سید مجاہد علیکالملکھاری

فرشتے امیدوار، دیانت دار سیاست دان اور قومی مفاد / سید مجاہد علی

صدر پاکستان کے حکم سے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 25 جولائی کو ملک میں عام انتخابات کروانے کا اعلان کیا ہے۔ قومی اسمبلی کے علاوہ چاروں صوبوں کی اسمبلیوں کے انتخابات بھی اسی روز منعقد ہوں گے۔ یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب کہ ملک میں جمہوریت کے مستقبل اور تسلسل کے حوالے سے لاتعداد سوالات سامنے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا سوال تو یہی ہے کہ کیا اس روز عام لوگ اپنی رائے، مرضی اور صوابدید کے مطابق فیصلہ کرنے کے مجاز ہوں گے یا ان کی رائے کو پروپیگنڈا کے زور پر اور سرکاری اداروں کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انتخابات سے بہت پہلے سے حکمران جماعت کے حوالے سے جو انتظامات دیکھنے میں آئے ہیں اور بعض حلقوں کی طرف سے مایوسی اور دوسروں کی طرف سے مسرت کا جو مظاہرہ ہورہا ہے، اس کی روشنی میں یہ تصور کرنا محال ہے کہ عوام اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوں گے۔ ملک میں سابق فوجی آمر ایوب خان کے زمانے میں جمہوریت کو بالواسطہ کنٹرول کرنے کے لئے بنیادی جمہوریتوں کے نظام کا تجربہ کیا جاچکا ہے۔ تاہم جب قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کی آمریت کو چیلنج کرنے کے لئے میدان سیاست میں قدم رکھا اور عوام نے ایک فوجی آمر کے مقابلے میں ان کا ساتھ دینے کا عزم ظاہر کیا تو ایوب خان سرکار کو اپنی عزت بچانے کے لئے اس بالواسطہ انتظام میں بھی دھاندلی کا راستہ نکالنا پڑا تھا تاکہ فاطمہ جناح کو ہرا کر قوم بدستور ایوب خان کی قیادت سے فیض یاب ہوتی رہے۔
ایوب خان کی رخصتی کے ساتھ ہی ان کا نافذ کیا ہؤا آئین اور بی ڈی سسٹم بھی اپنے انجام کو پہنچا۔ اگرچہ بظاہر ایوب خان نے خود ہی اقتدار یحیٰی خان کے سپرد کرتے ہوئے اپنے آئین کو پامال کیا لیکن درحقیقت یہ بھی ایک فوجی حکمران کے خلاف فوج کے اصل سربراہ کی بغاوت تھی۔ تاہم اس کا اہتمام یوں کیا گیا کہ بریگیڈ 111 کو متحرک کرنے کی ضرورت نہ پڑے اور ایک سابق آرمی چیف اور ملک کے مجبور صدر کو خود ہی اقتدار فوج کے سپرد کرنا پڑا۔ یحیٰی خان نے جو آزاد اور غیر جانبدارانہ انتخاب منعقد کروایا، وہ خود ہی اس کے نتائج کو قبول کرنے پر تیا رنہ ہو سکے۔ لہذا اس انکار کی صورت میں رونما ہونے والے واقعات نے ملک کو دو لخت بھی کیا اور ظلم اور شرمندگی کی کئی المناک داستانیں بھی رقم ہوئیں۔ یحیٰی خان کی مجبور حکومت سے باقی ماندہ پاکستان کو بچانے کے لئے سامنے آنے والے مقبول لیڈر ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو 1973 کا متفقہ آئین دیا جو اب تک نافذالعمل ہے لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ یہ آئین بھی ملک کو ضیا الحق کی فوجی آمریت اور ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی سے نہ بچا سکا۔ اپنے ہی محسن کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کے بعد اس کی مقبولیت کے خوف میں مبتلا ضیا الحق نے یہ اہتمام کیا کہ ملک کی عدالتوں نے سابق وزیر اعظم کو پھانسی دینے کا نادر روزگار حکم جاری کیا جس پر حرف بہ حرف عمل بھی کروا لیا گیا۔
ضیا کے دور میں ہی سیاست کو مینیج کرنے کے باقاعدہ ہنر کا آغاز کیا گیا۔ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ ملک کی خفیہ ایجنسیوں نے سیاسی مخالفین کی نگرانی کا کام بھٹو صاحب ہی کے حکم پر شروع کیا تھا۔ ووٹ کے ذریعے انتخاب کی سیاست کو کنٹرول کرنے کے لئے الیکٹ ایبلز ایجاد ہوئے جنہیں اپنے اپنے علاقے میں حکمرانی کا اختیار دے کر اس قابل بنا دیا گیا کہ لوگ جب بھی ووٹ ڈالنے جائیں تو وہ ان دیو قامت جاگیرداروں کو فراموش نہ کرسکیں کیوں کہ یہ ہر گرم و سرد میں ان کے ساتھ ہوتے ہیں یا دوسرے لفظوں یوں کہا جاسکتا ہے کہ ان کی مخالفت کرکے چھوٹے کاشتکار یا معمولی کاروباری لوگوں کے لئے جینا محال ہوجاتا ہے۔ اس لئے ایک طرف الیکٹ ایبلز ہمیشہ اقتدار کے پیچھے دوڑتے ہیں تو ان کے حلقے کا ووٹر اس لئے انہیں ووٹ دینے پر مجبور ہوتا ہے کہ تالاب میں رہتے ہوئے مگر مچھ سے بیر نہیں لیا جاسکتا۔
شہری ووٹ میں اضافہ اور مواصلات کے ذرائع میں سرعت کی وجہ سے کسی حد تک الیکٹ ایبلز کی طاقت کم ضرور ہوئی ہے لیکن یہ قوت شخصیت پرست معاشرہ میں پارٹیوں پر خاندانوں کے تصرف کے باعث کسی ایک لیڈر کا قد اونچا کرنے کے لئے استعمال کی جاتی رہی ہے۔ ملک میں پارلیمانی نظام جمہوریت کو تسلسل سے کام کرنے سے روکا گیا ہے اس لئے عام ووٹر کی طرف سے رائے دینے کا پیٹرن بھی اس سے متاثر ہؤا ہے۔ اب لوگ قومی امور، یا علاقائی مسائل پر کسی خاص امید وار کی صلاحیت یا خدمت کو پیش نظر رکھنے کی بجائے یا تو اس لئے ووٹ دیتے ہیں کہ اس کا تعلق کس خاندان ، برادری اور گروہ سے ہے یا یہ کہ وہ کس بڑے لیڈر کے پرچم تلے انتخاب لڑے گا جس کی مقبولیت اس کی جیت کی ضامن ہو سکتی ہے۔ پارلیمانی نظام انتخاب میں عوام کا شعور اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن اگر اس شعور کو مختلف قسم کی گروہی یا جذباتی کیفیت سے گہنا دیا جائے تو اس سے رائے عامہ کا اظہار تو ہوجاتا ہے لیکن عام ووٹر کی اصل مرضی و منشا کے مطابق نتائج سامنے نہیں آتے۔ اس طرح کثیر وسائل صرف کرکے شدید مشقت کے بعد جو نتائج سامنے آتے ہیں ، انہیں عوام کی خالص نمائیندگی کہنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ صورت حال بار بار غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد اور منتخب ہونے والوں کو جوابدہی کے لئے آمادہ و تیار کرکے ہی بہتر بنائی جاسکتی ہے۔ جوابدہی اسی صورت میں ممکن ہے جب حکومت میں آنے والی پارٹی اور افراد کو ریاستی اداروں سے مقابلہ بازی کی سزا دینے کی بجائے عوام کے مینڈیٹ کے مطابق کام نہ کرنے کا انجام بھگتنا پڑے۔ اور ووٹر انتخاب میں ایسے لیڈر یا پارٹی کو مسترد کرکے اپنا فیصلہ صادر کرے۔ اگر کسی انتخاب سے پہلے یہ طے کرلیا جائے کہ کون سا لیڈر اور پارٹی ’قومی مفاد ‘ کی ضرورتوں کو پورا نہیں کرسکتا اور کون سی جماعت کا پرچم حب الوطنی کی حقیقی علامت ہے تو عام لوگوں کی رائے کو منفی اور جعلی طریقےسے متاثر کرنے کا اہتمام کرلیا جاتا ہے۔ اس وقت ملک کو ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے۔
نواز شریف کو امین اور صادق نہ ہونے کی بنا پر نااہل قرار دیا گیا اور عدالتوں نے ان پر ہرقسم کا سیاسی یا سرکاری عہدہ سنبھالنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ گویا جو کام 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں عوام کو کرنا تھا کہ نواز شریف نے ان کے ووٹ کا مان رکھا یا اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جو عوام نے انہیں عطا کیا تھا، اس کا فیصلہ عدالتوں کے ججوں نے قانون اور آئین کا سہارا لیتے ہوئے پہلے ہی کردیا۔ اب نواز شریف نااہل وزیر اعظم ہیں اور اپنے ہی نام سے قائم پارٹی کی سربراہی کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں لیکن لوگ انہیں ہی اصل لیڈر مانتے ہیں اور پارٹی کے تمام معاملات میں ان کی رائے ہی اہمیت رکھتی ہے۔ عدالت اور کسی حد تک عوام کی مشکل آسان ہو جاتی اگر نواز شریف سپریم کورٹ کے فیصلہ کو مانتے ہوئے سیاست ترک کرکے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنے پر آمادہ ہو جاتے۔ لیکن انہوں نے مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور وہ ابھی تک اپنے بیانیہ اور مظلومیت کو بنیاد بنا کر عوام کے ووٹ لینے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف ایک منتخب وزیر اعظم کو برطرف کرنے کا اہتمام کرنے والی قوتوں کے لئے یہ صورت حال قابل قبول نہیں ہے کہ ان کا مسترد کیا ہؤا سیاسی لیڈر دوبارہ انتخاب جیت کر ملک پر اپنی مرضی کی حکومت ’مسلط‘ کرسکے۔ اسی لئے ضیا کے دور میں ایجاد ہونے والے اور بعد کے ادوار میں قوت پکڑنے والے الیکٹ ایبلز کی مانگ میں اضافہ اور رسد میں کمی محسوس کی جارہی ہے۔
ایک طرف مسلم لیگ (ن) کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کا اہتمام کیا جارہا ہے تو دوسری طرف الیکٹ ایبلز کو پاکستان تحریک انصاف میں جمع کرکے لوگوں کی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ جولائی میں ہونے والا انتخاب اب کسی پارٹی منشور یا ایجنڈے پر رائے شماری نہیں ہوگی بلکہ اس کے ذریعے یہ طے کیا جائے گا کہ بہتر نظام حکومت، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، معاشی ترقی اور مصالحتی ایجنڈے کی بنیاد پر علاقے میں بحالی امن کی کوششیں ضروری ہیں یا یہ نعرہ اہم ہے کہ بدعنوانی کا خاتمہ ہو اور منتخب لیڈروں پر کرپشن کے الزامات لگا کر انہیں ملک کا دشمن ثابت کیاجائے۔ کرپشن کا نعرہ ماضی میں ملک میں جمہوریت کی بجائے آمریت مسلط کرنے کی تمام کوششوں کا سرنامہ رہا ہے۔ ایک دور میں بدعنوان قرار دئیے گئے سیاست دان دوسرے عہد میں دودھ کے دھلے ثابت ہوتے رہے ہیں ۔ اسی لئے بدعنوانی کو انتخابی منشور کا بنیادی نکتہ بنانے سے جمہوریت کو مضبوط کرنے کی بجائے درپردہ قوتوں کے ایجنڈے کی تکمیل کا طریقہ ہی سمجھا اور کہا جارہا ہے۔
نواز شریف کے لئے سیاسی میدان میں امکانات محدود کرنے کا کام میڈیا، افواہوں کی ترسیل اور پارٹی سے قابل انتخاب لوگوں کو نکال کر دوسرے گروہ میں شامل کروانے کی کوششوں کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچایا جارہا ہے۔ اسی لئے ان انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو ویسی ہی مشکلات کا سامنا ہو گا جن کا سامنا 2013 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو طالبان کی دھکمیوں کی صورت میں ہؤا تھا۔ انتخابات میں شکست ہو سکتا ہے نواز شریف کے اعمال کی سزا ہو لیکن عوام کی رائے کے برعکس انتخابی نتائج کو تو عوام کی آزادی سلب کرنے کا نام ہی دیا جائے گا۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker