تحریک انصاف نے ضمنی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ پارٹی کے سربراہ عمران خان نے قومی اسمبلی کے 7 حلقوں سے انتخاب لڑا تھا جن میں سے وہ6 میں بڑے مارجن سے کامیاب ہوئے ہیں۔ اسی طرح تحریک انصاف کو پنجاب اسمبلی کے تین حلقوں میں سے دو میں کامیابی ملی ہے۔ پیپلز پارٹی نے ملتان اور کراچی سے قومی اسمبلی کی دو نشستیں جیتی ہیں جو اس سے پہلے تحریک انصاف کے پاس تھیں۔ البتہ اس شاندار کامیابی کے باوجود اس بات کا امکان نہیں ہے کہ جلد انتخابات کے لئے عمران خان کی خواہش پوری ہوجائے گی۔
اس تاریخ ساز کامیابی کے باوجود ملک کی سیاسی صورت حال میں کسی قابل ذکر تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ اول تو تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کا بائیکاٹ کیا ہؤا ہے جسے وہ بظاہر اسمبلی سے استعفے دینا کہتی ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے جن نشستوں کو خالی قرار دیا، ان پر ضمنی انتخاب منعقد ہؤا تھا۔ عمران خان نے آٹھ حلقوں میں سے سات میں خود امید وار ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ صرف ملتان کی نشست پر شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہر بانو قریشی کو موسی گیلانی کا مقابلہ کرنے کا موقع دیا گیا تھا لیکن وہ یہ نشست نہیں جیت سکیں۔ عمران خان کراچی کی ایک نشست کے علاوہ تمام 6 نشتوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔ یوں انہوں نے پاکستان کی انتخابی تاریخ میں دو ریکارڈ قائم کئے ۔ ایک تو بیک وقت سات نشستوں پر امید وار ہونا اور دوسرے ان میں سے چھے پر کامیابی حاصل کرنا شامل ہے۔
عمران خان پہلے سے ہی قومی اسمبلی کے رکن ہیں اور اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے ابھی تک ان کا استعفی منظور نہیں کیا ۔ لہذا اس کامیابی کے بعد عمران خان قومی اسمبلی کے 7 حلقوں سے ’عوام‘ کے نمائیندے ہیں۔ ان میں سے انہیں 6 نشستیں چھوڑنا پڑیں گی اور وہاں ایک بار پھر ضمنی انتخاب ہوگا۔ عمران خان کی موجودہ ’بھگاؤ اور ڈراؤ‘ کی سیاسی حکمت عملی میں قیاس کیاجاسکتا ہے کہ اگلے برس عام انتخابات منعقد ہونے تک یہی کھیل چلتا رہے گا۔عمران خان اس تماشہ کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومتی اتحاد پر عائد کرتے ہیں جسے وہ ’امپورٹڈ حکومت‘ قرار دیتے ہیں۔ گو کہ آڈیو لیکس کے نتیجہ میں عمران خان کے سازشی نظریہ سے ہوا نکل چکی ہے لیکن گزشتہ روز ہونے والے ضمنی انتخابات نے ثابت کیا ہے کہ ان کے حامی عمران خان کے جھوٹ کا پول کھلنے کے باوجود حمایت ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان اپنے کسی سیاسی عمل کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے ۔ ان میں سے ایک افسوسناک فیصلہ تو قومی اسمبلی سے استعفے دینے اور پھر اسی اسمبلی کے لئے انتخاب لڑ کر قومی وسائل ضائع کرنے کے بارے میں ہے۔ ان کے حامی چونکہ قومی خزانے کے ضیاع پر ان سے سوال نہیں کرتے، اس لئے انہیں اپنے غلط فیصلوں کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ البتہ اس کی قیمت عمران خان کی بجائے قومی خزانہ ادا کرے گا۔
ضمنی انتخاب میں عمران خان کی فقید المثال کامیابی کے حوالے سے یہ نوٹ کرنا بھی ضروری ہے کہ تحریک انصاف ملک کی سب سے مقبول اور سب سے بڑی پارٹی ہونے کی دعویدار ہے۔ اس کے باوجود قومی اسمبلی کی آٹھ نشستوں میں سے سات پر عمران خان خود امید وار تھے۔ اگرچہ وہ ان میں سے خود بھی ایک نشست پر ہار گئے لیکن امکان ہے کہ اگر وہ ملتان کے حلقے سے بھی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کرتے تو شاید تحریک انصاف یہ نشست بھی جیت جاتی۔ البتہ انہیں اپنی پارٹی کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کی اس خواہش کا احترام کرنا پڑا کہ یہ ان کی خاندانی نشست ہے جواس سے پہلے ان کے بیٹے کے پاس تھی لہذا اسے ان کے خاندان میں ہی رہنے دیا جائے۔ غالباً یہی غلطی ملتان میں پی ٹی آئی کی ناکامی کا سبب بنی ہے۔ البتہ اس سے یہ بھیانک حقیقت بھی آشکار ہوئی ہے کہ تحریک انصاف سنگل مین شو ہے، کوئی منظم سیاسی پارٹی نہیں ہے۔ عمران خان کو پارٹی کی مقبولیت اور موجودہ حالات میں سیاسی دباؤ برقرار رکھنے کے لئے خود ہی تمام حلقوں پر انتخاب لڑنا پڑا۔ اگر وہ ملتان کی طرح باقی حلقوں میں بھی پارٹی کے دوسرے امیدواروں کو انتخاب میں حصہ لینے کا موقع دیتے تو شاید چند مزید حلقوں میں بھی ناکامی کا سامنا ہوتا۔ اس صورت حال سے عمران خان کی سیاسی مجبوری اور ان کی پارٹی کی کمزوری کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ عام انتخابات میں سیاسی مخالفین ان کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
البتہ سرکاری خزانے پر بار ڈالنے، اسمبلی کا حصہ بنے رہنے یا اس سے علیحدہ ہونے کے بارے میں تضاد اور پارٹی کے اندرونی خلفشار کو ذاتی مقبولیت کے بھرم سے چھپانے کی کامیاب کوشش سے قطع نظر سیاسی لحاظ سے یہ عمران خان کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ انتخابات میں کامیابی قبول کرنے کا ذمہ داری کا پیغام بھی ہوتی ہے۔ عمران خان نے ابھی تک اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے جو عوام کے اعتماد کی وجہ سے انہیں حاصل ہورہی ہے۔ وہ ابھی تک یہی سمجھتے ہیں کہ ملک کی باقی سیاسی قوتوں کے خلاف سیاسی مہم جوئی کرکے اور ملکی نظام کو مسلسل چیلنج کرتے ہوئے وہ یہ فرض بخوبی ادا کررہے ہیں۔ تاہم اسے ان کا ایک ایسا گمان کہا جاسکتا ہے جس کا زمینی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عمران خان ملک میں کوئی ایسا انقلاب برپا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں جس میں نہ صرف سیاسی عناصر بلکہ ملکی سیاست کے حصے دار دیگر ادارے بھی ان کے سامنے سرنگوں ہوجائیں اور وہ اپنی مرضی کے مطابق ایک نئے سیاسی نظام کے لئے حتمی فیصلے کرنے کا اختیار حاصل کرلیں۔
ضرور یہ اندازے قائم کئے جائیں گے کہ ضمنی انتخاب میں شاندار کامیابی کے بعد عمران خان نے اپنی مقبولیت کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں اور اب انہیں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ سے کوئی مجبوری یا کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ یہ قیاس اس حد تک تو درست ہوسکتا ہے کہ عمران خان اب لانگ مارچ کے بارے میں زیادہ حوصلہ مند ہوجائیں ۔لیکن یہ امکان دکھائی نہیں دیتا کہ اس لانگ مارچ کے نتیجے میں وہ حکومت کا تختہ الٹنے یا حکومت وقت کی مرضی کے برعکس اپنی خواہش کے مطابق جلد انتخابات کا مطالبہ منوانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ضمنی انتخابات میں حکمران اتحادی پارٹیوں کی بری طرح ناکامی کے بعد حکومتی اتحاد اب اسمبلیوں کی موجودہ مدت پوری کرنے بھرپور کوشش کرے گا۔ اس کی ایک وجہ تو وہی ہے جس کا ذکر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران کیا ہے کہ اتحادی جماعتوں نے حکومت سنبھال کر دراصل ریاست کو بچایا ہے البتہ آئیندہ نو دس ماہ کے دوران ایسے اقتصادی اقدامات کئے جائیں گے کہ حکمران پارٹیاں سیاسی مقبولیت واپس حاصل کرسکیں گی۔ تاہم موجودہ حالات میں زیادہ سے زیادہ مدت تک اقتدار میں رہنے کی کوشش کی ایک اہم وجہ یہ ’خوف‘ بھی ہوسکتا ہے کہ اب موقع ملا ہے تو زیادہ سے زیادہ مدت تک حکمرانی کے مزے لے لئے جائیں۔ انتخابات کی صورت میں نہ جانے عمران خان کے مقابلے دوبارہ اسمبلی تک پہنچنے کا موقع ملے یا نہ ملے۔
ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد عمران خان کو طے کرنا ہوگا کہ کیا وہ عوام میں اپنی مقبولیت کو ملکی جمہوری نظام مستحکم کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں یا اس مقبولیت کو دباؤ کے ہتھکنڈے کے طور پر بروئے کار لاتے ہوئے اسٹبلشمنٹ کی مدد سے ایک بار پھر اقتدار حاصل کرنے کی حکمت عملی اختیار کریں گے۔ انتخابی نتائج سے فوری بعد پارٹی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے ’طاقت ور حلقوں‘ کو مخاطب کرتے ہوئے جو اشارے دیے ہیں، اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ تحریک انصاف عوامی مقبولیت کے باوجود عوام کی حمایت و طاقت کو اقتدار تک پہنچنے کے لئے واحد قابل اعتبار راستہ نہیں سمجھتی بلکہ اس کا خیال ہے کہ کسی بھی طرح اسٹبلشمنٹ کو باور کروایا جائے کہ وہ موجودہ اتحادی حکومت کو نئے انتخابات کروانے پر مجبور کرے اور تحریک انصاف کو ہی ماضی قریب کی طرح ’ایک پیج‘ کا حصہ دار تسلیم کرلے۔ باہمی روابط کی خبروں کے باوجود آثار یہی بتاتے ہیں کہ عمران خان اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان معاملات بدستور عدم اعتماد کا شکار ہیں اور ان حالات میں تحریک انصاف کو عام انتخابات میں 2018 جیسی کسی مدد کی امید نہیں کرنی چاہئے۔
تحریک انصاف کی کامیابی کی ایک وجہ بلاشبہ عمران خان کی مقبولیت ہوسکتی ہے لیکن انہوں نے اسٹبلشمنٹ مخالف طرز بیان اختیار کرکے درحقیقت نواز شریف کے ’ووٹ کو عزت دو‘ والے بیانیہ کی سیاسی ملکیت حاصل کرلی ہے۔ یعنی وہ ملک کے شہریوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہیں کہ صرف تحریک انصاف ہی اس اسٹبلشمنٹ کے خلاف حوصلے سے کھڑی ہوسکتی ہے جس نے ہمیشہ عوامی حکمرانی کا راستہ روکا ہے اور منتخب وزیر اعظموں کو خود مختاری سے کام کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ البتہ اسٹبلشمنٹ مخالف ووٹر جیسے نواز شریف کے تبدیل شدہ طرز عمل کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کا ساتھ چھوڑ رہا ہے، غیر واضح حکمت عملی کی وجہ سے وہ تحریک انصاف کے جھوٹ کو بھی بھانپ لے گا۔ عمران خان نے ابھی تک ملک میں جمہوری نظام کی کامیابی اور آئینی بالادستی کے بارے میں کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا ۔ ان کا سارا زور بیان ’چوروں ڈاکوؤں‘ سے نجات حاصل کرنے اور کسی بھی طرح خود اقتدار میں واپس آنے کے لئے صرف ہورہا ہے۔ تاہم اگر عمران خان نے ایک بار پھر اسٹبلشمنٹ ہی کی مدد سے اقتدار حاصل کیا تو ان کی ناکامیاں بھی پہلے سے مختلف نہیں ہوں گی اور سیاسی مقبولیت بھی عارضی ثابت ہوگی۔ اسٹبلشمنٹ مخالف سیاسی جد و جہد کی کامیابی کے لئے انہیں ملک کی باقی ماندہ سیاسی قوتوں کے ساتھ مکالمہ کرنا پڑے گا۔ لیکن وہ ابھی تک ایسے کسی ڈائیلاگ پر آمادہ نہیں ہیں۔
یوں تو عمران خان کے دیوانے ان کے کسی جھوٹ پر پریشان نہیں ہوتے لیکن حالیہ ضمنی انتخاب میں الیکشن کمیشن نے اپنی غیر جانبداری ثابت کی ہے جبکہ تحریک انصاف نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ صورت حال پارٹی کے بیانیہ کو کمزور کرے گی اور اسے جمہوریت کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش سمجھا جائے گا۔ انتخابی کامیابی کے باوجود الیکشن کمیشن کو طرف دار قرار دینے کی حکمت عملی عام انتخابات میں پارٹی کے لئے مشکلات کا سبب بنے گی۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

