سید مجاہد علیکالملکھاری

احتجاج کا موسم : کیا حکومت گرانا ہی واحد مقصد ہے؟۔۔سید مجاہد علی

ملک کی متحدہ اپوزیشن نے 25 جولائی کو یوم سیاہ منانے کی تفصیلات کا اعلان کیا ہے۔ اس روز اپوزیشن جماعتیں ملک بھر میں گزشتہ برس جولائی میں ہونے والے انتخابات میں ’دھاندلی‘ کے خلاف احتجاج کریں گی۔ اس کے ساتھ ہی کابینہ کے ایک اجلاس کے بعد وزیر مواصلات مراد سعید نے سابقہ حکمرانوں کی فضول خرچیوں کی تفصیل بتاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کابینہ نے سابقہ حکمرانوں (انہیں نواز شریف، آصف زرداری اور شہباز شریف پڑھا جائے ) سے اپنے عہدوں کے کیمپ آفس چلانے، سیکورٹی اور غیر ملکی دوروں پر اٹھنے والے اخراجات وصول کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔ گویا اگر اپوزیشن ایک پتھر پھینکے گی تو حکومت کو دو پتھروں سے اس کا جواب دینے کے لئے تیار پائے گی۔
سابق صدر، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی سرکاری حیثیت پر قومی خزانہ سے صرف ہونے والے مصارف کو ’قومی دولت لوٹنے کا طریقہ‘ بتاتے ہوئے وفاقی وزیر مراد سعید نے بتایا ہے کہ ملک کے وزیر اعظم کے طور پر عمران خان بنی گالہ کی رہائش گاہ کے مصارف خود برداشت کرتے ہیں۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا بھی کوئی کیمپ آفس نہیں ہے۔ اس لئے جن حکمرانوں نے اس ’اصول‘ کی خلاف ورزی کی ہے، وہ لٹیرے کہلائیں گے اور عمران خان کا طریقہ ہی درست اور ایمانداری کا پیمانہ قرار دیا جائے گا۔
اس طریقہ میں البتہ قباحت صرف یہ ہے کہ سابقہ حکومتوں کا احتساب کرتے ہوئے عمران خان کی حکومت کی میزان 2008 سے آگے نہیں بڑھتی۔ اسے پرویز مشرف یا اس سے پہلے آنے والے فوجی و غیر فوجی حکمرانوں کی بے اعتدالیوں پر کوئی پریشانی نہیں ہے۔ اس کی سیاسی وجہ تو قابل فہم ہے کہ عمران خان کو پرویز مشرف سے تو کوئی سیاسی خطرہ نہیں ہے بلکہ پرویز مشرف کی کابینہ کو تو عمران خان نے اب ’گود لیا ہؤا ہے‘ ۔ اسی لئے سابق فوجی حکمران تحریک انصاف کے وزرا کو اپنے ہی بندے کہتے ہیں۔
البتہ نواز شریف اور آصف زرداری کے ساتھ معاملہ مختلف ہے۔ یہ دونوں اب بھی تحریک انصاف کے لئے بڑا سیاسی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے سندھ میں حکومت قائم کی ہوئی ہے اور مسلم لیگ (ن) کسی انہونی کے انتظار میں پنجاب اور وفاق میں تحریک انصاف کی حکومتوں کے پاؤں تلے سے زمین کھینچ لینے کو بے چین ہے۔ آج نہیں تو کل ایسی کسی انہونی سے پہلے وزیر اعظم کو ان لیڈروں کو مقدموں، گرفتاریوں، دھمکیوں اور دباؤ کے ہر ممکن ہتھکنڈے سے سیاسی طور سے غیر مؤثر کرنا ہے۔
اسی لئے قومی دولت لوٹے جانے کے بارے میں وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں کی بے چینی قابل فہم ہونے کے باوجود کسی قانونی، اخلاقی یا سیاسی اصول سے مطابقت نہیں رکھتی۔ لیکن ملک میں اصول کی بات کو اہمیت دینے کی بجائے زور ذبردستی، الزام تراشی اور اسکینڈل کھڑے کرنے کا موسم ہے۔ اگر مریم نواز احتساب جج کے خلاف ویڈیو اسکینڈل کھڑا کرے گی تو حکومت ’دی میل‘ کی خبر کو بنیاد بنا کر شہباز شریف کی لوٹ مار کی داستان سنائے گی خواہ برطانوی حکومت اخبار کی رپورٹ کو بے بنیاد ہی کیوں قرار نہ دے۔
الزام تراشی اور اس سے فائدہ حاصل کرنے کا معاملہ سیاست سے یوں نتھی ہوچکا ہے کہ ا س میں دھول اڑانا ہی سب سے مناسب ہتھکنڈا قرار پاتا ہے۔ جو جتنا سنسنی خیز الزام عائد کرے گا اور اسے جس قدر زور سے بیان کرے گا، وہی قابل اعتبار ٹھہرے گا یا کم از کم اس کے حامی دوسرے کی کمزوری کو اپنے لیڈر کی کامیابی قرار دے کر اطمینان قلب حاصل کرسکیں گے۔ اس وقت پاکستان میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان یہی مقابلے بازی جاری ہے۔
حتمی فیصلہ انہی کو کرنا ہے جن پر ’نامزد‘ کرنے کا الزام آتا ہے لیکن نیرنگی حالات کا دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ نامزد ہونے والا تو معتوب اور الزامات کی زد پر ہے لیکن نامزد کرنے والوں کا ذکر کرنا کوئی بھی ضروری نہیں سمجھتا۔ راوی اس کی ایک وجہ خوف دوسری اس لالچ کو بیان کرتا ہے کہ کل کلاں اس ’نامزدگی‘ کی ضرورت کسی کو بھی پیش آسکتی ہے۔
تحریک انصاف اور عمران خان اپوزیشن لیڈروں کے گلے میں پھندا ڈالتے ہوئے مسلسل یہ سچ فراموش کررہے ہیں کہ سیاسی انتقام لینے سے پہلے ملک کی معیشت کو کسی حد تک خوشگوار اور عام شہریوں کے لئے قابل برداشت بنانا ضروری ہے۔ اگر عمران خان نے گزشتہ دس ماہ کے دوران ساری صلاحیتیں چوروں کو پکڑنے پر صرف کرنے اور لوٹی ہوئی دولت کا خواب دیکھنے کی بجائے معاشی احیا کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے پر صرف کی ہوتیں تو بھلے وہ چوروں کے ساتھ چند نیک ناموں کو بھی جیلوں میں بند کردیتے تو عام لوگوں کو اس پر کوئی پریشانی لاحق نہ ہوتی۔ لیکن جب گھر گھر مہنگائی اور وسائل میں کمی کی وجہ سے بے چینی اور مشکلات میں اضافہ ہورہا ہو تو لوگ یہی سمجھنے لگتے ہیں کہ حکومت سے کوئی غلطی ہورہی ہے۔ ایسے میں حامیوں کے دل بھی ہولنے لگتے ہیں خواہ سیاسی حمایت کرنے والے افراد ہوں یا سرپرستی کرنے والے ادارے۔
ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ سابقہ حکمرانوں کو چور لٹیرے قرار دے کر سرکاری عہدوں پر صرف ہونے والے مصارف وصول کرنے کی بات بھی اسی روز کی گئی ہے جس دن گورنر اسٹیٹ بنک رضا باقر نے ملک میں مہنگائی کی شرح گیارہ سے بارہ فیصد تک پہنچنے کی خبر دیتے ہوئے شرح سود میں اضافہ کا اعلان کیا ہے۔ عام لوگ بلاشبہ گورنر اسٹیٹ بنک کی باتوں یا مبصرین کی وضاحتوں میں شامل کی گئی اقتصادی باریکیوں کو سمجھنے سے قاصر ہوں گے لیکن جب افراط زر میں اضافہ عام شہری کے پہلے سے سکڑتے بجٹ پر بوجھ میں اضافہ کرے گا تو اسے اس بات کا کہاں ہوش رہے گا کہ آصف زرداری، ممنون حسین، نواز شریف اور شہباز شریف سے اربوں روپے وصول کرنے کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس سے تو ان کی مایوسی اور بے چینی میں اضافہ ہوگا۔
اپوزیشن اسی بے چینی کو استعمال کرنے کا انتظار کررہی ہے۔ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں اپوزیشن کی کانفرنس میں 25 جولائی کو احتجاج کرنے کا فیصلہ بھی اسی امید پر کیا گیا تھا کہ عوام کے موڈ کو دیکھ کر حکومت پر دباؤ بڑھانے اور نظام کی دیکھ بھال کرنے والوں کے سامنے اس کی کمزوریاں عیاں کرنے کے لئے احتجاج اور مظاہروں کا سلسلسہ شروع کیا جائے۔ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کے بعد اب مریم نواز نے بھی ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا ہے۔
اپنے ٹوئٹ پیغامات میں انہوں نے کہا ہے کہ ’انشاللہ میں ملک بھر میں جلسوں جلوسوں کی قیادت کروں گی۔ ان میں صرف نواز شریف کے لئے ہی انصاف نہیں مانگا جائے گا بلکہ قانون کی حکمرانی، آزادی اظہار اور عوام کے نمائیندوں کو سزا دینے کے لئے پورے نظام پراثر ڈالنے کے خلاف احتجاج ہو گا۔ عوام کا مینڈیٹ چرا کر‘ نامزد ’کو مسلط کیا جاتا ہے۔ ہر وہ پاکستانی اس احتجاج میں میرا ساتھ دے جو ایک آزاد جمہوری اور منصفانہ پاکستان میں رہنا چاہتا ہے‘ ۔
مریم نواز اس سلسلہ کی پہلی ریلی 21 جولائی کو فیصل آباد میں منعقد کریں گی۔ کیوں کہ سیاسی تبدیلی کے لئے انتخاب سے زیادہ سیاسی دباؤ کو اہم سمجھا جانے لگا ہے۔ یہ دباؤ الزامات کے علاوہ عوامی حمایت کے ذریعے ہی ڈالا جاسکتا ہے۔ اسی لئے اس دباؤ کا ذکر سپریم کورٹ میں بھی سننے میں آیا جہاں تین رکنی بنچ نے جج ارشد ملک کی ویڈیو کے حوالے سے تین مختلف درخواستوں پر سماعت کی۔ ججوں کے ریمارکس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہتے جو العزیزیہ مقدمہ کے فیصلہ پر اثر انداز ہو یا سپریم کورٹ کی طرف سے جج ارشد ملک کے بیان حلفی کی توثیق سمجھی جائے۔ اسی لئے اٹارنی جنرل سے رائے طلب کی گئی ہے اور عدالتی کمیشن کی تجویز پر غور کیا گیا ہے۔ عدالتی فیصلے کا یہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھے یہ واضح ہے کہ اس فیصلہ سے کوئی ڈرامائی تبدیلی واقع نہیں ہو گی۔
سپریم کورٹ کی طرف سے جمہوریت کی لڑائی میں دکھائی گئی اس ’لال جھنڈی‘ کے بعد اب سیاست دانوں کو یہ لڑائی خود ہی لڑنا ہے۔ لیکن یہ سوال ہنوز جواب طلب رہے گا کہ اپوزیشن کا احتجاج اور بلاول و مریم کی بے چینی جمہوریت کے لئے ہے یا ’اسٹیٹس کو‘ کو توڑنے کی کوشش کرنے والے عمران خان سے نجات حاصل کرنا مطلوب ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ چند ماہ کے دوران غیر جمہوری ہتھکنڈوں اور معاشی میدان میں نا اہلی کے مظاہرے سے خود ہی اپنے لئے گڑھا کھودا ہے۔ اپوزیشن حکومت کے خلاف جد و جہد کو جمہوریت اور آزادی رائے کی جنگ قرار دے رہی ہے۔
البتہ ان دو سوالوں کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے کہ کیا کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات کا سامنا کرنے والے لیڈر عوام کو اپنے ساتھ چلنے پر آمادہ کرسکیں گے؟ اور اس مقصد میں کامیابی کی صورت میں کیا ملک میں ایک نئے جمہوری دور کا آغاز ہوسکے گا؟ اپوزیشن کو اصولوں پر مشتمل کسی معاہدے کے ذریعے یہ یقین دلانا ہوگا کہ یہ جد و جہد کرپشن کو جائز قرار دینے کی کوشش نہیں ہے اور اس کا مقصد محض عمران خان سے نجات حاصل کرنا نہیں ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker