم و ادب سے مکالموں کی کتابی صورت ہے۔۔”بات کرکے دیکھتے ہیں ” خیبر پختونخوا میں اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے جس میں اہل علم و ادب کے مکالموں کو یکجا کیا گیا ہے۔۔میرے نزدیک آج کی ادبی روایت کو سمجھنے کے لیے سراج احمد تنولی کی یہ کتاب طلبائے ادب اور شائقین ادب کی ناگزیر ضرورت ہے۔۔کتاب میں راقم کی یہ رائے بھی شامل ہے۔
siraj book interview
ادبی انٹرویو،ملاقات نگاری یا مصاحبہ نگاری اردو ادب اور ادبی صحافت کا نیا رجحان ہے۔۔اس رجحان کی برکات سے قاری تخلیق کار کی ذات،نظریہءادب،فکری رجحانات، روح عصر سے آگاہی اور ادبی تحریروں کے پس منظر اور پیش منظر میں جھانک سکتا ہے۔۔مصاحبہ نگاری کو روشنی سمجھیے جس میں قاری ادب پارے کی گم شدہ کڑیاں تلاشتا ہوا ان استفسارات کی تشنگی دور کر سکتا ہے۔۔جو ادب پارے کی قراءت کے دوران میں اس کے ذہن میں پیدا ہوئے۔۔ادبی مکالمہ تفہیم ادب کی دلآویز شکل ہے۔ چند برسوں سے اخبارات میں ادبی مکالمے کا رواج اب کم اور بہت کم دیکھنے کو مل رہا ہے۔۔۔یہ ادبی سماج اور تاریخ ادب کی رائیگانی سے کم نہیں۔۔۔خوشی ہے کہ جواں فکر قلم کار سراج احمد تنولی نے قلم قبیلے کے ساتھ مکالمے کی رسم پھر سے تازہ کی ہے۔۔یہ محض مکالمے نہیں ہیں بلکہ تنولی صاحب کے مرتب کردہ علمی و ادبی منظر نامے ہیں۔۔جن میں ادب اور اہل ادب کے ماضی کے خدوخال بھی ہیں اور حال کی تصاویر بھی۔۔۔جن سے ہم مستقبل کے دھندلےنقوش بھی کشید کر سکتے ہیں۔۔
“بات کرکے دیکھتے ہیں” کے مطالعے نے مجھے سرشاری دی ہے۔۔۔ان مکالموں سے شعور کی روشنی طلوع ہوتی ہے۔۔کتاب کو زینت بخشنے والے تخلیق کار معماران ادب میں شامل ہیں۔۔ان شخصیات کا انتخاب بذات خود سراج احمد تنولی کی ادب شناسی کی مثال ہے۔۔خیبر پختونخوا کے تناظر میں تنولی صاحب کی کاوشیں لائق تحسین ہیں کہ اس خطے میں میں ادبی صحافت کی وہ عالی شان عمارت تیزی سے زمین بوس ہو رہی ہے جس کے بنیاد گزاروں میں مرحوم فارغ بخاری،خاطر غزنوی،تاج سعید،حامد سروش،ڈاکٹر طارق ہاشمی اور نسبتاً جدید عہد میں ڈاکٹر ذکاءاللہ گنڈا پور شامل ہیں۔۔۔ دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ خیبرپختوخوا میں ادبی رسائل اور ادبی صفحات کا قصہ بھی اختتامی مرحلے میں ہے۔۔زوال کے ان دنوں میں سراج احمد تنولی کا ادبی مراکز سے دور ایک چھوٹے شہر میں ادبی صفحے کے روپ میں ادب کدہ آباد کرنا ان کی ادب سے کمٹ منٹ کا عکاس ہے۔۔۔ان کی کتاب ایک ایسا جہان معنی ہے جہاں میں محمد حمید شاہد جیسی فسوں گر افسانہ نگار و دانشور نقاد کی بصیرت افروز گفتگو سے لے کر ڈاکٹر طارق ہاشمی جیسے اسلوب نو کے سخن ور اور جید نقاد کا مکالمہ فہم و ادراک کے نئے در وا کرتا ہے۔۔۔”بات کرکے دیکھتے ہیں” صرف اپنے عہد کے تخلیق کاروں سے ہی مکالمہ نہیں یہ ایک روشن تہذیب سے گفتگو کی صورت گری ہے۔اس لیے سراج احمد تنولی کی کمٹ منٹ سراہے جانے کے قابل ہے کہ انھوں خیبر پختونخوا کے ادب میں مصاحبہ نگاری کے پہلے مجموعے کے مرتب کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔۔قبل ازیں مرحوم خاطر غزنوی کی کتاب “داستان امیر حمزہ شینواری” بھی ادبی مکالمے کا کتابی روپ ہے تاہم وہ کتاب ایک ہی تخلیق کار کے گرد گھومتی ہے۔
سراج احمد تنولی کا اختصاص یہ ہے کہ انہوں نے ایک سے زیادہ اہل قلم کی زیست، تصورات اور نظریات کو مکالمے کا پیراہین دیا۔۔۔اور ادب اور اہل ادب پر تحقیقی مقالہ نگاروں کے لیے آسانیاں فراہم کی ہیں۔۔جیسے جیسے وقت کا پہیہ آگے بڑھتا جائے گا۔۔ویسے ویسے “بات کرکے دیکھتے ہیں” کی قدروقیمت بڑھتی جائے گی۔۔اس لیے کہ یہ اپنے عہد کے طرز احساس کی ادبی دستاویز ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker