تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سینیٹ الیکشن کا اعلان : جمہوریت کی جیت ۔۔ سید مجاہد علی

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹ کے ریٹایئر ہونے والے باون ارکان کی نشستوں پر 3 مارچ کو الیکشن منعقد کروانے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح ملک میں طویل عرصہ سے جاری یہ چہ میگوئیاں دم توڑ گئی ہیں کہ جمہوریت پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے سینیٹ کے انتخابات منعقد نہیں ہونے دیئے جائیں گے اور کسی نہ کسی طرح انہیں التوا کا شکار کرکے طویل المدت ٹیکنوکریٹ حکومت قائم کی جائے گی تاکہ وہ ملک کو درپیش اہم مسائل کو حل کرنے کے لئے کام کرسکے۔ اس موضوع پر ہونے والی بحث کو براہ راست ملک میں جمہوریت کے مستقبل سے جوڑا جارہا تھا اور خیال تھا کہ ملک کے بادشاہ گر حلقے نواز شریف کی طرف سے احتجاجی سیاسی طرز عمل اختیا رکرنے کی وجہ سے اب ہر قیمت پر مسلم لیگ(ن) کے سیاسی مستقبل کے لئے مسائل پیدا کرنے کا تہیہ کرچکے ہیں۔ تاہم الیکشن کمیشن کے اعلان نے ان قیاس آرائیوں کو ختم کردیا ہے۔اس اعلان سے ملک میں جمہوریت کے استحکام اور ووٹ کی بنیاد پر تبدیلی کے حق کو استوار کرنے کے اصول کوتقویت ملے گی۔ ملک کے وہ حلقے جو کسی بھی سیاسی پارٹی سے وابستگی سے قطع نظر یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا حل جمہوریت کے استحکام میں ہی مضمر ہے، ان حلقوں کو گزشتہ سال جولائی میں نواز شریف کی نااہلی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے تشویش لاحق تھی۔ اگرچہ حکومت اور فوج کی طرف سے بار بار اعلان کیا جاتا رہا تھا کہ ملک میں جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن اسی تسلسل سے ’باخبر‘ ذرائع تک رسائی رکھنے والے صحافی، اینکر اور مبصر یہ اطلاعات بھی دیتے رہے ہیں کہ اچانک کوئی ایسا واقعہ رونما ہوگا جو نواز شریف کی سیاست کا چراغ گل کردے گا۔ گزشتہ نومبر میں فیض آباد میں لبیک تحریک کے دھرنے اور اس کے بعد گزشتہ دنوں بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کی وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف بغاوت کے موقع پر یہ قیاس آرائیاں مزید شدت اختیار کرگئی تھیں۔ البتہ الیکشن کمیشن کے اعلان سے اب یہ امید کی جانی چاہئے کہ خواہشات اور اندازوں کی بنیاد پر ایسی باتیں کرنے اور خبریں پھیلانے سے گریز کیاجائے جو ملک کی سیاست اور جمہوریت کے تسلسل کے لئے مشکلات کا سبب بن سکتی ہیں۔
سابق فوجی آمر پرویز مشرف کی حکومت کے بعد اب ملک میں دوسری جمہوری حکومت اپنی مدت پوری کرنے والی ہے اور اس سال کے آخر تک عام انتخابات بھی متوقع ہیں لیکن اس کے باوجود یہ بات بھی سب کے علم میں ہے کہ ابھی تک جمہوری عمل کو ملکی سیاست میں اٹل حیثیت حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ منتخب حکومتوں کے فوج کے ساتھ اختلافات اور اس کے بطن سے جنم لینے والے بحران خواہ اسے میمو گیٹ اسکینڈل کا نام دیاجائے یا ڈان لیکس کہہ کر پکارا جائے، اس بات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ اب بھی جمہوریت پاؤں پاؤں چلنا سیکھ رہی ہے اور کسی سیاسی پارٹی کی معمولی سی غلطی ایک بار پھر ملک کو طویل فوجی آمریت کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس قسم کی صورت حال پیدا کرنے کی ذمہ داری بھی ملک کے سیاست دانوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ وہ جب اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو فوج کے ساتھ مل کر حکمران جماعت کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں اور جب انہیں اقتدار مل جائے تو فوج کی منہ زوری کی شکایت بھی اسی منہ سے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ نواز شریف کی نااہلی کے بعد ایسے متعدد کردار سامنے آئے ہیں جنہوں نے عوام کے حقوق ، مسائل کے خاتمہ یا ملک کی سالمیت کے لئے جمہوریت کو غیرضروری قرار دیتے ہوئے یہ کہنے میں ہرج محسوس نہیں کیا کہ بدعنوان اور نااہل جمہوری حکومت کی بجائے دیانت دار اور ڈیلور کرنے والی آمریت یا فوج کی اعانت سے بننے والی حکومت بہتر ہے۔
اس رویہ کو جمہوری عمل سے ناواقفیت بھی کہا جاسکتا ہے لیکن اس کی اصل وجہ بعض سیاسی عناصر کی جاہ پرستی اور کسی بھی قیمت پر اقتدار کا حصول ہے۔ یہ عناصر جمہوریت کے نام پر ہی سیاست کرتے ہیں لیکن زاتی اقتدار کے حصول کے لئے جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے میں بھی دیرنہیں لگاتے۔ اگرچہ کہا جا سکتا ہے کہ ماضی میں فوج نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے تعاون سے چار بار طویل مدت کے لئے حکومت کی۔ لیکن ہر بار اس عمل میں فوجی لیڈروں کو ملک کے طالع پسند سیاسی حلقوں کی حمایت بھی حاصل رہی۔ پاناما پیپرز کے تناظر میں کرپشن کو جمہوری عمل پر بداعتمادی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ حالانکہ جہاں تک بدعنوانی کے کلچر کا تعلق ہے وہ فوجی حکومتوں میں بھی اسی طرح پروان چڑھا ہے جس طرح جمہوری حکمران اس میں ملوث رہے ہیں۔ اس لئے یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ کرپشن فری پاکستان کے لئے جمہوریت کو دفن کرنے کی بجائے جمہوری نظام کو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے جمہوریت پر عام لوگوں کا یقین پختہ کرنے کے لئے کام کرنا ہوگا۔

اس وقت ملک کی اپوزیشن میں شامل اہم سیاسی قوتوں کے علاوہ بعض اداروں کے لئے جنہیں عرف عام میں اسٹیبلشمنٹ کا نام دیا جاتا ہے، نواز شریف کی مقبولیت، سیاسی شکست قبول کرنے سے انکار اور مسلم لیگ (ن) میں توڑ پھوڑ نہ ہونے کو اہم ترین چیلنج سمجھا جارہا ہے۔ اسی لئے سینیٹ کے انتخابات کو بے حد اہم سمجھا جارہا تھا کیوں کہ اس بات کا امکان تھا کہ سینیٹ کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) جو اس وقت بھی 27 نشستوں کے ساتھ سینیٹ کی سب سے بڑی پارٹی ہے 104 اراکین پر مشتمل ایوان میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ کہا جارہا ہے کہ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے وزیر اعلیٰ کی بجائے اقلیتی جماعت مسلم لیگ (ق) کا وزیر اعلیٰ منتخب کرواکے اس اندیشہ کو کسی حد تک مینیج کرلیا گیا ہے۔ اب یہ امکان ہے کہ مسلم لیگ (ن) اگرچہ سینیٹ میں بدستور بڑی پارٹی رہے گی اور اس کی قوت میں مزید اضافہ بھی ہو جائے گا لیکن اسے اس ایوان میں واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکے گی۔ اس طرح یہ خطرہ ٹل جائے گا کہ مسلم لیگ (ن) کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہوجائے۔

یوں سینیٹ کے انتخابات ملک کی سیاسی صورت حال میں جمہوریت کے تسلسل کی علامت کے علاوہ سیاسی گروہ بندی اور اس سال کے دوران ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے بھی فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ سینیٹ کی طرح مستقبل کی قومی اسمبلی میں بھی کسی ایک پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوگی۔ اس طرح درپردہ ڈوریاں ہلانے والوں کو معاملات پر اثر انداز ہونے کا زیادہ موقع ملے گا۔ اس کے ساتھ ہی یہ صورت حال ملک کے تمام سیاست دانوں اور پارٹیوں کے لئے بھی ایک چیلنج کی حیثیت سے سامنے آئے گی کہ کیا وہ زاتی اثر و رسوخ اور اقتدار کو ترجیح دیتے ہیں یا ملک میں جمہوریت کے استحکام اور فروغ کے لئے کام کرتے ہیں۔

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker