اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کو ایک خاتون جج کی توہین کرنے کے الزام میں نیا جواب جمع کروانے کے لئے 7 روز کی مہلت دی ہے ۔ عدالت کے پانچ رکنی بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عمران خان کے جواب کو نامکمل اور افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ انہیں یہ جواب پڑھ کر دکھ ہؤا ہے۔ اس دوران تحریک انصاف کے لیڈر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان اس وقت مقبولیت کے عروج پر ہیں، ان کے خلاف فیصلہ نہیں آسکتا ۔
اب یہ طے کرنا اسلام آباد ہائی کورٹ کا کام ہے کہ ملک میں فیصلے قانون کے مطابق اور شواہد کی روشنی میں ہوں گے یا مقبولیت کے دعوؤں اور دھمکیوں سے مرعوب ہوکر فیصلے اسی طرح کئے جائیں گے جس کی طرف فواد چوہدری نے اشارہ کیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کے معاملہ کی سماعت کے بعد فواد چوہدری نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ’ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے مقدمات میں مماثلت تھی۔ انہیں سزا اُس وقت ہوئی جب وہ اپنی مقبولیت کھوچکے تھے۔ عمران خان اس وقت اپنی مقبولیت کی معراج کو چھو رہے ہیں، انہیں سزا نہیں دی جاسکتی‘۔ اگر فواد چوہدری کی اس دلیل کو درست مان لیا جائے تو ایک ہی بات سمجھی جاسکتی ہے کہ ملک کا عدالتی نظام قانون کو پیش نظر رکھنے کی بجائے محض یہ دیکھتا ہے کہ اس کے سامنے پیش ہونے والا لیڈر کس قدر مقبول ہے۔ اگر وہ عوام میں مقبول ہو توعدالت اس کے بڑے سے بڑے جرم کو نظر انداز کرنے پر مجبور ہوتی ہے اور اگر عدالت کو لگے کہ متعلقہ لیڈر عوام میں مقبولیت کھو چکا ہے تو وہ قانون کی بالادستی کا نام لیتے ہوئے کسی کو کوئی بھی سزا دینے کا اہتمام کرسکتی ہے۔ جیسا کہ فواد چوہدری کے بیان کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو ، نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے معاملات میں کیا گیا۔ باریک بینی سے بیان کے اس پہلو پر غور کیا جائے تو فواد چوہدری جیسا چوکس سیاست دان بھی درحقیقت یہ تسلیم کررہا ہے کہ ان لیڈروں کو کسی قانون شکنی پر سزا نہیں ہوئی تھی بلکہ انہیں عدم مقبولیت کی وجہ سے نشان عبرت بنایا گیا تھا تاکہ عدالتوں کی دھونس قائم رہے۔
فواد چوہدری کا بیان ملک کے نظام انصاف کو ناکارہ اور جانبدارانہ قرار دیتا ہے ۔ ان کا یہ بیان اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ان ارشادات سے متضاد تصویر پیش کرتا ہے جن کا اظہار انہوں نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے کیا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ عدالتوں کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے، سوشل میڈیا کو عدالتوں اور ججوں کے خلاف استعمال کیاجاتا ہے لیکن عدالتیں صرف قانون کی بالادستی کے لئے کام کرتی ہیں اور وہ کبھی کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کریں گی۔ یہ ایک علیحدہ معاملہ ہے کہ دباؤ قبول نہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے چیف جسٹس نے عمران خان کے ناقص اور ناقابل قبول بیان کو مسترد کرتے ہوئے انہیں نیا جواب جمع کروانے کے لئے مزید 7 روز کی مہلت عطا کی ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایک پریس کانفرنس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے اس حکم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’عدالت عمران خان کے بارے میں نرمی برت رہی ہے‘ ۔ ماضی میں توہین عدالت کے کسی ملزم کو سزا دیے بغیر کمرہ عدالت سے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ عمران خان بدستور بعض حلقوں کے چہیتے ہیں۔ عدالت کو یکساں طور سے قانون نافذ کرتے ہوئے اس تاثر کو ختم کرنا چاہئے۔ نذیر تارڑ نے ماضی میں سیاست دانوں کے خلاف توہین عدالت کے معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا آج دیا گیا حکم ان سے متضاد ہے۔ اس دوران مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اس معاملہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’ترازو سیدھا نہیں ہوسکا‘۔
ان دونوں بیانات کو اگر سیاسی بیان بازی قرار دیتے ہوئے مسترد بھی کردیا جائے تو بھی آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کے معاملہ کی کارروائی کو دو حوالوں سے پرکھنا ضروری ہے۔ ایک تو چیف جسٹس اطہر من اللہ کے عدالتی کارروائی کے دوران دیے گئے پے در پے ریمارکس کی روشنی میں توہین عدالت، عمران خان کے طرز عمل اور عدالتی حکم کا جائزہ لینا چاہئے۔ دوسرے عمران خان کو ایک ہفتہ کی مہلت ملنے کے بعد فواد چوہدری کے اس بیان پر غور کرنا اہم ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان ایک مقبول لیڈر ہیں، اس لئے انہیں سزا نہیں دی جاسکتی۔
تحریک انصاف کے لیڈر کا یہ بیان نہ صرف عدالتوں کے بارے میں سنگین غلط فہمی پیدا کررہا ہے بلکہ ملک کے نظام عدل اور اصول قانون پر بھی نئے سوالات سامنے لاتا ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ کیا چیف جسٹس اطہر من اللہ عدالت کے زیر سماعت ایک معاملہ پر ایک اہم سیاسی لیڈر کے اس غیر ذمہ دارانہ اور کسی حد تک اشتعال انگیز بیان کا نوٹس لیتے ہیں اور انہیں بھی توہین عدالت کے معاملہ میں فریق بنانے کا اقدام کرتے ہیں یا ’روائیتی وسیع القلبی‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، ملکی عدلیہ کی خود مختاری پر کئے گئے اس سنگین حملہ کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ تاہم درگزر کا طرز عمل اختیار کرنا گو کہ اعلیٰ عدلیہ کی شان کے مطابق تو ہوگا لیکن اس سے عدالتی انصاف کے بارے میں شبہات کو تقویت ملے گی۔ کیا عدالتی خود مختاری اور آئینی بالادستی کی دعویدار کوئی عدالت اس صورت حال کو نظر انداز کرنے کی متحمل ہوسکتی ہے؟
اس معاملہ پر مزید غور کرنے سے پہلے یہ نوٹ کرنا بھی اہم ہے کہ عمران خان کو ایک خاتون جج کو دی گئی دھمکیوں پر ابھی صرف شو کاز نوٹس دیا گیا تھا۔ انہیں عدالتی حکم میں یہ وضاحت کرنے کے لئے کہا گیا تھا کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ یعنی عمران خان کو موقع فراہم کیا گیا تھا کہ یا تو وہ اپنی کوتاہی پر معافی مانگ لیں اور معاملہ رفع دفع ہوجائے یا پھر ان کے خلاف توہین عدالت کا چارج فریم کرکے انہیں اس الزام کا باقاعدہ سامنا کرنے پر مجبور کیا جاتا۔ عمران خان کے جواب میں کسی غلطی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا ہے بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ انہوں نے یہ تصور کیا تھا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیبا چوہدری جوڈیشل عہدیدار کی بجائے مجسٹریٹ کے طور پر وفاقی حکومت کے احکامات بجا لارہی تھیں۔ گویا عمران خان نے اپنے بیان کی صحت سے انکار نہیں کیا بلکہ جج زیبا چوہدری کی حیثیت کے بارے میں غلط فہمی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ عمران خان کے وکیل حامد خان کے بقول ان کامؤکل کسی عدالتی عہدیدار کی توہین کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔
اس مضحکہ خیز دلیل اور عمران خان کے جواب پر مزید بحث کی بجائے یہ دیکھنا چاہئے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کوشو کاز نوٹس کی وضاحت مانگنے کی بجائے عمران خان کا تحریری جواب قبول کرنے میں کیا مشکل درپیش تھی؟ جہاں تک عمران خان کو ’معافی ‘ مانگنے پر آمادہ کرنے کی بات تھی تو مزید اور طویل عدالتی کارروائی کے دوران کسی بھی مرحلے پر یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاسکتی تھی۔ آخر گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس شمیم رانا کے بیان حلفی کو توہین عدالت قرار دینے کا معاملہ بھی تو ابھی تک تعطل کا شکار ہے۔ حالانکہ اس موقع پر بھی جسٹس اطہر من اللہ نے اپنی دیانت داری اور عدالتی خود مختاری کے بلند بانگ دعوے کئے تھے لیکن جس جوش سے یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا، اتنی ہی خاموشی سے اسے بھلا دیا گیا۔
میڈیا میں آج کی جو عدالتی کارروائی رپورٹ ہوئی ہے اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ ہی بات کرتے رہے ۔ انہوں نے 9 اپریل کو عدالت کھولنے سے لے کر اپنے سابقہ عدالتی ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ کسی کی پرواہ نہیں کرتے اور پوری دیانت داری سے فیصلے کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ 9 اپریل کو رات گئے عدالت کھولنے کا مقصد یہ واضح پیغام دینا تھا کہ عدالت 12 اکتوبر 1999 کے واقعات دہرانے کی اجازت نہیں دے گی۔ اب عمران خان سوال کرتے ہیں کہ آدھی رات کو عدالت کیوں کھلی۔ یہ عدالت تو آئین کی بالادستی اور عام شہریوں کی دادرسی کے لئے چوبیس گھنٹے کھلی ہے‘۔ چیف جسٹس کی ان وضاحتوں سے تو یہ لگتا ہے کہ جیسے کٹہرے میں عمران خان نہیں بلکہ چیف صاحب خود کھڑے ہوں اور اپنی پوزیشن واضح کرکے یقین دلانا چاہتے ہوں کہ ان سے قانون کی بالادستی اور انصاف کے سوا کوئی توقع نہ کی جائے۔ سوچنا چاہئے کہ کیا یہ معذرت خواہانہ طرز عمل ہائی کورٹ کے ایک چیف جسٹس کو زیب دیتا ہے؟
سماعت کے دوران متعدد مواقع پر ریمارکس دیتے ہوئے عمران خان کی توہین عدالت کے بارے میں جسٹس اطہر من اللہ کے جو بات کی ا س کا خلاصہ کچھ یوں ہے: ’مجھے توقع تھی کہ عمران خان اپنی غلطی کا احساس کریں گے اور یہاں آنے سے پہلے آپ زیریں عدالت جاکر بتائیں گے کہ آپ کو ان پر اعتبار ہے۔ یوں لگتا ہے کہ عمران خان کو اپنی غلطی کا احساس ہی نہیں ہے‘۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اڈیالہ جیل کس کی نگرانی میں ہے اور پوچھا کہ کیا جیل حکام کسی قیدی پر تشدد کے شبہ کی صورت میں طبی معائینہ کے بغیر ہی اسے وصول کرلیتے ہیں؟ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ’جب عمران خان نے ایک جج کے بارے میں تبصرہ کیا ، اس وقت یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا‘۔ پھر فرمایا کہ ’عمران خان کا جواب ان کی حیثیت کے سیاست دان کے شایان شان نہیں ہے۔ انہیں اپنے عمل کی سنگینی کا احساس ہی نہیں ہے‘۔
عمران خان کی اس پیش کش پر کہ وہ جج کے بارے میں اپنے الفاظ واپس لینے کے لئے تیار ہیں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے فرمایا کہ ’گزرا وقت اور کہی ہوئی بات واپس نہیں ہوسکتی‘۔ اس دو ٹوک اعلان کے بعد جائز طور سے سوال کیا جاسکتا ہے کہ پھر اضافی وضاحت کے لئے عمران خان کو مزید مہلت کس بنیاد پر دی گئی ہے۔ کیا چیف جسٹس اطہر من اللہ چاہتے ہیں کہ عمران خان ایسا ’جواب‘ جمع کروائیں جسے پڑھ کر انہیں دکھ نہ ہو۔
کوئی بھی جج ذاتی احساسات سے بالا ہو کر صرف میرٹ اور قانون کی بنیاد پر کسی معاملہ پر غور کرتا ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے بیان پر اظہار افسوس کرکے، اس معاملہ میں اپنے ذاتی احساسات کو شامل کرلیا ہے۔ اس کے علاوہ فواد چوہدری کے دعوے نے عدالتی خود مختاری پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔ ان حالات میں اس معاملہ کو منصفانہ انجام تک پہنچانے کے لئے ضروری ہوگا کہ اطہر من اللہ اس بنچ سے علیحدہ ہوجائیں۔ کوئی ایسا بنچ اس معاملہ پر غور کرے جو اپنے فیصلوں کا دفاع کرنے کی بجائے میرٹ کی بنیاد پر کارروائی کو آگے بڑھا سکے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

