تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

صدارت سے تاحیات قیادت تک ۔۔ سید مجاہد علی

مسلم لیگ (ن) کی مجلس عاملہ نے گزشتہ ہفتہ کے دوران سپریم کورٹ کی طرف سے نواز شریف کو پارٹی قیادت سے بھی نااہل قرار دینے کے فیصلہ کے بعد شہباز شریف کو پارٹی کا قائم مقام صدر منتخب کرلیا ہے۔ 45 روز کے اندر پارٹی نئے مستقل صدر کا انتخاب کرے گی۔ خیال ہے کہ شہباز شریف کو ہی پارٹی کا مستقل صدر بھی چنا جائے گا ۔ نواز لیگ کی مجلس عاملہ کے اجلاس کی صدارت پارٹی چیئرمین راجہ ظفرالحق نے کی تھی اور اجلاس میں صرف ان ارکان کو مدعو کیا گیا تھا جو 28 جولائی 2017 سے پہلے مجلس عاملہ کے رکن تھے۔ اس بات کا اہتمام اس لئے کیا گیا تھا کیوں کہ نواز شریف نے گزشتہ 8 ماہ کے دوران ایک سو سے زائد نئے ارکان کو مجلس عاملہ میں شامل کیا تھا۔ سپریم کورٹ پاناما کیس کے فیصلہ کے بعد سے پارٹی صدر کے طور پر نواز شریف کے تمام فیصلوں کو کالعدم قرار دے چکی ہے ، اس لئے پارٹی کو کسی نئے تنازعہ سے بچانے کے لئے یہ اہتمام ضروری سمجھا گیا تھا۔ تاہم شاید اسی مجبوری کا بدلہ لینے کے لئے نااہل پارٹی صدر نواز شریف کو تاحیات پارٹی قائد منتخب کیا گیا ہے۔
شہباز شریف کو مسلم لیگ کا نیا صدر بنانے کے بعد دو اندیشے سر اٹھائیں گے۔ ایک تو یہ کہ شہباز شریف بہر حال نوز شریف کے بھائی ہیں اور انہیں صدر بنا کر دراصل پارٹی کا اختیار خاندان کے اندر رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس انتخاب کے حوالے سے دوسرا اندیشہ یہ سامنے آئے گا کہ شہباز شریف کے بارے میں عام طور سے کہا جاتا ہے کہ وہ اداروں سے ٹکراؤ کے خلاف ہیں اور فوج کے ساتھ ان کے بہتر تعلقات ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی عام فہم ہے کہ گزشتہ برس وزارت عظمی سے نااہلی کے بعد نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز نے عدالتوں کے بارے میں جارحانہ رویہ اختیار کیا تھا جبکہ شہباز شریف نے سپریم کورٹ پر نواز شریف کی نکتہ چینی اور الزام تراشی کا حصہ بننے سے گریز کیا تھا۔ اس کا اظہار گرشتہ دنوں ناقص پانی کے حوالے سے ہونے والی سپریم کورٹ کی ایک سماعت کے دوران بھی دیکھنے میں آیا تھا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے وزیر اعلی پنجاب کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لئے طلب کیا تھا۔ اس موقع پر ناقص پانی کے بارے میں بات کرنے کی بجائے شہباز شریف ججوں کی تعریف و توصیف میں رطب اللساں رہے۔ اسی پر چیف جسٹس نے تبصرہ کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ کاش مسلم لیگ (ن) کی باقی قیادت بھی ان کی طرح عدالتوں کا احترام کرتی۔ یہ نواز شریف اور مریم نواز کی عدالتوں پر کھلم کھلا تنقید کی طرف اشارہ تھا۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ شہباز شریف پارٹی قیادت سنبھالنے کے بعد عدالتوں کے بارے میں مسلم لیگ (ن) کی حکمت عملی میں کیا تبدیلی لاتے ہیں۔یوں تو پارٹی کا نیا صدر منتخب ہوجانے کے بعد نواز شریف کا سیاسی کیریئر ختم ہوجانا چاہئے تھا۔ ویسے بھی آج کے اجلاس میں انہوں نے مبصر کے طور پر شرکت کی تاکہ سپریم کورٹ یا الیکشن کمیشن کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ نااہل نواز شریف کی قیادت میں ہونے والے پارٹی اجلاس کے فیصلے ناقابل قبول ہیں ۔ اس حوالے سے چند درخواستیں تو الیکشن کمیشن کو بھجوائی بھی جا چکی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ جو پارٹی نواز شریف کے نام سے منسوب ہے، سپریم کورٹ کے واضح فیصلہ کے بعد اس پارٹی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس لئے اسے ڈی نوٹیفائی کیا جائے۔ تاہم سپریم کورٹ کے کسی نئے وار سے پیشگی تحفظ کے لئے آج متعدد پہلوؤں کا خیال رکھا گیا جن میں یہ بات بھی شامل تھی کہ نواز شریف کے ہوتے راجہ ظفرالحق نے اجلاس کی صدارت کی ۔ لیکن پارٹی نے بعض ” بے احتیاطیاں ” بھی کی ہیں۔ ان میں سے سب سے اہم یہ ہے کہ شہباز شریف کا نام نواز شریف نے تجویز کیا جسے تالیوں کی گونج میں پارٹی صدر کے طور پر قبول یا منظور کرلیا گیا۔ اب اگر شق 62 یا 63 کا اطلاق اس طریقہ کار پر نہ بھی ہو تو بھی پارٹی اجلاس میں نواز شریف کو صدارت سے محروم ہونے کے بعد تاحیات قائد کے طور پر منتخب کرکے اس کی گنجائش ضرور پیدا کردی گئی ہے۔ اگر مریم نواز کی ٹویٹ پر یقین کیا جائے تو یہ انتخاب اس بات کا اعلان ہے کہ مسلم لیگ نون نواز شریف کے دم قدم سے ہے اور جب تک پارٹی ہے وہ نواز شریف کے اشاروں پر ہی چلتی رہے گی۔ یہ اعلان سپریم کورٹ کے 22 فروری کے حکم کی روح کے خلاف ہے۔ اس پر سپریم کورٹ تو غصہ دکھائے گی یا نہیں، یہ تو کہنا مشکل ہے لیکن اگر کوئی بدگمان اس معاملہ کو بھی سپریم کورٹ میں لے گیا تو اپنے ہی فیصلوں کے تناظر میں کیا اب مسلم لیگ (ن) کے ارکان اور لیڈروں کو اس بات کا بھی پابند کیا جائے گا کہ وہ نواز شریف سے پکیّ کٹیّ کرلیں ۔رہی سہی کسر اجلاس کے موقع پر نواز شریف کی باتوں نے پوری کردی ہے۔ اس بارے میں جو رپورٹس سامنے ائی ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ نواز شریف سپریم کورٹ کے پی سی او ججوں پر خوب برسے اور کہا کہ ان پر جو جرم ثابت کیا گیا ہے وہ آئینی حلف کے ہوتے ایک فوجی آمر کے پی سی او پر حلف لینے والے ججوں کے اس جرم کا سواں حصہ بھی نہیں ہے۔ عدالتوں کے بارے میں نواز شریف کا لب و لہجہ دن بدن تلخ اور سخت ہو رہا ہے تاہم مسلم لیگ (ن) کے نئے “معتدل مزاج” صدر شہباز شریف کی قیادت میں کام کرنے والی پارٹی کے حوالے سے نواز شریف کی باتیں یہ شبہ ضرور پیدا کریں گی کہ کیا شہباز شریف کی اداروں سے دوستی اور عدالتوں کے احترام کے دعوے دھوکہ ہیں یا نواز شریف کا عدالتوں اور ججوں کے خلا ف جاہ و جلال دکھاوا ہے۔ کیا ان باتوں میں کوئی صداقت موجود ہے کہ ایک طرف نواز شریف عدالتوں اور اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنا کر اپنے لئے عوامی ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن دوسری طرف طاقتور حلقوں سے روابط کے ذریعے اپنے لئے سہولتیں حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نواز شریف نے پارٹی کے قائد اولیٰ کے عہدے پر فائز ہو کر دراصل یہ واضح کیا ہو کہ وہ بدستور پارٹی کے معاملات پر اختیار رکھتے ہیں اور شہباز شریف اپنی اعتدال پسندی کے باوجود ان کے حکم کے سامنے پر نہیں مار سکتے۔
اس صورت حال میں نواز شریف کو دو باتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ایک تو یہ کہ اگر انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو فیملی لمیٹڈ بنانے کی بجائے ایک حقیقی سیاسی پارٹی بنایا ہوتا تو آج پارٹی میں ایسے لوگوں کی کمی نہ ہوتی جو نواز شریف کے بغیر بھی معاملات کو چلا سکتے اور اس ایجنڈے پر عمل درآمد کرسکتے جو نواز شریف نے ملک و قوم کی بہبود کے لئے تیار کیا تھا۔ اس حوالے سےدوسری اہم ترین بات یہ ہے کہ اس وقت نواز شریف خود کوملک میں جمہوری نظام کے احیا کی علامت کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ کیا وہ محض اپنے خلاف فیصلے دینے والے ججوں پر الزام تراشی کے ذریعے ہی یہ کام سرانجام دیں گے یا وہ کوئی ایسا قدم بھی اٹھائیں گے جس سے عوام کو یقین ہو جائے کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کے بعد اب نواز شریف فوج کا آلہ کار یا شخصی اقتدار کا نمائیندہ نہیں ہیں بلکہ عوامی حکمرانی کے لئے جد و جہد کرنے والا ایک پر جوش سیاسی کارکن بن چکے ہیں۔ فی الوقت ان کے رویہ سے ایسی کوئی شہادت نہیں ملتی۔
( بشکریہ: کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker