سید مجاہد علیکالملکھاری

کلثوم نواز کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنایا جائے/سید مجاہد علی

مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان کی طرف سے جمعہ کو بیگم کلثوم نواز کی آخری رسومات کی ادائیگی اور تدفین کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان کی میت اسی روز صبح کے وقت لندن سے پی آئی اے کے طیارے میں لاہور پہنچے گی۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف کی پیرول پر رہائی کے بعد کلثوم نواز کی میت لانے کے لئے لندن پہنچ چکے ہیں۔ بیگم کلثوم نواز کی رحلت سے ملک ایک اولوالعزم اور مخلص خاتون سےمحروم ہو گیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے ملکی سیاست میں براہ راست کوئی کردار ادا نہیں کیا لیکن اس کے باوجود جولائی 2000 میں اپنے شوہر کے علاوہ شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے متعدد دیگر لیڈروں کی قید کے دوران فوجی آمر پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف جس عزم، حوصلہ اور جمہوری عمل کے لئے استقامت کا مظاہرہ کیا تھا، وہ ان کی جمہوریت پسندی، خاندان سے وفاداری اور اپنے شوہر کی رہائی کی خواہش اور کوشش پر ہی دلالت نہیں کرتا بلکہ اس مختصر لیکن شاندار جد و جہد نے ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک سنہرے باب کا اضافہ کیا تھا۔


ایک جمہوری حکومت کے خلاف پرویز مشرف کی فوجی بغاوت کے بعد سپریم کورٹ انہیں نظریہ ضرورت کے تحت آئین شکنی کا ہی نہیں بلکہ تین برس تک اس میں ترمیم کرنے کا بھی حق دے چکی تھی۔ مایوسی اور بے چارگی کی اس فضا میں کلثوم نواز کے احتجاج اور پیغام نے ملک کے عوام کو جمہوری سفر جاری رکھنے کا حوصلہ دیا اور ملک کے آمر کو شریف خاندان کو سعودی عرب کے تعاون سے طے پانے والے معاہدہ کے تحت جلاوطن کردیا گیا۔ اگرچہ اپنے خاندان کے مردوں کے فیصلہ اور اپنے شوہر کی جان بخشی کے لئے بیگم کلثوم نواز نے اس معاہدہ کو قبول کیا اور خود بھی اپنے شوہر اور خاندان کے ساتھ طویل عرصہ تک جدہ میں جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئیں لیکن انہی کا جلایا ہؤا دیا تھا جو 2017 میں نواز شریف کی برطرفی اور ان کے خلاف مقدمات کے ازسر نو آغاز کے دوران ’جمہوریت کو عزت دو‘ کے نعرہ کی صورت میں پھر سے لو دینے لگا۔ کلثوم نواز نے صرف آمریت کو چیلنج کرنے کا ہی حوصلہ نہیں کیا بلکہ انہوں نے پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف اپوزیشن کی جماعتوں کو اکٹھا کرنے اور اے آر ڈی کے نام سے اشتراک عمل کا آغاز بھی کیا۔ ملک میں جمہوریت کی بحالی کے مقصد سے انہوں نے اس اپوزیشن اتحاد میں پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر جد و جہد کرنے کا اقدام کیا تھا۔
نواز شریف کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کی تمام سینیر قیادت کی گرفتاری کی وجہ سے انہیں پرویز مشرف کی فوجی بغاوت کے بعد پارٹی کا صدر بنایا گیا تھا کیوں کہ کوئی مرد اس مشکل وقت میں مردانہ وار فوجی آمریت کے دو بدو کھڑا ہونے کا حوصلہ کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ تاہم مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر جد و جہد پر آمادہ کرنا بھی بیگم کلثوم نواز کی سیاسی بصیرت کا نمونہ تھا۔ اس طرح نوے کی دہائی میں ایک دوسرے کے ساتھ آخری حد تک دشمنی نبھانے والی یہ دونوں بڑی پارٹیاں جمہوریت اور عوام کے حق حکمرانی کے لئے مل کر کام کرنے پر آمادہ ہو سکی تھیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بیگم کلثوم نواز 2000 میں اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون کی بنیاد نہ رکھتیں تو چھ برس بعد لندن میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان طے پانے والا میثاق جمہوریت بھی ممکن نہ ہوتا۔ اگرچہ اس وقت دونوں پارٹیاں پھر سے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی میں مصروف ہیں لیکن مئی 2006 کو طے پانے والے میثاق جمہوریت کی وجہ سے دسمبر 2007 میں بے نظیر بھٹو کی اچانک شہادت کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی صدمہ اور طوفان پر قابو پایا جاسکا تھا۔
میثاق جمہوریت اب تک نہ صرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان تعاون کے لئے ایک اہم دستاویز کے طور پر موجود ہے بلکہ ملک میں جمہوریت کی جد و جہد کرنے والی سب قوتیں اس میں طے کئے گئے اصولوں کو تسلیم کرتی ہیں۔ اس بات میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ سیاست میں فوج کی مداخلت کی روک تھام اور اعلیٰ عدالتوں کی مکمل خود مختاری کے بغیر اہل پاکستان کا جمہوری سفر منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہ بد نصیبی کا معاملہ ہے کہ ملک سے فوجی حکومت کے خاتمہ کے دس برس بعد ایک بار پھر سیاست پر عسکری قوتوں کے نقش پا ثبت کئے جارہے ہیں۔ سپریم کورٹ آئین کی شق 184 (3) کے بے دریغ استعمال کے باوجود میڈیا کے حق اظہار، خبروں کی غیر جانبدارانہ ترسیل اور جمہوری پارٹیوں کے خلاف درپردہ ہونے والے اقدامات کی روک تھام کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ماضی میں اگر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت جمہوریت کا بستر گول کرنے والے فوجی آمروں کو آئینی تحفظ فراہم کرنے کے لئے عذر تراشنے کا کارنامہ سرانجام دیتی رہی ہیں تو اب ایسے فیصلوں میں حصہ دار بنی ہوئی ہے جو جمہوری اداروں اور سیاسی پارٹیوں کو کمزور کرنے کا سبب ہیں ۔


اسی طرح ملک کی عدالتیں سیاست دانوں کو بدعنوان اور مجرم قرار دے کر ایسا مزاج پیدا کرنے میں فریق کا کردار ادا کررہی ہیں جو سیاست دانوں کو مسترد کرتے ہوئے طاقت اور سخت گیر نظام حکومت کے لئے فضا تیار کررہا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں مثال نواز شریف اور مریم نواز کی ایک کمزور مقدمہ میں انتخابات سے عین پہلے ناقابل یقین سزا اور حراست ہے۔ سپریم کورٹ سمیت ملک کی عدالتیں اور دیگر غیر سیاسی و غیر جمہوری ادارے اس رویہ کو راسخ کرنے کا حصہ ہیں جو سیاست دانوں پر بد عنوانی کا الزام عائد کرکے انہیں مناسب، غیر جانبدار اور مقررہ قوانین و قواعد کے تحت اپنا دفاع کرنے کا حق دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہے۔ ایسی آوازیں عام طور سے بلند کی جاتی ہیں جن میں یہ طے کرلیا گیا ہے کہ نواز شریف اور دیگر سیاست دان ’چور‘ ہیں اور پھانسی سے کم سزا کے مستحق نہیں ہیں۔ کسی بھی فعال جمہوریت کے لئے اس قسم کا مزاج زہر ناک ہوگا۔ لیکن پاکستان میں الزام کے بعد مجرم قرار دینے کا اعلان اعلیٰ ترین سیاسی پلیٹ فارم کے علاوہ عدالتی ایوانوں میں بھی سنا جا سکتا ہے۔
اسی افسوسناک صورت حال کی وجہ سے ملک کے چیف جسٹس ڈیم بنانے کا عزم کئے ہوئے ہیں اور اب اپنے متعین کئے ہوئے ہدف کے بارے میں سامنے آنے والی تنقید کو دشمنوں کا ایجنڈا قرار دینے جیسے سیاسی بیان جاری کرکے عدالتوں کے وقار اور اپنی آئینی حیثیت کو مشکوک بنانے کے راستے پر گامزن ہیں۔ ملک کی فوج کا سربراہ ڈیم فنڈ کے لئے عطیہ کا چیک دینے سپریم کورٹ آنے میں عار محسوس نہیں کرتا اور عدالتیں سیاست دانوں کی لوٹی ہوئی دولت کو برآمد کرنے کے جوش میں انصاف فراہم کرنے کے بنیادی فریضہ کو بھول کر فوج کی توصیف کرنے پر توجہ دے رہی ہیں۔ حالانکہ ملک کے مالی اور سیاسی مسائل پیدا کرنے میں اگر سیاست دانوں کا کردار ہے تو تین دہائی سے زائد تک ملک پر حکومت کرنے والی فوجی حکومتیں اور ان کو جائز قرار دینے والی عدالتیں بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہیں۔
بیگم کلثوم نواز نے صرف اس وقت سیاست میں حصہ لیا جب ان کے شوہر نے چاہا یا مجبوری کے عالم میں انہیں موقع دیا گیا لیکن جمہوریت کے لئے ان کی خدمت اور ووٹ کے احترام کے نعرے کے لئے ان کے استقلال کا تقاضہ ہے کہ جمعہ کو جب انہیں سپرد خاک کیا جائے تو یہ تقریب سرکاری اعزاز کے ساتھ منعقد ہو۔ اس طرح ملک کی جمہوری حکومت جمہوریت کے لئے ایک آمر کے سامنے ڈٹ جانے والی خاتون کو خراج عقیدت پیش کرنے کا اہتمام کرسکتی ہے۔ ایسا کرتے ہوئے عمران خان اپنی حکومت کے انتخاب کی بجائے نامزدگی جیسے الزامات کا دفاع بھی کر سکیں گے۔ لیکن کیا ایک ایسا وزیر اعظم یہ فیصلہ کرسکتا ہے جو کلثوم نواز کی رحلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کینسر جیسے مرض کے خلاف جدوجہد کو تو بہادری قرار دے لیکن آمر کی طاقت کے سامنے سینہ سپر ہونے کی ہمت کا ذکر کرنا کو بھول جائے۔ عمران خان کی حکومت کے پاس اپنی جمہوریت نوازی کو ثابت کرنے کا یہ نادر موقع ہے جو قسمت نے اسے عطا کیا ہے۔ عمران خان یہ فیصلہ نہ کر سکے تو تاریخ انہیں فوجی اختیار کے تسلسل کا سبب بننے والی سیاسی جماعت کے لیڈر سے زیادہ اہمیت نہیں دے گی۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker