پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے اندرون سندھ کے بعد جنوبی پنجاب کا دورہ کیا اس حوالے سے وہ تین ستمبر کو ملتان میں پیپلز سیکرٹریٹ پہنچے اور 4 ستمبر سے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ اس دورے میں انہوں نے ڈی جی خان ، میلسی اور کہروڑ پکا میں عوامی اجتماعات سے خطاب بھی کیا۔ تاہم اس حوالے سے میلسی اور ملتان کے حلقہ 157 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ورکروں کا جوش سب سے زیادہ دکھائی دیا ۔
اپنے طویل دورے کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز سیکرٹریٹ ملتان میں پارٹی ورکروں ، سول سوسائٹی ، کالم نویسوں ، دانشوروں اور صحافیوں سے نشستیں ہیں اس دوران بلاول بھٹو زرداری پہلے سے کافی پر اعتماد دکھائی دیے ۔ جس کا اندازہ اس سوال کے جواب سے لگایا جا سکتا ہے جب ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں سولہ ہزار افراد کو وفاقی محکموں میں بھرتی کیا موجودہ حکومت نے سب کی بھرتیوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نکال دیا تو اس پر بلاول بھٹو زرداری نے حکومتی اقدام کی مذمت کی اور "پر اعتماد” لہجے میں کہا کہ ا گلی حکومت ہماری ہے ہم آتے ہی ان ملازمین کو بحال کردیں گے ۔
جنوبی پنجاب کے دورے پر مختلف تقریبات اور نشستوں میں انہوں نے جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا ذکر کیا اور حکومت کی جانب سے سیکرٹریٹ بنانے کے عمل کو مسترد کیا اور کہا اس خطے کو تخت لاہور سے جان چھڑانا ہوگی اور اپنا علیحدہ صوبہ بنانا ہوگا جس سے اس خطے کے مسائل حل ہوسکیں گے ۔
پی پی پی چئیرمین نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کے اس اقدام کی بالکل حمایت نہیں کریں گے دراصل یہ دھاندلی کا نیا طریقہ ہے ۔ اس دورے کے دوران انہوں نے پارٹی منشور بھی دہرایا جس میں اُنہوں نے کہا کہ وہ اقتدار میں آکر غریبوں کو روزگار دیں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرح کی سکیمیں لائیں گے روٹی کپڑا مکان کے نعرے پر عمل کریں گے اور ان سلیکٹڈ حکمرانوں سے حساب بھی لیں گے ۔۔۔
تاہم اگر اس دورے کا جائزہ لیں تو لگتا ہے پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب تنظیم اور گیلانی خاندان کا ہوم ورک خاص نظر نہیں آیا ۔ صدر پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب مخدوم سید احمد محمود ، جنرل سیکرٹری نتاشہ دولتانہ، سینئر نائب صدر خواجہ رضوان عالم ورکروں کی ملاقاتوں میں تو متحرک دکھائی دیے لیکن اس دورے سے قبل گیلانی خاندان اور پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب تنظیم کی جانب سے دعوے کیے گئے کہ جنوبی پنجاب کی سیاست کا رخ بدل جائے گا بہت سی سیاسی شخصیات پاکستان پیپلز پارٹی سے رابطے میں ہیں اور بلاول بھٹو زرداری کے دورہ جنوبی پنجاب کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاسی قافلے کا حصہ بن جائیں گے لیکن دورے پر ایسا کچھ نہیں دکھائی دیا لگتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں خیال تھا کہ پنجاب میں لاک ڈاؤن اور کورونا صورت حال کو دیکھتے ہوئے شاید پچھلی مرتبہ کی طرح چئیر مین کا دورہ منسوخ ہو جائے گا لیکن ان کے طویل دورے میں کسی خاص سیاسی شخصیت نے شمولیت نہیں کی ۔اورجنوبی پنجاب کی قیادت کسی موثر سیاسی شخصیت کو پارٹی میں شامل کروانے میں ناکام دکھائی دی۔ بلاول بھٹو زرداری کے دورے پر مظفرگڑھ سے ایم کیو ایم کے رہنما امجد ، جماعت اسلامی کے رہنما میاں مظہر عباس ، پاکستان مستقبل پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر انجنئیر عاطف ، عمران بھابھہ اور لیہ سے بہادر خان سیہڑ نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی ۔
پارٹی چئیرمین کے سامنے یہ تاثر دیا گیا کہ میاں مظہر عباس مسلم لیگ ق کے سابق ٹکٹ ہولڈر ہیں دلچسپ امر یہ ہے کہ میاں مظہر عباس کو ق لیگ کا ٹکٹ ہولڈر قرار دیکر چئیرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملوایا گیا اس حوالے سے ق لیگ اس کو پارٹی کارکن ماننے سے ہی انکاری ہے جبکہ میاں مظہر عباس گزشتہ تین سال کے دوران کئی جماعتیں بدل چکے ہیں وہ گزشتہ سال جماعت اسلامی کا حصہ بنے اس سے پہلے تحریک انصاف اور ضیا لیگ کے بھی خیر خواہ رہے ہیں جماعت اسلامی ذرائع کے مطابق میاں مظہر عباس کو جماعت سے نامناسب اور غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے دور کیا گیا موصوف ٹک ٹاک سٹارز کے ساتھ ویڈیوز بناتے ہیں جس پر جماعت نے اعتراض کیا بہر حال اس حوالے سے تو شاید تنظیم نے پارٹی چئیر مین سے پرینک کیا ہے ،
اس کے علاؤہ مظفر گڑھ سے امجد نامی ایم کیو ایم کے رہنما کا کوئی سیاسی کیرئیر نہیں اور نہ ہی کوئی خاص متحرک سیاسی شخصیت ہیں ۔ اسی طرح پاکستان مستقبل پارٹی کے این اے 155 کے ٹکٹ ہولڈر انجنئیر عاطف عمران کی ملاقات کروائی گئی جس میں انجینیر عاطف عمران نے 188 ووٹ حاصل کیے جبکہ اس حلقے سے تحریک انصاف کے ایم این اے نے ایک لاکھ پینتیس ہزار ووٹ لیے تھے ۔
اسی طرح عمران بھابھہ جو پاکستان تحریک انصاف جنوبی پنجاب کے سابق صدر نور خان بھابھہ کے دمادا ہیں ان کی ملاقات بھی بلاول بھٹو زرداری سے کرواکر پارٹی میں شمولیت کروائی گئی وہ بھی انتخابی سیاست کی کوئی خاطر خواہ شخصیت نہیں ہیں اسی طرح بہادر خان سیہڑ کی شمولیت کے حوالے سے لیہ کے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سیہڑ برادری کا لیہ کی سیاست میں اہم کردار ضرور ہے لیکن بہادر خان سیہڑ کی شمولیت کا پاکستان پیپلز پارٹی کو اس حلقہ سے ایک امیدوار مل جائے گا ۔
بہرحال اگر بلاول بھٹو زرداری کے دورہ جنوبی پنجاب کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اندرون سندھ اور مقتدر حلقوں کو پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ اب عوام کا رخ بدل رہا الیکٹیبلز پاکستان پیپلز پارٹی کا رخ کررہے ہیں اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب میں ناکام دکھائی دیتی ہے ۔ دورے کو ناکام کرنے میں کن کا کردار رہا ہے پارٹی چئیرمن بلاول بھٹو کو اس پر غور کرنا چائیے اگر وہ خود کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکیں تو ایک بار پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے سامنے صورت حال ضرور رکھیں امید ہے وہ ان کو حقیقت بتادیں گے ۔۔
فیس بک کمینٹ

