سید مجاہد علیکالملکھاری

پی ٹی ایم پر الزا م تراشی: تاریخ سے نابلد ہونے کی نشانی ہے!۔۔سید مجاہد علی

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے آج دبنگ انداز میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی ہے جس میں اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو للکارا گیا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں کی گئی باتوں میں کسی سیاسی جلسے کی تقریر جیسا جوش موجود تھا اور آئی ایس پی آر کے ڈائیریکٹر جنرل نے کسی ماہر سیاسی قائد ہی کی طرح قوم کو درپیش مسائل کا تجزیہ کیا اور ان کا حل بھی پیش کردیا۔ تاہم نہ تو اس وقت غصیلے الفاظ کےساتھ ایک ہی سانس میں بھارت اور پشتون تحفظ موومنٹ کا ذکر کرنے کی حکمت سمجھ آسکی ہے۔ اور نہ ہی یہ اندازہ ہو سکا ہے کہ سرحدوں کی حفاظت یا ملک دشمن عناصر کو روکنے کے لئے میجر جنرل صاحب کا یوں جوش و خروش سے تقریر کرنا اور چیلنج دینے کے لہجے میں بات کرنا کیوں ضروری تھا۔
یہ پریس کانفرنس پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کے انداز خطابت کے علاوہ اپنے موضوعات کے اعتبار سے بھی اہم تھی۔ اس میں ان امور پر بات کی گئی جن کا فوج سے براہ راست تعلق نہیں ہو سکتا۔ ملک کا دفاع ہو یا بعض گروہوں کی مملکت کے خلاف سرگرمیاں یا مدرسوں میں نیا نصاب متعارف کروانے کے علاوہ انہیں مین اسٹریم میں لانے کے لئے وزارت تعلیم کے تحت کرنے کا معاملہ، ان امور پر ملک کی حکومت ہی فیصلے کرنے کی مجاز ہے ۔ جبکہ فوج بھی کسی بھی دوسرے ادارے کی طرح ان پر عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ البتہ میجر جنرل آصف غفور کی باتوں سے ایک بار پھر یہ واضح ہؤا ہے کہ پاک فوج تمام قومی امور کو اپنے فرائض کا حصہ سمجھتی ہے اور ان پر اظہار خیال کو بھی فوج کا استحقاق سمجھا جاتا ہے۔
یہ طرز عمل البتہ فیض آباد دھرنے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی آبزرویشن کے برعکس ہے جس میں فوج کے سیاسی معاملات میں مداخلت کے علاوہ، ان کے بارے میں اظہار خیال کو بھی غلط قرار دیا گیا تھا۔ اس فیصلہ میں خاص طور سے میجر آصف غفور کے ہی ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے فوج سے کہا گیا تھا کہ وہ سیاسی بیان دینے سے گریز کرے۔ اس فیصلہ میں جس بیان کو سپریم کورٹ نے نوٹ کیا تھا، وہ 2018 میں ہونے والے انتخابات کی شفافیت کے بارے میں پاک فوج کے ترجمان کی گواہی تھی۔
یوں لگتا ہے کہ پاک فوج کے ترجمان کو سپریم کورٹ کی فیصلہ کے مندرجات سے آگاہی نہیں ہوئی یا پھر وہ سپریم کورٹ کے فیصلہ میں دیئے گئے ریمارکس کو خاطر میں لانے کے لئے تیا رنہیں ہیں۔ اگرچہ یہ بات بھی درست ہے کہ پاک فوج کے علاوہ حکمران پارٹی نے فیض آباد دھرنا کیس میں عدالت عظمیٰ کے فیصلہ پر نظر ثانی کی درخواست دائر کی ہوئی ہے۔ لیکن کسی فیصلہ کے خلاف صرف اپیل دائر کردینے سے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کا کوئی فیصلہ کالعدم نہیں ہوجاتا۔ یہ فیصلہ اسی وقت تبدیل ہوگا جب سپریم کورٹ خود ہی نئے شواہد اور دلائل کی روشنی میں اسے بدلنے یا منسوخ کرنے کا فیصلہ صادر کردے۔ اس تناظر میں میجر جنرل آصف غفور کی سیاسی تقریر نما پریس کانفرنس غیر مناسب اور ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے اور مشورہ کی خلاف ورزی کے مترادف ہے ۔
اس بحث سے قطع نظر پاک فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس کو غور سے پڑھا جائے تو اس میں تین باتیں نوٹ کی جاسکتی ہیں۔ ان میں سے بعض باتیں دو ٹوک انداز میں کہی گئی ہیں جبکہ بعض بین السطور موجود ہیں:
1۔ میجر جنرل آصف غفور نے قومی معاملات پر فوج کی دلچسپی اور کمٹمنٹ کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی تائید کی ہے کہ فی الوقت تحریک انصاف کی حکومت اور وزیر اعظم کو فوج کی تائید و حمایت حاصل ہے۔ اگرچہ یہ بات بالواسطہ طور سے ہی کہی گئی ہے لیکن اسے پاک فوج کے ترجمان کے الفاظ اور لب و لہجہ میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اس وضاحت سے ملک میں سامنے لائے جانے والے ان مباحث کی تردید ہوتی ہے کہ فوج موجودہ حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کی وجہ سے اب معاملات براہ راست اپنے ہاتھ میں لے رہی ہے اور وزیر اعظم عمران خان آرمی چیف کا اعتماد کھوتے جارہے ہیں۔
پریس کانفرنس میں اگر اس تاثر کو زائل کرنے کی بالواسطہ کوشش کی گئی ہے تو یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ خارجہ معاملات ہوں، سیکورٹی کے مسائل ہوں یا ملک کے دفاع کا سوال ہو، پاک فوج خود کو ان تمام شعبوں میں براہ راست جوابدہ سمجھتی ہے اور وہی حکمت عملی اختیار کرے گی جو ا س کے نزدیک مناسب اور قومی مفاد میں ہوگی۔ اس حوالے سے کم از کم میجر جنرل آصف غفور نے آج کی پریس کانفرنس کے دوران کی گئی باتوں میں پارلیمنٹ یا منتخب حکومت کے کسی کردار کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا۔
2۔ فروری میں پلوامہ سانحہ کے بعد بھارت کے ساتھ بڑھنے والی کشیدگی کا تفصیل سے تذکرہ کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ اگر بھارت نے کسی قسم کی جارحیت کا مظاہرہ کیا تو اسے اسی طرح منہ توڑ جواب دیا جائے گا جیسا فروری میں ہی لائن آف کنٹرول پر فضائی جھڑپ کے دوران دیا گیا تھا۔ میجر جنرل آصف غفور نے خود ہی 1971 کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اب نہ وہ حالات ہیں، نہ وہ فوج ہے اور نہ ہی پاکستانی میڈیا کمزور ہے‘۔ اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں ۔ فوج بھی پاکستان کے خلاف ہر جارحیت کا جواب دینے کے لئے تیار ہے اور ملک کا میڈیا بھی اتنا باشعور اور طاقت ور ہے کہ وہ دنیا پر بھارت کا اصل روپ آشکار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
3۔ پاک فوج کے ترجمان نے پشتون تحفظ موومنٹ کا خاص طور سے ذکر کیا اور متنبہ کیا کہ انہیں دی جانے والی مہلت اب ختم ہو چکی ہے۔ اب فوج کے خلاف کہی گئی باتوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ میجر جنرل آصف غفور نے واضح کیا کہ پی ٹی ایم کے مٹھی بھر نوجوان پشتون عوام کو بھڑکا رہے ہیں ۔ انہیں واضح کرنا چاہئے کہ وہ پاکستان کے وفادار ہیں یا کسی دوسرے ملک کے۔ پاک فوج کے ترجمان نے پی ٹی ایم کی قیادت پر بھارتی ایجنسی را اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس سے فنڈز لینے کا الزام لگاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے لیڈر اپنے وسائل کی تفصیلات فراہم کریں تاکہ ان کی حب الوطنی کی تصدیق ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم نے لاپتہ لوگوں کی فہرستیں فراہم کی ہیں لیکن میرا مطالبہ ہے کہ وہ افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کے لوگوں کی فہرست بھی فراہم کریں تاکہ ہم دیکھ سکیں کہ ان میں سے کتنے لوگ ہمسایہ ملک سے پاکستان کے خلاف سرگرم ٹی ٹی پی کے ساتھ ملوث ہیں۔
اس پریس کانفرنس میں چند بنیادی حقوق کے لئے مہم چلانے والے پشتون نوجوانوں کی تنظیم کو غدار قرار دیا گیا ہے۔ اور ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ نہ صرف دشمن ملک کی ایجنسیوں سے رقم لیتے ہیں بلکہ طالبان پاکستان کے ساتھ تعاون بھی کرتے ہیں۔ اپنے علاقوں میں تحفظ مانگنے اور مشکوک لوگوں کے خلاف ملک کے قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کرنے والے نوجوانوں کے خلاف پاک فوج نے سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ پاکستان ماضی میں الزام تراشی کرنے اور کسی بھی گروہ یا قومیت کی حب الوطنی کو چیلنج کرنے کے افسوس ناک نتائج بھگت چکا ہے۔ میجر جنرل آصف غفور نے خود ہی 1971 کی جنگ اور حالات کا ذکر کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں اور فوج بھی بدل چکی ہے۔
لیکن انہوں نے جس طرح کسی ثبوت کے بغیر پشتون تحفظ موومنٹ پر الزام تراشی کی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی ہے، اس سے تو یہ نہیں لگتا کہ فوج کی سوچ اور کام کرنے کے طریقہ میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ مشرقی پاکستان کے عوام کے حقوق کی بات کرنے والی عوامی لیگ اور اس کے قائد شیخ مجیب الرحمٰن کو بھی اسی طرح غدار قرار دیا گیا تھا۔ اپنے بنیادی حقوق کے لئے احتجاج کرنے والے لوگوں کو تب بھی اسی طرح طاقت سے دبایا گیا تھا جس کی دھمکی اب پی ٹی ایم کو دی گئی ہے۔ اس لئے دوسروں کو حالات اور وقت تبدیل ہونے کی خبر دینے سے پہلے خود اس کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے۔ اب بنیادی حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والوں کو طاقت سے کچلنے کا کوئی طریقہ کامیاب ہونے کا امکان نہیں۔
فوج کے پاس اگر پشتون تحفظ موومنٹ یا اس کے لیڈروں کے خلاف بیرونی طاقتوں سے رقوم لینے اور تحریک طالبان پاکستان سے تعاون کرنے کے ثبوت موجود ہیں تو پریس کانفرنس میں الزام تراشی کی بجائے عدالت میں متعلقہ لوگوں کے خلاف مقدمے چلا کر دودھ کا دودھ پانی کا پانی کیوں نہیں کیا جاتا؟ لاپتہ افراد کے بارے میں پی ٹی ایم کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ جن لوگوں کوکسی الزام اور مقدمہ کے بغیر غائب کردیا گیا ہے، انہیں سامنے لایا جائے اور عدالتوں میں ان کے خلاف ملکی قوانین کے مطابق مقدمے چلائے جائیں۔ ملک کے قانون کو تسلیم کرنے والوں اور اس کے عدالتی نظام کو قبول کرنے والوں کو پاک فوج کے ترجمان کی طرف ’غدار‘ قرار دینے کا طریقہ ملک میں انتشار اور بے چینی کے ایک نئے دور کا پیامبر ہو سکتا ہے۔
آج کی پریس کانفرنس کا بنیادی مقصد شاید یہی پیغام دینا تھا کہ فوج اب پی ٹی ایم کے خلاف کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کرم ایجنسی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے بھی پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف اسی انداز میں بات کی تھی۔ اب میجر جنرل آصف غفور نے فوج کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں بھارتی جارحیت اور مدرسوں کی اصلاح کے بارے میں کی گئی باتیں دراصل اس پیغام کے عذر کے طور پر کی گئی ہیں کہ پشتون تحفظ موومنٹ دشمن کے ایجنڈے کے مطابق پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ گویا بھارت کو شکست دینے لئے اپنے ہی لوگوں کے خلاف نئی کارروائی کی نوید دی جا رہی ہے۔ اگر سوچ، طریقہ اور الزام تراشی کا ڈھنگ آزمودہ اور پرانا ہے تو اس بات کی ضمانت کیسے دی جا سکتی ہے کہ تاریخ خود کو نہیں دہرائے گی؟
فوج اس غلط فہمی سے نکل آئے تو بہتر ہے کہ ملک پر دسترس اور جمہوری نظام کو یرغمال بنانے کے ہتھکنڈوں کو قبول کر لیا گیا ہے یا عام لوگ انہیں سمجھنے سے قاصر ہیں۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ نے جس پاکستانی میڈیا کی مہارت، جرات اور بے باکی کے قصیدے سنائے ہیں، اس کے بیان کئے ہوئے قصے گمراہ کن ہیں۔ کیوں کہ یہ ’میڈیا‘ عوام کے حقوق کا محافظ نہیں بلکہ حقوق غصب کرنے والوں کا ترجمان بنا ہؤا ہے۔ فوج کے ترجمان قصیدہ خوانوں کے قصیدے پڑھ کر سچ تک پہنچنے کی صلاحیت سے محروم ہو سکتے ہیں۔
سچ اس ’ فکری سراب ‘سے بہت زیادہ سنگین اور بھیانک ہے جس پر یقین کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے حالات پر مکمل کنٹرول کا تاثر عام کرنے کی کوشش کی ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker