سید مجاہد علیکالملکھاری

بابری مسجد کیس: بھارتی سپریم کورٹ نے اکثریتی جبر مسلط کیا۔۔سید مجاہد علی

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس میں متنازعہ جگہ ہندوو¿ں کو دینے اور مسجد کی جگہ پر رام مندر بنانے کا حکم دیا ہے۔ حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر ایک ہندو ٹرسٹ مقرر کرے جو رام مندر کی تعمیر شروع کرے گا۔ مسلمانوں کی اشک شوئی کے لئے حکم دیا گیا ہے کہ انہیں مسجد کی تعمیر کے لئے مرکزی یا ریاستی حکومت پانچ ایکڑ اراضی فراہم کرے گی۔ یہ فیصلہ بھارت جیسے کثیر المذاہب و ثقافت ملک میں اکثریت کے جبر کو مسلط کرنے کا آئینہ دار ہے۔ اس طرح سیکولر بھارت کے تابوت میں کیل ٹھونکنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔



یہ فیصلہ بھارتی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے سنایا ہے جس کی سربراہی اگلے ہفتے ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کررہے تھے۔ بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبد النذیر شامل تھے۔ سپریم کورٹ نے 27 سالہ تنازعہ ختم کرنے کی کوشش کی ہے جو 1992 میں بابری مسجد مسمار کرنے کے افسوسناک سانحہ سے شروع ہو¿ا تھا۔ ہندو انتہا پسند جتھوں نے 460 برس قبل تعمیر کی گئی بابری مسجد پر دھاوا بول کر اسے مسمار کردیا تھا۔ اس اشتعال انگیز کارروائی کے بعد بھارتی تاریخ کے بدترین ہندو مسلم فسادات ہوئے تھے جن میں دو ہزار کے لگ بھگ مسلمانوں کو شہید کیا گیا تھا۔ حکومت نے بابری مسجد پر حملہ کرنے اور اشتعال پر اکسانے کے الزام میں درجنوں افراد کے خلاف مقدمے قائم کئے لیکن ان میں سے کسی کو بھی کسی عدالت سے سزا نہیں ملی۔



الہ آباد ہائی کورٹ نے دس برس قبل بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پونے تین ایکڑ پر مبنی اس متنازعہ اراضی کو تین حصوں میں بانٹنے کا حکم دیا تھا جن میں ایک حصہ مسلمانوں کو اور دو حصے دو مختلف ہندو گروہوں کو دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ تاہم مسلمانوں اور ہندوو¿ں نے یکساں طور سے اس فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے ان سب اپیلوں پر سماعت مکمل کرتے ہوئے گزشتہ ماہ فیصلہ محفوظ کیا تھا جس کا آج اعلان کیا گیا ہے۔ فیصلہ میں سپریم کورٹ نے ہندوو¿ں کے حق میں فیصلہ دے کر بظاہر زمینی حقائق سے سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسے صرف بھارت کی انتہا پسند ہندو حکومت اور مذہبی رہنما ہی غیر جانبدارانہ یا حقائق پر مبنی فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ مسلمانوں نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلہ کو قبول کرنے کا اعلان ضرور کیا ہے لیکن ان کے رہنما فیصلہ کے نتیجہ سے متفق نہیں ہیں۔



اس معاملہ میں بھارتی مسلمانوں کی طرف سے مدعی سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے کہا ہے کہ ’ہم مسجد کسی کو نہیں دے سکتے، یہ ہماری شریعت میں نہیں ہے لیکن عدالت کا فیصلہ مانیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم تفصیلی فیصلہ پڑھنے اور مشورہ کے بعد نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ بھارت کی مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے حقائق کے بجائے عقیدے کی جیت کہاہے۔ انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور میرا یہ ماننا ہے کہ ہم اس سے مطمئن نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ سپریم ضرور ہے لیکن ایسا نہیں کہ اس سے غلطی نہیں ہو سکتی۔ اسد الدین اویسی نے کہا کہ ’جنہوں نے چھ دسمبر کو بابری مسجد گرائی تھی آج انہی کو سپریم کورٹ کہہ رہی ہے کہ ٹرسٹ بنا کر مندر کا کام شروع کیجئے۔ میں پوچھتا ہوں کہ اگر مسجد گرائی نہ گئی ہوتی تو کورٹ کیا فیصلہ دیتی؟‘
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی 17 نومبر کو اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے یہ فیصلہ سنانا چاہتے تھے۔ گزشتہ ماہ کے دوران اس مقدمہ کی آخری سماعت پر انہوں نے سپریم کورٹ ہی کی قائم کردہ ثالثی کمیٹی کو مزید وقت دینے سے انکار کردیا تھا۔ اس موقع پر ایک ہندو فریق نے دلائل دینے کے لئے مزید مہلت بھی مانگی تھی لیکن چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اب مزید وقت نہیں دیا جاسکتا۔ فریقین کو 16 اکتوبر کو آخری سماعت پر دلائل مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے بتا دیا گیا تھا کی نومبر میں چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے پہلے اس مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ اس طرح چیف جسٹس نے بالواسطہ ہی سہی اس مقدمہ میں ذاتی دلچسپی کا اظہار کیا اور یہ کوشش کی کہ وہ خود ہی اس اہم مقدمہ کا حتمی فیصلہ سنائیں۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے دل میں یہ خیال ہو کہ اس طویل تنازعہ کو اب ختم ہونا چاہئے لیکن جس نوعیت کا یک طرفہ فیصلہ سامنے آیا ہے ، اس سے یہ قیاس کرنا دشوار نہیں کہ وہ کیوں اس مقدمہ کو اپنی ہی نگرانی میں انجام تک پہنچانے کی عجلت میں تھے۔



موجودہ چیف جسٹس کی سربراہی میں بھارتی سپریم کورٹ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاسی ترجیحات کی طرف جھکاو¿ کا کھلم کھلا مظاہرہ کیا ہے۔ بی جے پی کے متعدد لیڈر بابری مسجد گرانے والے ہجوم کو ایودھیا جمع کرنے والوں میں شامل تھے۔ نریندر مودی کی سربراہی میں بی جے پی کی حکومت متعدد بار بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر تعمیر کرنے کا قصد ظاہر کرچکی ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ بی جے پی اور نریندر مودی کی خواہشات اور توقعات کے عین مطابق ہے۔ اس فیصلہ کا اعلان کرنے کی ٹائمنگ سے بھی اس کی سیاسی نوعیت واضح ہوتی ہے۔
بابری مسجد کیس کا فیصلہ اسی دن سنانے کا اعلان کیا گیا جبکہ برصغیر کے مسلمان جشن عید میلاد النبیﷺ منانے میں مصروف تھے۔ اس کے علاوہ بابا گرو نانک کے 550 ویں یوم پیدائش کے موقع پر پاکستان نے کرتار پور راہداری کا باقاعدہ افتتاح کیاہے۔ اس راہداری کے ذریعے بھارت اور دنیا بھر کے سکھ گوردوارہ کرتار پور صاحب کی زیارت کے لئے کسی ویزا کے بغیر پاکستان کی سرحد میں واقع کرتار پور میں بابا صاحب کی سمادھی کا دیدار کرنے کے لئے آسکیں گے۔ بابا گرونانک صاحب نے اپنی زندگی کے آخری برس اس مقام پر گزارے تھے اور ان کی سمادھی بھی اسی گوردوارہ میں ہے۔ اس لحاظ سے سکھ عقیدہ رکھنے والوں کے لئے یہ مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے گوردوارہ صاحب کرتارپور کو سکھوں کا ’مدینہ‘ قرار دیتے ہوئے اس کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔



نریندرمودی حکومت کرتاپو ر راہداری کے منصوبہ میں نیم دلی کے ساتھ شریک ہوئی تھی کیوں کہ وہ سکھ اقلیت کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتی تھی۔ تاہم بھارتی حکومت پاکستان کے اس سفارتی منصوبہ کو اپنی پاکستان دشمن سفارتی حکمت عملی کے لئے خطرہ سمجھتی رہی ہے۔ اس سال 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور وہاں کے عوام پر سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کے خلاف شدید احتجاج کے باوجود پاکستان نے کرتار پور راہداری منصوبہ کو معطل یا مو¿خر نہیں کیا تھا۔ اس کی ایک وجہ سکھوں کو سہولت فراہم کرنا تھی لیکن اس طرح پاکستانی حکومت بھارت کو مفاہمت اور بات چیت کے ذریعے تمام مسائل حل کرنے کا پیغام بھی دینا چاہتی تھی۔ وزیر اعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا افتتاح کرتے ہوئے بھی اسی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی حکومت پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کو عالمی سطح پر اپنی سفارتی طریقوں اور ملک میں سیاسی مو¿قف کے لئے خطرہ سمجھتی رہی ہے۔ اسی لئے نئی دہلی کی طرف سے اس منصوبہ کی اہمیت کو کم کرکے پیش کرنے کی کوشش رہی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے عین اسی روز بابری مسجد کیس جیسے اہم معاملہ کا فیصلہ سنا کر دراصل کرتار پور راہداری کے افتتاح کی خبر کو پس منظر میں دھکیلنے کی شعوری کوشش کی ہے۔
سپریم کورٹ اور چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے بابری مسجد کیس میں تو عجلت کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اس کے برعکس مقبوضہ کشمیر میں تین ماہ سے جاری وفاقی حکومت کے جبر، انسانی حقوق کی پامالی، ناجائز گرفتاریوں یا غیر اخلاقی اور غیر قانونی طریقے سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے معاملہ میں اتنے ہی صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا گیا۔ حکومت کو بدستور مہلت دینے اور معاملات کو معطل رکھنے کی کوشش کی گئی۔ حالانکہ ایک صدارتی حکم کے ذریعے آئین کی شق 370 ختم کرنے کے معاملہ پر فوری توجہ دینے کی ضرورت تھی۔ عدالت عظمیٰ کو واضح کرنا چاہئے کہ کیا مودی حکومت متعلقہ شق میں عائد شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور کشمیری عوام اور وہاں کی اسمبلی کی رائے لئے بغیر ان کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اختیار رکھتی تھی؟ تاہم سپریم کورٹ کو بظاہر اس معاملہ پر کوئی جلدی نہیں ہے لیکن اسے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنانے کی بہت جلدی تھی۔ نہ صرف ایک مسجد کی جگہ ہندوو¿ں کو دینے کا حکم دیا گیا بلکہ حکومت کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر اس منصوبہ پر عمل درآمد شروع کرے۔
چیف جسٹس گوگوئی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے ’عقیدے پر نہیں بلکہ حقائق‘ پر استوار ہوتے ہیں۔ اس لئے عقیدہ کی بنیاد پر کسی جگہ پر کسی کا دعویٰ قبول نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اصول بیان کرنے کے بعد جو فیصلہ سنایا گیا ہے وہ اسی اصول کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ یعنی ہندوو¿ں کے عقیدہ کی وجہ سے ایک ایسی جگہ انہیں دینے کا حکم دیا گیا ہے جس پر 460 سال سے ایک مسجد تعمیر تھی اور مسلمان وہاں عبادت کرتے رہے تھے۔ یہ فیصلہ کرتے ہوئے بھارت کے محکمہ آثار قدیمہ کی ایک رپورٹ کو بنیاد بنایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جس جگہ پر بابری مسجد تعمیر تھی ، وہاں اس سے پہلے بھی کسی عمارت کے نشان ملے ہیں۔ لیکن اس رپورٹ میں بھی یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ اس جگہ پر پہلے مندر تھا جیسا کہ ہندو تنظیمیں دعویٰ کرتی ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ نے فیصلہ صادر کرتے ہوئے رپورٹ کی بنیاد پر یہ تصور کرلینا مناسب خیال کیا کہ وہاں پہلے مندر ہی ہوگا۔



محکمہ آثار قدیمہ بھارتی حکومت کے زیر نگرانی کام کرتا ہے۔ بھارتی حکومت بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کے حوالے سے واضح مو¿قف رکھتی ہے۔ ایسی حکومت کی زیر نگرانی کوئی محکمہ حکومت کی مرضی و منشا کے برعکس کوئی رپورٹ تیار نہیں کرسکتا۔ غیر جانبدار عالمی ماہرین یہ واضح کرچکے ہیں کہ بھارت کے محکمہ آثار قدیمہ نے پہلے ہی یہ طے کرلیا تھا کہ ان تحقیقات سے کیا نتیجہ اخذ کرنا ہے۔ اس کے بعد رپورٹ تیار کی گئی تھی۔ اس طرح اس کی غیر جانبداری اور ماہرانہ آزادی مشکوک ہوجاتی ہے۔
بابری مسجد آج سے تقریباً پانچ صدی پہلے 1528 میں تعمیر کی گئی تھی۔ صدیوں تک ایک جگہ پر ایک عقیدہ کے لوگوں کی عبادت گاہ موجود رہنے کے بعد اسے مشکوک اور جانبدارانہ دعوو¿ں کی بنیاد پر مسمار کردینا ایک مجرمانہ فعل تھا۔ سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلہ میں 1992 میں کئے گئے حملہ کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ لیکن عدالت نے خود بھی مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کیا ہے جو 27 برس پہلے ہندو بلوائیوں نے کیا تھا۔ اسی لئے لندن کی ویسٹ منسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر دبیش آنند نے سوال کیا ہے کہ ’سپریم کورٹ نے بابری مسجد مسمار کرنے کو غیر قانونی کہا ہے۔ تو کیا عدالت نے حکومت کو مسجد کی تباہی میں براہ راست یا بالواسطہ طور سے ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا ہے؟ یا وہ بزدل جانتے ہیں کہ تمام مجرمان اب حکومت میں شامل ہیں۔ توکیا اب اس فیصلہ کومجرم کے بغیر جرم کے طور پر دیکھا جائے ؟‘
بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ صرف ایک جرم کی تائد کرنے کا سبب بنی ہے بلکہ اس نے مجرموں کے فعل کو عدالتی حکم بنا کر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی غیر جانبداری اور پیشہ وارانہ اصابت کو داو¿ پر لگایا ہے۔ یہ فیصلہ بھارت کے سیکولر نظام پر ایک کاری ضرب ہے۔ ملک میں آباد مذہبی اقلیتیں اب خود کو مزید غیر محفوظ اور مجبور سمجھیں گی۔
(بشکریہ:کاروان ۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker