وزیر داخلہ شیخ رشید نے بی بی سی اردو کو ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اور اسٹبلشمنٹ ایک ہی پیج پر ہیں اور اسی میں ملک و قوم کا فائدہ ہے۔ یہ انٹرویو عمران خان کی حکومت پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور ان قیاس آرائیوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ فوج اور عمران خان کی حکومت کے درمیان تناؤ ہے اور ملک میں متبادل انتظامات پر غور کیا جارہا ہے۔
اسی حوالے سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا ایک بیان بھی خاصا دلچسپ ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فی الوقت عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا کو کوئی پروگرام نہیں ہے کیوں کہ جب تک اسٹبلشمنٹ موجودہ حکومت کی سرپرستی کررہی ہے ایسی کسی کوشش کا کوئی فائدہ نہیں ہگا۔ ایک سابق وزیر اعظم اور اہم اپوزیشن لیڈر کا یہ بیان اس لحاظ سے دلچسپ مطالعہ تھا کہ اپوزیشن ہی کے حلقے یہ قیاس آرائیاں عام کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ موجودہ حکومت سے عاجز آئی ہوئی ہے اور اب اس کی ناکامیوں کا مزید بوجھ اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ دو روز قبل وزیر اعظم عمران خان نے عام لوگوں سے ٹیلی فون پر مواصلت کے دوران یہ کہہ کر کہ وہ ’اقتدار سے نکل کر زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے‘ ان افواہوں کو تقویت دی تھی کہ عمران خان اور فوجی قیادت کے درمیان معاملات پہلے جیسے ہموار نہیں ہیں اور وہ مسلسل اپنی حکومت کے لئے خطرہ محسوس کررہے ہیں۔
چند ہفتے قبل وزیر اعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ نواز شریف ’ڈیل کے بغیر ملک واپس نہیں آئیں گے‘۔ اس تبصرہ سے بھی حکومت کی کمزور ی کا اندازہ قائم کیا گیا تھا کیوں کہ وزیر اعظم خود تو این آار او دینے کو ملک سے غداری قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کے ساتھ کسی بھی قسم کی مصالحت سے انکار کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں ملک کے آئینی سربراہ حکومت کا یہ کہنا کہ اہم ترین اپوزیشن لیڈر کسی نہ کسی طاقت سے ڈیل کی کوشش کررہا ہے یا کسی مصالحت یا افہام و تفہیم کے نتیجہ میں ملک واپس آسکتا ہے، یہی ظاہر کرتا ہے کہ ملک میں منتخب وزیر اعظم سے بالا تر بھی کوئی ایسی قوت موجود ہے جو عدالتوں کے مفرور اور سزا یافتہ ایک سیاسی لیڈر کے ساتھ کسی ’ڈیل‘ کے نتیجہ میں ایسا راستہ ہموار کر سکتی ہے کہ وہ شخص کسی خوف کے بغیر ملک واپس آسکتا ہے حالانکہ ملک کا منتخب اور ’بااختیار‘ وزیر اعظم نہ صرف نواز شریف بلکہ اس کے پورے خاندان کو چور اچکا قرار دیتے ہوئے سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتا ہے۔
اس تناظر میں شیخ رشید کا تازہ انٹرویو اس لحاظ سے بھی دلچسپ ہے کہ انہوں نے اس میں حکومت اور فوج کے درمیان بعض معمولی اختلافات کو تسلیم بھی کیا ہے لیکن یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ حکومت اور اداروں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے اور وہ ایک ہی پیج پر ہیں ۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ’ فوجی قیادت کا فیصلہ ہے کہ وہ منتخب حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی‘۔حکومت اور فوج کے درمیان اختلافات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ ’چھوٹے چھوٹے اختلاف تو ہو سکتے ہیں۔ سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی سوچ اور رائے میں فرق بھی ہو سکتا ہے مگر ایسا نہیں کہ وہ ایک صفحے پر نہ ہوں‘۔ یہ طرز تکلم البتہ اتنا یقینی نہیں ہے جیسا کہ شیخ رشید کا چند روز پہلے یہ بیان تھا کہ ’عمران خان کے سر پر اسٹبلشمنٹ کا ہاتھ ہے‘۔ بی بی سی انٹرویو میں انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ حکومت میں شامل ایک شخص نے ان سے یہ بیان واپس لینے کے لئے بھی کہاتھا لیکن انہوں نے بیان واپس نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے اسٹیبلشمنٹ کا نام نہیں لیا مگر میرا مطلب یہی تھا کہ حکومت اور اداروں کی پالیسیاں ایک ہی صفحے پر ہیں‘۔
دیکھا جائے تو شیخ رشید وضاحت کے نام پر درحقیقت اپنے اس بیان کے اس تاثر سے دست بردار ہوئے ہیں جس میں انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ فوج بہر صورت وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔ اب وہ پالسیوں پر حکومت اور فوج کے اتفاق رائے کی بات کررہے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے اسٹبلشمنٹ کا نام نہیں لیا۔ شیخ رشید خود ہی جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر 4 کے ذریعے اندر باہر جانے والے لوگوں کی تفصیلات بتا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ ملکی فوج یا اسٹبلشمنٹ کے سویلین ’ترجمان‘ ہیں ۔ تاہم اب وہی ترجمان حکومت اور فوج کے درمیان اختلافات کی بات بھی کررہاہے اور اس بیان کو بھی بالواسطہ طور سے غلط کہہ رہاہے کہ انہوں نے عمران خان کے سر پر اسٹبلشمنٹ کے ہاتھ کی بات کی تھی۔ اب وہ حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان پالسیوں پر اتفاق رائے کی بات کررہے ہیں۔ حالانکہ پاکستانی سیاست میں اختلافات اور کھینچا تانی کسی اصولی یا پالیسی کے معاملہ پر نہیں ہوتی ۔ یہ ہمیشہ شخصیات کی لڑائی ہوتی ہے جس کی وجہ سے فوج اور اس سے منسلک ادارے ملک میں سیاسی تبدیلی کی بنیاد تیار کرتے ہیں۔
اب ایک بار پھر یہی ماحول پیدا ہوچکا ہے جس میں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ یہ یقینی ہوتا جارہاہے کہ عمران خان کی سیاسی مشکلات میں اضافہ ہؤا ہے۔ یہ مشکلات اپوزیشن کی پیدا کردہ نہیں ہیں بلکہ فوج کے ساتھ بڑھتا ہؤا فاصلہ اس پریشانی کی اصل وجہ بنا ہؤا ہے۔ اپوزیشن گزشتہ تین ساڑھے تین سال کے دوران تحریک انصاف یا عمران خان کے لئے کوئی بڑا خطرہ نہیں بن سکی۔ اب بھی پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کے بعد جماعت اسلامی نے لانگ مارچ کا اعلان کرکے ملک میں سیاسی تبدیلی کے لئے جد و جہد کرنے کا اعلان کررکھا ہے لیکن عام طور سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ ایسا کوئی احتجاج اسٹبلشمنٹ کی مرضی و منشا کے بغیر کوئی مطلوبہ نتیجہ حاصل نہیں کرسکتا۔ اور جب اسٹبلشمنٹ کسی حکومت کو کمزور کرنے کے لئے کسی احتجاج کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کا قصد کرلے تو لبیک تحریک کا چند ہزار افراد کا محدود سا دھرنا بھی مؤثر اور فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
تو کیا شیخ رشید کی تفصیلی وضاحت اور ایک پیج کو قومی مفاد قرار دینے کے بعد یہ باور کرلیا جائے کہ عمران خان کی حکومت کو کم از کم اسٹبلشمنٹ سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے؟ اگر یہ بات اتنی ہی حتمی ہوتی جس کا تاثر بظاہر شیخ رشید نے بی بی سی کے انٹرویو میں دینے کی کوشش کی ہے تو وہ کبھی بھی حکومت اور فوج کے درمیان ‘معمولی اختلافات‘ کی بات زبان پر نہ لاتے اور نہ ہی عمران خان کو حاصل سرپرستی کو یک بیک حکومت اور فوج کے درمیان پالیسی اشتراک قرار دیتے۔ شیخ رشید کے اس انٹرویو نے درحقیقت اس خطرے کو زیادہ نمایاں کیا ہے جس کا اظہار عمران خان نے ’اپوزیشن میں زیادہ خطرناک‘ بن جانے کا اعلان کرکے کیا ہے۔ یوں تو یہ انتباہ مخالف سیاسی پارٹیوں کے لئے بھی ہوسکتا ہے لیکن ملک کا کوئی مبصر یاتجزیہ نگار اسے اس نگاہ سے دیکھنے پر تیار نہیں ہے بلکہ مسلسل یہی کہا جارہا ہے کہ عمران خان فوج کو متنبہ کررہے ہیں کہ اگر ان کے خلاف سیاسی میدان ہموار کیا گیا تو وہ سڑکوں پر نکل کر زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے۔
وزیر اعظم اور حکومتی حلقوں میں فوج کی طرف سے لاحق اندیشے کے باوجود شاہد خاقان عباسی نے اس عذر پر عدم اعتماد کی تحریک نہ لانے کی بات کی ہے کہ جب تک اسٹبلشمنٹ عمران خان کے ساتھ ہے، ایسی کوئی تحریک لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ گویا اسٹبلشمنٹ اور حکومت کے درمیان اختلافات تو موجود ہیں اور مل جل کر چلنے کی گنجائش بھی کم ہورہی ہے لیکن اس کے باوجود ابھی تک اسٹبلشمنٹ کسی ایسے ڈرامائی اقدام کی حمایت کرنے پر راضی نہیں ہے کہ ملک میں اچانک سیاسی، پارلیمانی یا آئینی بحران پیدا ہوجائے۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ آئین کے تجویز کردہ طریقہ کے مطابق کسی وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد لانے سے کیوں کر کوئی بحران پیدا ہوسکتا ہے؟ اس کا جواب ملک کے موجودہ نظام کے مطالعہ سے تلاش کیا جاسکتا ہے جومکمل طور سے آئینی طریقہ کے مطابق نہیں چلتا بلکہ اسے مختلف نوع کی بیساکھیاں فراہم کی جاتی ہیں جن کا اہتمام اسٹبلشمنٹ کرتی ہے۔
ان چھوٹی خبروں سے بڑی تصویر بنانے کی کوشش کی جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ تحریک انصاف کی حکومت کو کسی ’غیر فطری طریقہ‘ سے گرانے کی حامی نہیں ہے۔ تحریک عدم اعتماد موجودہ سیاسی انتظام میں غیر فطری طریقہ ہی ہوگا کیوں کہ نہ ہی ملک میں فوری طور سے انتخابات کروانے کی راہ ہموار ہے اور نہ ہی موجودہ اسمبلیوں کی بقایا مدت کے لئے کوئی متبادل وزیر اعظم دستیاب ہے۔ یوں تو وزیر اطلاعات فواد چوہدری بتا چکے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے چار لیڈر خود کو متبادل کے طور پر پیش کرچکے ہیں۔ اور غور کیا جائے تو تحریک انصاف میں بھی اتنی ہی تعداد میں متبادل امیدوار دستیاب ہوسکتے ہیں لیکن اس سیاسی اکھاڑ پچھاڑ سے فائدہ کی بجائے نقصان کا امکان زیادہ ہے۔ اسی لئے یہ آپشن مسلسل زیر غور ہے لیکن اسے عملی طور سے مسلط کرنے کا فیصلہ کرنا مشکل ہورہا ہے۔
دریں حالات فوج کا سول ’ترجمان‘ ایک پیج کی افادیت کے بارے میں دلائل دینے کی کوشش کررہا ہے۔ یوں تو ملک کا ہر سیاسی لیڈر ’ایک پیج‘ کا حامی ہے لیکن یہ سارے لیڈر اس پیج پر موجود مستقل نام کے علاوہ اپنا نام لکھنا پسند کریں گے۔ یوں ایک پیج تو مسئلہ نہیں ہے البتہ یہ شبہ موجود ہے کہ مستقبل میں کون خوش نصیب اس پر جگہ بنا سکتا ہے۔ اس وقت تک بلاشبہ عمران خان ایک پیج کی زینت بنے رہیں گے۔
( بشکریہ : کاروان ۔ ناروے )

