تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

عارف علوی پاکستان کے صدر ہوں گے /سید مجاہد علی

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا ہے کہ تحریک انصاف نے اپنے صدارتی امیدوار کے بارے میں حلیف جماعتوں سے بات چیت کرلی ہے اور اب اسے 4 ستمبر کو ہونے والے انتخاب میں ڈاکٹر عارف علوی کے منتخب ہونے کا پورا یقین ہے۔ وفاقی وزیر کے اس دعویٰ کو مسترد کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں ۔ ملک کی سیاسی تاریخ کے تناظر میں یہ دیکھنے میں آتا رہاہے کہ چھوٹی پارٹیاں اور آزاد ارکان عام طور سے اقتدار سنبھالنے والے گروہ میں شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت سازی آزاد ارکان کی ’روایت پسندی‘ کی وجہ سے ہی ممکن ہوئی تھی۔ اگر قومی سطح پر اور پنجاب میں آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے ارکان اپنی نام نہاد آزاد حیثیت برقرار رکھتے تو تحریک انصاف کے لئے حکومت سازی آسان نہ ہوتی۔
اس کے علاوہ قومی سطح پر ابھرنے والے دو نئے سیاسی گروہوں بلوچستان عوامی پارٹی اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائینس نے فطری طور پر تحریک انصاف کا ہی ساتھ دینا ہے۔ اب تو یہ دونوں گروہ مرکز میں حکومت کا حصہ ہیں اور وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے کی قیمت اپنی سیاسی حیثیت سے زیادہ وصول کرچکے ہیں۔ اس لئے صدارتی انتخاب میں یہ گروپ تحریک انصاف ہی کے امیدوار کی حمایت کریں گے۔ متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ (ق) بھی اسی کشتی کی سوار ہیں۔ ایک تو یہ دونوں پارٹیاں بھی ملک کی اسی قوت کی پیدا کردہ ہیں جو تحریک انصاف کے اچانک عروج کا سبب بنی ہے ۔دوسرے یہ دونوں پارٹیاں بھی معمولی نمائندگی کے باوجود وزارتوں اور عہدوں میں اپنا قابل ذکر حصہ وصول کرچکی ہیں۔ اس طرح اب اس بات میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ ملک کے آئندہ صدر تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی ہوں گے۔
تحریک انصاف نے ملک کی سب سے بڑی پارٹی بننے کے بعد بڑی ہوشیاری سے سیاسی اشتراک تشکیل دینے کے لئے کام کیا ہے۔ اسی لئے مسلم لیگ (ن) پنجاب میں سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود آزاد ارکان کو رجھانے اور ان کی اعانت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ بلکہ یہ آزاد ارکان عمران خان سے ملاقات کا اعزاز حاصل کرنے کے لئے جہانگیر ترین کے نجی طیارے کی سواری کا مزہ مفت میں لیتے رہے ہیں۔ مستقبل میں گزرے ہوئے سیاسی کل کا جائزہ لیتے ہوئے جہانگیر ترین کے سیاسی کردار اور ان کے طیارے اور دولت کا حوالہ دینا بھی اہم ہو گا۔ جہانگیر ترین بھی نواز شریف ہی کی طرح سپریم کورٹ سے نااہل قرار پا چکے ہیں ۔ وہ بھی بیرون ملک اثاثوں کے بارے میں سوالوں کے جواب دینے میں ناکام رہے تھے۔
تاہم ملک کا تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والا شخص تو اس وقت اڈیالہ جیل میں اپنے کردہ و ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہا ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے بنچ میں شامل جج حضرات نیب کے وکیل استغاثہ سے تند و تیز سوال کرنے کے بعد نواز شریف اور مریم نواز کو ریلیف دینے اور نیب عدالت سے ملنے والی سزا معطل کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ اس کے برعکس دوسرا نااہل جہانگیر ترین ملکی سیاست اور حکومت سازی میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ ترمیمی انتخابی ایکٹ پر غور کے دوران یہ طے کرچکی ہے کہ سپریم کورٹ سے آئین کی شق 62 (1) ایف کے تحت نااہل ہونے والا کوئی سیاست دان کسی بھی عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا۔ البتہ نواز شریف پر اس اصول کا پوری طرح اطلاق کرنے کے بعد جہانگیر ترین کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے سو موٹو والی عقابی نگاہ موند لی ہے۔ اور عمران خان ملک میں قانون کی بالادستی اور نظام انصاف میں سب کے لئے برابری کی خواہش کا اعلان کرنے کے باوجود نااہل جہانگیر ترین کو اپنا معتمد ترین مشیر بنائے ہوئے ہیں۔
جہانگیر ترین کو اگرچہ حکومت میں کوئی عہدہ حاصل نہیں ہے کیوں کہ عدالتوں کا احترام بہر حال واجب ہے لیکن عید کی نماز کی تصویریں جاری کرنے میں حجاب محسوس کرنے والے وزیر اعظم نے قوم سے پہلے خطاب کی تیاری کرتے ہوئے جہانگیر ترین کو پہلو میں بٹھا کر تصویر اتروانے اور جاری کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی۔ یہ پراسرار سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ اگر سپریم کورٹ سے نااہل قرار پانے والا شخص قومی سیاسی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں رکھتا تو و ہ قومی پالیسی سازی میں وزیر اعظم اور حکومت کا دست راست کیسے ہو سکتا ہے۔ سینیٹ کے انتخابات کو ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا۔ اس انتخاب سے عین پہلے سپریم کورٹ نے نواز شریف کی پبلک عہدوں سے نااہلی کی شرائط سخت کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ایک نااہل شخص نے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کئے تھے اس لئے وہ اب پارٹی کی طرف سے انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے۔ ان سب لوگوں کو آزاد حیثیت میں انتخاب میں حصہ لینا پڑا تھا۔ تاہم وہی سپریم کورٹ تحریک انصاف اور جہانگیر ترین کے معاملہ میں نرم روی کا مظاہرہ کررہی ہے۔
اس دوران غیر معروف اور الزامات کی زد پر آئے ہوئے شخص عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنواتے وقت تحریک انصاف کے وفاداروں اور حامیوں کی طرف سے یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ دراصل یہ تقرری عارضی ہے اور جہانگیر ترین کی نظر ثانی کی اپیل پر فیصلہ مٰیں جب وہ پھر سے صادق اور امین قرار پائیں گے تو وزارت اعلیٰ پنجاب کے اصل حقدار کو یہ عہدہ دیا جائے گا۔ ان خبروں کی صداقت صداقت کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا لیکن سوشل میڈیا کے علاوہ کالموں اور تبصروں میں جہانگیر ترین اور سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلہ کے حوالے سے اڑائی جانے والی دھول ملک کے نظام انصاف کی شفافیت کو بھی گہنا رہی ہے۔
حسب معمول سپریم کورٹ کے جاں باز چیف جسٹس جو نہ تو کسی سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی آئین کے علاوہ کسی بات پر غور کرتے ہیں اور شق 184(3) کے تحت حاصل اختیار کو استعمال کرتے ہوئے خود ہی پارلیمنٹ اور خود ہی آئین کی صورت متشکل ہوچکے ہیں، دیگر معاملات کی طرح جہانگیر ترین کے سوال پر بھی خاموش رہنا ضروری سمجھتے ہیں۔ تاکہ ملک کی نئی حکومت اپنے معاملات طے کرنے میں کامیاب رہے اور سپریم کورٹ پر سیاست میں مداخلت کا الزام عائد نہ ہو۔ انسان خواہ چیف جسٹس ہو اور آئین کا ہی احترام کرتا ہو لیکن اسے بھی احتیاط کا دامن تھامنا پڑتا ہے۔ اسے بعض لوگ اگر سیاست میں مقتدر حلقوں کی مداخلت کانام دیتے ہیں تو اس میں چیف جسٹس یا عدالتوں کا کوئی قصور نہیں ہو سکتا۔
الزام تراشی کرنے والوں کی زبان تو نہیں پکڑی جاسکتی۔ اسی لئے نظر انداز کرنا ہی رب کا محبوب فعل ہے جس پر جسٹس ثاقب نثار پوری طرح عمل کررہے ہیں۔ ملک میں نئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کا اتنا اثر دکھائی دیتا ہے کہ اب ہسپتال ہوں یا سرکاری ادارے، بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آتا ۔ اور نہ ہی چیف جسٹس کو پانی کی قلت کے وسیع المدت منصوبوں کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت ہے کیوں کہ وزیر اعظم چیف جسٹس کے اقدامات کی توصیف کرتے ہوئے اس سمت اقدام کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ پس ثابت ہؤا کہ بعض لوگوں کے اعلانات دوسرے لوگوں کے اقدامات سے بھی زیادہ مقدس اور قابل اعتبار ہوتے ہیں۔
ملک کے نئے صدر کے انتخاب کے حوالے سے تحریک انصاف کی صلاحیت، سیاسی مہارت اور سرپرست ہاتھوں کی قدرت و کرشمہ سازی کا ذکر کرنے کے علاوہ ملک کی متحدہ اپوزیشن کی خدمات کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ جس طرح پہلے وزیر اعظم کے متفقہ امیدوار کے حق میں ووٹ دینے سے انکار کی سیاست میں پیپلز پارٹی کا اسپیکر بنوانے کا موقع گنوا دیا گیا اسی طرح کسی مشاورت کے بغیر اعتزاز احسن کا نام بطور صدر تجویز کرکے صدر کا عہدہ پلیٹ میں رکھ کر تحریک انصاف کو پیش کردیا گیا ہے۔ آصف زرداری جو اپنی ہمشیرہ فریال تالپور کے ہمراہ ایک بار پھر ایف آئی اے میں طلب کئے گئے ہیں، اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ پیپلز پارٹی اعتزاز احسن جیسے لائق فائق امیدوار کا نام واپس نہیں لے سکتی۔ کل مری میں متحدہ اپوزیشن اجلاس سے امیدیں باندھنے والوں کوخبرہو کہ پیپلز پارٹی اپوزیشن میں وہی کردار ادا کرے گی جو اسے تفویض کیا گیاہے۔ رضا ربانی کی طرح اعتزاز احسن بھی دیرینہ وابستگی کی قیمت ادا کرتے ہوئے دم سادھے رہیں گے۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker