سید مجاہد علیکالملکھاری

کوئی آگے بڑھے یا پیچھے ہٹے، فتح افواج دنداں شکن کی ہو گی۔۔ سید مجاہد علی

پاکستان عالمی سطح پر کشمیر کے سوال پر بھارت کے خلاف رائے تیار کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بیجنگ کے دورہ کے دوران یہ یقین دہانی حاصل کی ہے کہ وہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے معاملہ پر پاکستان کی اعانت کرے گا۔ دوسری طرف امریکہ میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان کا کہنا ہے کہ ’امریکہ اس معاملہ میں مزید اقدامات کرسکتا ہے۔ اسے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ختم کروانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ وہ خاص طور سے بھارت میں سنجیدگی پیدا کرنے کے لئے کام کرسکتا ہے‘۔
ان کوششوں کے باوجود پاکستان کو ابھی تک بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے معاملہ پر کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی ہے۔ پاکستانی حکومت اس سوال پر غور کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ وہ اس مشکل سے کیسے نکل سکتی ہے۔ عمران خان عوامی مقبولیت اور فوج کی مکمل حمایت کی وجہ سے برسر اقتدار آئے ہیں۔ انہیں اس وقت بھی عسکری اداروں کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس وقت ملک کی خارجہ اور سیکورٹی پالیسیاں منتخب حکومت کے دائرہ کار میں نہیں ہیں۔


البتہ دعویٰ کرنے کی حد تک وزیر اعظم اور کابینہ ہی تمام فیصلے کرنے کے مجاز ہیں۔ حکومت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لئے آئینی ترمیم کے بعد پاکستان کا احتجاج رجسٹر کروانے اور مستقبل کی حکمت عملی تیار کرنے کے لئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ضرور بلوایا تھا لیکن بھارت کے خلاف کئے جانے والے سفارتی اور تجارتی اقدام کا اعلان قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ گویا یہ واضح کردیا گیا کہ منتخب نمائیندے کشمیر کے سوال پر تقریریں تو کرسکتے ہیں لیکن انہیں اس سے زیادہ اختیار نہیں دیا جا سکتا۔
ایک طرف پاکستان کو بھارت کی جارحیت اور کشمیر کی صورت حال کی شکل میں ایک سنگین چیلنج کا سامنا ہے تو دوسری طرف حکومت پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے یا قومی ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے کسی قسم کی لچک دکھانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ قومی احتساب بیورو نے اس دوران اپنی سرگرمیاں تیز کی ہیں۔ پہلے نیب نے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو ایل این جی ٹھیکوں کے معاملہ میں حراست میں لیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے مفتاح اسماعیل کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری یہ کہتے ہوئے مسترد کردی تھی کہ سپریم کورٹ نے ضمانت لینے کے بارے میں کڑی شرائط عائد کررکھی ہیں۔ تاہم دو رکنی بنچ میں شامل ججوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا تھا کہ کیا مستقبل میں مالی معاملات پر فیصلے کرتے ہوئے وزیر اعظم کی منظوری کی بجائے چئیرمین نیب سے استفسار کیا جائے تاکہ بعد میں کسی وزیر پر غلط فیصلے کرنے کا الزام عائد نہ کیا جاسکے۔ اس دوران یہ جائز سوال بھی سامنے آیا تھا کہ اگر سرکاری فرائض انجام دینے پر سابقہ حکومت کے وزیروں پر الزامات عائد کئے جارہے ہیں تو کیا چند برس بعد موجودہ حکومت ختم ہونے پر اس کے اہلکاروں کو بھی نیب گرفتار کرکے مقدمے چلائے گی؟
ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی کوئی کوشش دیکھنے میں نہیں آئی لیکن حکومت کے ’ سب کے ساتھ مساوی سلوک ‘ کے نام نہاد ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے نیب نے دو روز قبل مریم نواز کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ کوٹ لکھپت جیل میں اپنے والد میاں نواز شریف سے ملاقات کے لئے گئی ہوئی تھیں۔ اس گرفتاری پر پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعظم کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال کئے۔ لیکن حکومت یہ سوچنے پر آمادہ نہیں ہے کہ کرپشن کا قلع قمع کرنے کے ایجنڈے پر عمل کے نام پر ملک میں سیاسی فضا اس قدر کثیف کردی گئی ہے کہ حکومت کی نیک نیتی پر سوالیہ نشان کھڑا ہورہا ہے اور اظہار رائے کا متوازن طریقہ متروک ہوتا جارہا ہے۔


قومی احتساب بیورو کی خود مختاری اور اس کے چئیر مین کی اخلاقی برتری کا معاملہ پہلے ہی شبہ کا شکار ہوچکا ہے۔ حکومت اپنے طرز عمل اور وزرا اپنے متنوع اور اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے ہر آنے والے دن کے ساتھ یہ بات واضح کررہے ہیں کہ نیب کوئی خود مختار ادارہ نہیں ہے۔ اسے ملک میں سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے اور خاص پارٹیوں کی قیادت کو دباؤ میں لانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ عمران خان خواہ کسی بھی پلیٹ فارم پر کتنی ہی اونچی آواز میں چلا کر ’کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘ کا نعرہ بلند کریں ، اس سے صرف یہی تاثر قوی ہوتا ہے کہ حکومت کرپشن کے خاتمہ کے نام پر دراصل سیاسی بالادستی اور مخالف آوازوں کو دبانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔
اگر بدعنوانی سے پاک معاشرہ تشکیل دینا ہی مقصود ہو تو اس بات کا جائزہ لینے کی بھی کوشش کی جائے کہ معاشرہ میں عام لوگوں کے لئے کس حد تک سہولتیں پیدا کی گئی ہیں اور سرکاری بیورو کریسی میں رشوت ستانی کے چلن میں کتنی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے برعکس زیادہ محاصل اکٹھا کرنے کے لئے جو نئے قواعد و ضوابط روشناس کروائے جارہے ہیں ، وہ دراصل رشوت طلب کرنے کے نئے راستے کھولنے کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ جب بھی بیوروکریسی کے وسائل و سہولتوں میں کمی اور اختیارات میں اضافہ کیا جائے گا تو بدعنوانی کا راستہ ہموار ہوگا۔ یہی اس وقت پاکستان میں بھی ہو رہا ہے۔ اس صورت میں نئے پاکستان میں بدعنوانی ختم کرنے کا ایک ہی قابل فہم مقصد باقی رہ جاتا ہے کہ تمام سیاسی مخالفین کو کسی نہ کسی طرح جیلوں میں بند کیا جائے۔
یہ حکمت عملی صرف سیاسی مخالفین تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ میڈیا کی آوازیں بند کرنے کے لئے اسے معاشی دباؤ میں لانے کے نت نئے ہتھکنڈے اختیار کئے جاچکے ہیں۔ ملک بھر کے میڈیا ہاؤسز نے وسائل کی کمیابی کی وجہ سے صحافیوں کو بیروزگار کیا ہے۔ روزگار پر لگے ہوئے صحافی مالکان کی ہدایت کے مطابق کام کرنے پر مجبور ہیں۔ پیمرا کے ذریعے حکومت کی مرضی و منشا کے خلاف نشر ہونے والے ہر پروگرام کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نے جب دورہ امریکہ کے دوران پاکستان میں میڈیا کو مکمل طور سے آزاد قرار دیا تو صحافیوں کی متعددعالمی تنظیم نے اس دعوے کو مسترد کیا تھا۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے سیکرٹری جنرل کرسٹوفر ڈی لور نے عمران خان کے نام ایک خط میں لکھا تھا کہ ’ یہ واضح ہے کہ یا تو آپ کی معلومات ناقص ہیں۔ اس صورت میں آپ کو اپنے مشیر فوری طور سے تبدیل کرلینے چاہئیں۔ یا آپ جان بوجھ کر حقائق کوچھپا رہے ہیں۔ آپ جیسے ذمہ دار عہدے پر فائز شخص کا یہ رویہ سنگین معاملہ ہے‘۔
سیاست دانوں اور میڈیا کے علاوہ حکومت عدالتی نظام کو دباؤ میں لانے کی بھی ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بھجوانا انہیں کوششوں کا حصہ ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو غیر جانبدار اور خود مختار جج کی شہرت حاصل ہے جو جراتمندی سے فیصلے دینے کا امتیاز رکھتے ہیں۔ اب ان کے خلاف ریفرنس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے جو جواب جمع کروایا ہے اس میں عدالت عظمی ٰ کے جج پر ادارے کے خلاف اکسانے کا الزام بھی عائدکیا گیا ہے۔ اس طرح اس تاثر کو تقویت دے دی گئی ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی اصل وجہ فیض آباد دھرنا میں ان کا فیصلہ تھا جس میں انہوں نے وردی پوشوں کی طرف سے حلف کی خلاف ورزی پر کارروائی کا حکم دیا تھا۔
عمران خان کی حکومت ایک پیج پر ہونے کی حکمت عملی کو دراصل یہ تسلیم کرنے کے لئے عذر کے طور پر استعمال کرتی ہے کہ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ تمام اہم قومی فیصلے عسکری ادارے کریں۔ حکومت پوری تابعداری سے ان کو ماننے اور ان پر عمل کرنے پر آمادہ ہے۔ اس پالیسی کا یہ فائدہ تو ضرور ہے کہ فی الحال عمران خان کی کرسی پکی ہے۔ لیکن جمہوری عمل اور پارلیمنٹ کی فیصلہ ساز حیثیت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ ایک پیج کی حکمت عملی کا بنیادی اصول تو یہ ہونا چاہئے کہ منتخب حکومت کابینہ اور قومی اسمبلی کی رائے کے مطابق فیصلے کرے اور ادارے بلا چوں و چرا انہیں تسلیم کرلیں۔ لیکن گنگا الٹی بہاتے ہوئے تحریک انصاف کی حکومت کے نزدیک عسکری اداروں کی غیر مشروط بالادستی قبول کرنا ہی ایک پیج پر ہونا کہلاتا ہے۔ ملک کی سیاسی تاریخ سے البتہ یہ سبق سیکھا جاسکتا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے ساتھ اداروں کے ہنی مون کا پیریڈ دائمی نہیں ہوتا۔
آج عمران خان اور تحریک انصاف کے ذریعے نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کو جس مقام پر پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالات بدلنے پر یہی کام کچھ دوسرے لوگوں کی مدد سے تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف سرانجام دیاجائے گا۔ گویا ہارنے والا کوئی بھی ہو، فاتح فوج ہی ہوگی۔ لیکن اختیارات کو غلط ہاتھوں میں دینے اور اسے درست طریقہ سمجھنے کا نقصان ملک کے وسیع تر مفادات کو پہنچتا ہے۔
ملکی معیشت کے علاوہ سفارتی زبوں حالی انہی غلط کاریوں کی کہانی ہے۔ البتہ عمران خان سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے کے جوش میں اس فرق کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker