سہیل وڑائچکالملکھاری

قاضی عرش خدا دا ڈھا ناہیں۔۔سہیل وڑائچ

وادیٔ سندھ کی ہزاروں سالہ تاریخ میں عدل و انصاف کی درخشاں مثالیں موجود نہیں بلکہ مقامی شاعری اور مزاحمتی صوفیوں میں قاضی اور منصف کی چیرہ دستیوں کی کہانیاں ملتی ہیں۔ پنجاب کی ثقافت اور روح کی ترجمان ’’ہیر‘‘ میں وارث شاہ نے ہیر کی زبانی اس کالم کے عنوان والے مصرعے کو یوں بیان کیا ہے
قلوب المومنین عرش اللہ تعالیٰ
قاضی عرش خدا دا ڈھا ناہیں
یعنی مومنین کا قلب عرشِ خدا ہے اور اے قاضی خدا کے عرش کو مت گرائو۔ اسی طرح قاضی کے کردار پر وارث شاہ نے مزید لکھا ہے
کھاون وڈھیاں نِت ایمان ویچن،
ایہو مار ہے قاضیاں ساریاں نوں
رب دوزخاں نوں بھرے پا بالن
کیہا درس ہے ایہناں وچاریاں نوں
وارث شاہ اس شعر میں کہہ رہے ہیں کہ یہ رشوتیں لیتے ہیں، روز اپنا ایمان بیچتے ہیں یہی سب قاضیوں اور منصفوں کا وتیرہ ہے، اللہ دوزخوں کو انہی کے ایندھن سے بھرے گا، اس میں ان بیچاروں کا کوئی قصور نہیں۔
بلھے شاہ انقلابی ہیں اور سچ زور اور شد و مد سے کہنے کے قائل ہیں۔ وہ قاضی کے بارے میں کہتے ہیں
ملاں، قاضی راہ بتاون، دین دھرم دے پھیرے
ایہہ تاں ٹھگ نیں جگ دے جھیور، لاون جال چوفیرے
یعنی ملا اور قاضی دین کی راہ تو بتاتے ہیں مگر یہ اصل میں ٹھگ ہیں ہر طرف آپ کے لئے جال لگا کر آپ کو پھنسا لیتے ہیں۔
صدیاں گزر گئیں، عدل و انصاف کے پیمانے بدل گئے، قانون کی موٹی موٹی کتابیں اور انسائیکلوپیڈیاز بن گئے، بیرسٹر، ایم فل اور فاضل جج صاحبان، علم اور قانون کے دانش بکھیرتے نظر آتے ہیں مگر اس خطے میں تاثر آج تک یہی ہے کہ یہاں طاقتور کو انصاف ملتا ہے اور کمزور انصاف کو پکارتا پکارتا دوسرے جہان میں چلا جاتا ہے۔ پرانے زمانے میں انصاف کرنے والے قاضی اور منصف کہلاتے تھے اب انہیں جج کے جدید نام سے پکارا جاتا ہے۔
صدیاں گزرنے کے باوجود معاشرے میں جو تاثر قاضی کا تھا، کم و بیش وہی تاثر جج کا ہے۔ استثنا تو تاریخ میں بھی موجود رہے اور آج بھی موجود ہوں گے مگر اصل مسئلہ عمومی تاثر کا ہے جو صدیوں میں موجود تاثر سے آج بھی بالکل مختلف نہیں۔
انصاف اور تکبر دونوں خدائی اوصاف ہیں جو کسی انسان سے لگّا تک نہیں کھاتے تاہم معاشروں نے انصاف کا فریضہ قاضیوں اور ججوں کو سونپ رکھا ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ وارث شاہ کا زمانہ ہو یا آج کا زمانہ، قاضیوں نے تکبر کا خدائی وصف بھی اپنے اوپر طاری کر لیا ہے جس سے ان کے انصاف اور ان کے رویوں پر سوال اٹھتے رہتے ہیں۔
اگر ایک عامی کو اجازت ہو تو کیا وہ پوچھ سکتا ہے کہ قابلِ احترام چیف جسٹس افتخار چوہدری کے عدالتی تحرک کا معاشرے کو کتنا فائدہ ہوا جس طرح وہ مدعیوں اور افسروں کی بےعزتی کرتے رہے اس کا انہیں کوئی آئینی، اخلاقی یا قانونی حق تھا۔ یہی سوال قابلِ احترام ثاقب نثار کے بارے میں پوچھا جانا چاہئے کہ انہوں نے اسپتالوں اور دفتروں پر جو چھاپے مارے اس کا کوئی قانونی یا آئینی جواز تھا۔
جان کی امان دی جائے تو فاضل چیف جسٹس کھوسہ صاحب سے یہ پوچھا جائے کہ جب آئین میں وزیراعظم کی رخصتی کے لئے خاص آرٹیکل موجود ہیں تو پھر آپ نے نئی اختراع نکال کر کروڑوں لوگوں کے منتخب وزیراعظم کو بیک جنبش قلم گھر کیسے بھیج دیا؟
اگر سیاستدانوں سے اقتدار کے بعد ان کے اختیارات پر احتساب ہو سکتا ہے تو پھر قاضیوں اور ججوں کا کیوں نہیں؟ وہ جنہوں نے نظریۂ ضرورت استعمال کیا وہ جو انصاف و قانون کو لونڈی بناتے رہے کیا ان سے کوئی سوال نہیں ہوگا؟
دوسروں کو ڈیم بنانے، قومی خزانہ بچانے اور کم خرچ کے بھاشن دینے والے سابق منصف جب بڑی بڑی شاہ خرچ شادیوں میں شاداں اور فرحاں تصویریں بنواتے نظر آتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں تضاد نمایاں ہوتا ہے۔ فاضل افتخار چوہدری ہوں یا قابلِ احترام ثاقب نثار، دونوں اپنے ادوار میں میڈیا کو ہائپ تو بناتے رہے لیکن عملی طور پر نظامِ انصاف اور ملک میں عمومی بہتری کے لئے کیا کر کے گئے ہیں؟ ان کا کھڑکا دھڑکا تو بہت تھا مگر ان کے جاتے ہی سب کچھ بلبلے کی طرح دم توڑ گیا۔
عدالتوں میں جس طرح سے لوگوں کو مخاطب کیا جاتا تھا، دبکایا اور ڈرایا جاتا تھا وہ شائستگی نہیں بلکہ تکبر اور بدتمیزی کے زمرے میں آتا تھا مگر کون ہے جو ان سے سوال کر سکے۔ وہ تو تکبر اور عدل کی اونچی سیڑھی پر اب بھی براجمان ہیں، جہاں آہ، درد اور تکلیف کی کوئی آواز نہیں پہنچتی۔ کئی بہت اچھے اچھے قاضی، جج اور منصف آئے مگر اسلامی دنیا میں قاضی شریح کی روایت نہ بدل سکی۔
قاضی شریح خلفا اور بنو اُمیہ کے دور میں کوفہ کا قاضی رہا اگرچہ وہ بہت ذہین فطین تھا مگر تاریخ میں اس کا کردار بتاتا ہے کہ وہ حاکموں کے ساتھ مل کر مظلوموں پر ظلم ڈھانے میں شریکِ کار تھا۔ وارث شاہ اور بلھے شاہ کے زمانے کا قاضی بھی پابندیاں لگاتا تھا، سزائیں دیتا تھا، عذاب سے ڈراتا تھا، کوڑے لگواتا تھا۔
آج کا منصف نظریہ ضرورت کو درست قرار دیتا ہے، جمہوریت اور عوام کے حقوق پر پابندیاں لگاتا ہے، دنیا کے بڑے جج وہ ہیں جنہوں نے انسانی آزادیوں کو بڑھایا، مظلوموں اور پسماندہ افراد کو حقوق دیے مگر ہمارے ہاں کا چلن الٹ ہے یہاں ایسے فیصلے کئے جن سے آئین میں دی گئی آزادیاں ہی محدود کی گئیں۔
منصفوں کا فرض منصبی یہ تھا کہ وہ عوام کے مفاد میں 1973کے آئین کی تشریحات کرتے، عوامی حقوق میں اضافہ کرتے مگر یہاں تو میڈیا کی آزادی اور ضمانت تک کے حق پر کوئی فیصلہ صادر نہیں ہوا۔ کیا نیب قانون میں بغیر شنوائی اور ضمانت کے قید، پاکستان کے آئین میں دیئے گئے انسانی حقوق کے سراسر خلاف نہیں؟ اس بارے میں صرف نظر کرنے والے منصفوں سے یہ تو پوچھا جانا چاہئے کہ آپ آئین کے شارح ہیں کسٹوڈین ہیں تو پھر آپ ان معاملات پر ایکشن کیوں نہیں لیتے ؟
وہ وقت آ گیا ہے کہ عدلیہ صرف اپنی عزت، احترام اور دبدبے کی فکر نہ کرے بلکہ آئین میں دیئے گئے حقوق اور آزادیوں کو یقینی بنائے، آئین کی صرف وہی تشریح کرے جو آئین ساز چاہتے تھے، پابندیاں، سختیاں اور حق تلفیاں ختم کرے تبھی عدلیہ کا تاثر عوامی طور پر اچھا ہو گا اور معاشرہ میں عدل و انصاف کا بول بالا ہو گا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker